وقت رخصت آ پہنچا ۔ باپ اور بیٹی دونوں اس فیصلے پر پہنچ چکے کہ دیار غیر سے اپنے وطن کی راہ لینی ہے ۔ فیصلہ آسان نہ تھا اس لئے کہ شوہر اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا کہ اس کی شریک سفر موت اور زیست کی کشمکش میں مبتلا ہے اور بیٹی آنسووں سے لبریز آنکھوں سے بستر پر بے سدھ پڑی اپنی جنت کو دیکھ رہی تھی۔ دونوں کو معلوم تھا کہ سفر کے اختتام پر منزل اڈیالہ جیل ہے مگر اس کے باوجود فیصلہ یہی ٹھہرا کہ واپسی لازم ہے ۔ سمجھانے والوں نے بہت سمجھایا ۔ بجا کہ آپ کا مقصد بہت ارفع ہے پہلی بار کوئی قیادت سول بالادستی کا علم بلند کر رہی ہے مگر اسی سول بالادستی اور آمریت کے خلاف جہاد کرنے والی ایک مجاہدہ اس وقت ہوش و حواس سے بے گانہ ہے اسے اشد ضرورت ہے اپنے شوہر اور اپنی لاڈلی بیٹی کی ۔ تمام دلائل رد کر دیئے جاتے ہیں جواب ایک ہی ملتا ہے ہونا وہی ہے جو اللہ کو منظور ہو گا مگر جس ملک اور قوم نے نام دیا مقام دیا اب اس کو لوٹانے کا وقت ہے پیچھے نہیں ہٹا جا سکتا ۔ دونوں باپ بیٹی روہانسی آنکھوں سے رخصت ہوا چاہتے ہیں کہ نواز شریف ایک بار پھر پلٹ کر کلثوم نواز کے پاس آ کر جھک جاتے ہیں اور پھر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے آواز نکلتی ہے ۔ کلثوم آنکھیں کھولو، باو جی۔ کلثوم آنکھیں کھولو، باو جی۔
رستم زماں گاما پہلوان کی نواسی، ڈاکٹر حفیظ بٹ کی بیٹی کلثوم بٹ جب میاں محمد شریف کی بہو بنی اور میاں محمد نواز شریف کی زوجیت میں آتی ہے تو وہ کلثوم بٹ سے کلثوم نواز بن جاتی ہے ۔لندن کے ہارلے اسٹریٹ کلینک میں تقریبا 13 ماہ کینسر جیسے موذی مرض سے جنگ میں مصروف کلثوم نواز بالآخر زندگی کی بازی ہار گئیں ۔ یوں ایک بیٹی ایک بہو ایک بیوی اور ایک ماں اپنے بہت سے چاہنے والوں کو سوگوار چھوڑ کر اس فانی دنیا سے رخصت ہو گی۔ اس دائمی رخصت سے پہلے اس نے وینٹی لیٹر سے چھٹکارا حاصل کیا اور اپنے باو جی کی فرمائش پوری کرتے ہوئے آنکھیں بھی کھول دیں مگر اس کی ادھر ادھر تلاش کرتی آنکھوں کو نہ تو باو جی نظر آئے اور نہ ہی مریم نواز ۔ نظر آتے بھی تو کیسے کہ وہ دونوں تو اب باسی تھے اڈیالہ جیل کے ۔ یوں پانچ بار احتساب عدالت میں پیشی سے استثنی کی درخواستیں مسترد ہونے کے سبب ایک شوہر اپنی بیوی اور ایک بیٹی اپنی ماں سے آخری بار بات چیت سے محروم رہ گئے جس کا افسوس انہیں تازندگی رہے گا مگر انہوں نے اپنے معاملات اللہ کے سپرد کر دئیے ۔
اس سانحے پر وزیر اعظم عمران خان نے نہ صرف سوگوار خاندان کے ساتھ دکھ اور ہمدردی کا اظہار کیا بلکہ نواز شریف ، مریم نواز شریف اور کیپٹن صفدر کو پیرول پر رہا کرتے ہوئے کلثوم نواز کی آخری رسومات میں شرکت کا موقع فراہم کر کے جس بردباری کا ثبوت دیا وہ لائق تحسین ہے اور ان سے اسی کی توقع بھی تھی کہ دوبار وزیر اعلی پنجاب اور تین بار وزیر اعظم پاکستان رہنے والے نواز شریف اسی سلوک کے حقدار تھے ۔
11 ستمبر بابائے قوم کے یوم وفات پر بیگم کلثوم نواز نے تو اپنی آنکھیں ہمیشہ کے لئے بند کر لیں مگر نواز شریف کے بہت سارے سیاسی مخالفین کی آنکھیں کھول گئیں وہ سیاسی مخالفین جنہوں نے کلثوم نواز کی بیماری کو بھی سیاست کی بھینٹ چڑھانے میں کوئی کثر نہ چھوڑی اور ایسی ایسی بے پر کی اڑائیں کہ دہراتے ہوئے خوف آتا ہے ان میں سے کچھ کو تو رب کائنات نے توفیق عطا فرمائی اور انہوں نے اپنے کہے ہوئے الفاظ پر نہ صرف شرمندگی کا اظہار کیا بلکہ بڑے پن کا ثبوت دیتے ہوئے معافی بھی مانگ لی مگر کئی ایسے بد نصیب بھی ہیں جنہیں اللہ رب العزت نے معافی اور شرمندگی کی توفیق نہیں دی اور یوں وہ ہٹ دھرم تاحال اپنی بے ڈھنگی چال پر رواں ہیں ۔ ہدایت سے عاری یہ افراد جب تک ہدایت کے طلبگار نہیں ہوں گے ہداہت پائیں گے کیسے ؟۔
کلثوم نواز تو چلی گئیں مگر اپنی آنکھیں بند کر کے ہمیں یہ پیغام دے گئیں کہ اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنی آنکھیں کھول لیں ۔ سیاست کو سیاسی میدان تک محدود رکھیں اور سیاسی مخالفت کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کرنے سے اجتناب برتیں ۔ بولنے سے پہلے تولنے کی عادت اپنائیں ۔ زبان کے چسکے اور ہجوم کی واہ واہ سمیٹنے کے چکر میں ماوں، بہنوں اور بیٹیوں کے ذکر، مخالفین کے گھریلو معاملات پر ٹاک شوز، پریس کانفرنسوں اور جلسوں میں بات کرنے سے کبھی بھی کوئی بڑا لیڈر نہیں بن سکتا وقتی طور پر تالیاں بجانے والے بھی جب ٹھنڈے دل سے غور و فکر کرتے ہیں تو وہ ایسے افراد پر سوائے لعن طعن کے اور کچھ نہیں کر پاتے ۔ رہنما کا کام رہنمائی کرنا ہوتا ہے خدارا اپنی آنے والی نسل کو اپنے مخالفین کا اس حد تک مخالف نہ بنا دیں کہ وہ چادر اور چاردیواری کی تمام حدیں پھلانگ جائیں سیاست میں وقت بدلتے دیر نہیں لگتی آج جو ایک کے حامی ہے کل وہ اس کی مخالف صف میں کھڑے دکھائی دے سکتے ہیں اس لئے آج ہمارے پاس موقع ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اور قائدین اس حوالے سے مل بیٹھ کر کوئی مشترکہ لائحہ عمل مرتب کریں اور اس پر عمل پیرا ہوں ۔ اس سے پہلے کہ ہمیں بہت کچھ ایسا سننا اور دیکھنا پڑے جو ہم نہیں سننا اور دیکھنا چاہتے خدارا آنکھیں کھولو ۔۔۔!













