رپوا, ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کے مسائل: حل ہونے کا نام ہی نہیں لیتے,نوید چوہان

0
78

ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کے مسائل: حل ہونے کا نام ہی نہیں لیتے

نوید چوہان

رپوا

ریڈیو پاکستان صرف ایک ادارہ نہیں، پاکستان کی تاریخ، تہذیب اور قومی نشریاتی ورثے کا ایک اہم باب ہے۔ اس ادارے سے وابستہ لوگوں نے اپنی زندگیاں قوم کو خبریں، معلومات، تعلیم اور تفریح فراہم کرنے میں گزار دیں۔ آج ان میں سے بہت سے لوگ اپنی عمر کے آخری حصے میں ہیں، مگر افسوس کہ ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کے بہت سے مسائل اب بھی حل ہونے کا نام نہیں لیتے۔

پنشن کسی سرکاری ملازم پر احسان نہیں بلکہ اس کی پوری ملازمت کے عوض اس کا حق ہے۔ جس شخص نے اپنی جوانی کسی قومی ادارے کے نام کردی، ریٹائرمنٹ کے بعد کم از کم یہ توقع ضرور رکھتا ہے کہ اس کی پنشن بروقت ملے گی اور اس کے جائز مالی معاملات غیر ضروری دفتری پیچیدگیوں کا شکار نہیں ہوں گے۔

یہ سوال صرف چند افراد کا نہیں۔ ریڈیو پاکستان کے وہ تمام سابق ملازمین اس مسئلے سے متاثر ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے قیمتی سال قومی نشریاتی ادارے کی خدمت میں گزارے۔ ان میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے ریڈیو کی آواز کو ملک کے دور دراز علاقوں تک پہنچایا، خبریں پڑھیں، پروگرام کیے، تکنیکی ذمہ داریاں نبھائیں اور پاکستان کی نشریاتی تاریخ میں اپنا کردار ادا کیا۔

یہاں ایک مثبت پیش رفت کا ذکر بھی ضروری ہے۔ لائف سرٹیفکیٹ کے سلسلے میں بیرونِ ملک مقیم پنشنرز کی ایک بڑی مشکل اب تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ نادرا کے ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے موبائل فون پر شناخت کی تصدیق کرتے ہوئے لائف سرٹیفکیٹ کا عمل مکمل کیا جا سکتا ہے، جسے متعلقہ اداروں کے لیے قابلِ قبول بنایا گیا ہے۔ اس سہولت کے بعد بیرونِ ملک مقیم پاکستانی پنشنرز کو صرف لائف سرٹیفکیٹ کے لیے سفارت خانے یا قونصل خانے جانے کی ضرورت نہیں رہی۔ اسی طرح ملک کے اندر موجود پنشنرز بھی موبائل کے ذریعے اپنی شناخت کی تصدیق کر کے یہ عمل مکمل کر سکتے ہیں اور انہیں ہر بار نادرا کے دفتر جانے کی زحمت نہیں اٹھانا پڑتی۔

یہ یقیناً ایک خوش آئند مثال ہے کہ اگر ٹیکنالوجی کو درست انداز میں استعمال کیا جائے تو بزرگ پنشنرز کی مشکلات کم کی جا سکتی ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پنشن سے متعلق دوسرے مسائل کے حل کے لیے بھی اسی طرح آسان، شفاف اور ڈیجیٹل طریقہ اختیار کیا جائے۔

سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جن پنشنرز کے دوسرے مالی معاملات، بقایاجات، پنشن کے حساب یا دیگر جائز واجبات زیرِ التوا ہیں، انہیں کب تک حل کیا جائے گا؟ عمر رسیدہ افراد کے لیے ہر مسئلے کے سلسلے میں مختلف دفاتر کے چکر لگانا آسان نہیں۔

ریڈیو پاکستان اور متعلقہ حکام کو چاہیے کہ پنشنرز کے مسائل کے لیے ایک مخصوص، بااختیار اور جواب دہ پنشن سیل قائم کیا جائے جہاں ہر شکایت کا باقاعدہ ریکارڈ ہو، اس کا ٹریکنگ نمبر دیا جائے اور مقررہ مدت کے اندر جواب فراہم کیا جائے۔

اس کے ساتھ ساتھ پنشن سے متعلق زیرِ التوا معاملات کی باقاعدہ تفصیل بھی سامنے آنی چاہیے۔ کتنے پنشن کیسز زیرِ التوا ہیں؟ کتنے افراد کے بقایاجات باقی ہیں؟ کن معاملات میں محکمانہ کارروائی درکار ہے؟ اور ان معاملات کو کب تک حل کیا جائے گا؟ ان سوالات کے واضح جوابات پنشنرز کا حق ہیں۔

ریڈیو پاکستان کے سابق ملازمین نے اپنی آواز سے پاکستان کی آواز کو دنیا تک پہنچایا۔ آج ان میں سے بہت سے بزرگ اگر اپنے جائز حقوق کے لیے اپنی آواز بلند کرنے پر مجبور ہیں تو یہ ایک لمحۂ فکریہ ضرور ہے۔

نادرا کے ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ نظام نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پرانے اور مشکل طریقۂ کار کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے آسان بنایا جا سکتا ہے۔ اب یہی سوچ پنشن کے دوسرے معاملات میں بھی اپنانے کی ضرورت ہے۔

حکومت، وزارتِ اطلاعات و نشریات اور ریڈیو پاکستان کی انتظامیہ کو چاہیے کہ پنشنرز کے مسائل کو محض دفتری فائلیں نہ سمجھیں بلکہ انہیں ان لوگوں کا حق سمجھیں جنہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ پاکستان کی خدمت میں گزارا ہے۔

پنشنرز کو یقین دہانی نہیں، اپنے حقوق کا بروقت حصول چاہیے۔

اور ریڈیو پاکستان کے ان بزرگ کارکنوں کا سوال آج بھی جواب طلب ہے:

ہم نے پاکستان کی آواز کو برسوں زندہ رکھا، اب ہماری آواز کون سنے گا؟

نوید چوہان

SHARE

LEAVE A REPLY