میرا زمانہ میری کہانی کی مصنفہ ماہ پارہ صفدر سے ملاقات۔ شاہین اشرف علی

0
1506

پندرہ نومبر کو پاکستان کے ادبی ثقافتی شہر لاہور میں جنم لینے والی خوبصورت لب و لہجے والی معروف ہمہ جہت شخصیت ماہ پارہ صفدر کا تعلق انتہائی تعلیم یافتہ ادب نواز گھرانے سے ہے، انکی والدہ شمس الزہرا زیدی پائے کی سوز خوان تھیں اور والد مرحوم سید حسن عباس اعلی درجے کے شاعر تھے جنہوں نے غزل کے علاوہ نوحہ، منقبت،سوز ،سلام ،مرثیہ میں طبع آزمائی کی

ماہ پارہ خود بھی نوحہ خوانی اور سوز خوانی کرتی ہیں ۔ سرگودھا میں اسکول کے زمانے میں اور پھر کالج میں ادبی اور ڈرامائی سرگرمیوں میں حٰصہ لیتی تھیں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے انگلش کیا اور لندن میں ماسٹر آف ویمن سٹڈی۔ نشریات کی ابتدا ریڈیو پاکستان سے کی اور پھر پاکستان ٹیلی ویژن سے خبریں پڑھ کر شہرت پائی اور اسکے بعد بی بی سی لندن سے منسلک رہیں اور لندن میں ہی مقیم ہو گئیں

ماہ پارہ کے شوہر معروف شاعر ادیب اور صحافی ہمارے بہت اچھے دوستوں میں شامل ہیں ۔ ماہ پارہ کو پی ٹی وی سے خبریں پڑھتا دیکھ کر ہمیشہ میرا دل ان سے ملاقات کی خواہش کرتاتھا ،ماہ پارہ خبروں کے حوالے سے ملک گیر سطح پر معروف تھیںانکا شمار پاکستا ن ٹی وی کی مایہ ناز،نیوز کاَسٹر میں ہوتا ہےچند ھفتوں سے لاہور کے ادبی حلقوں میں ماہ پارہ صفدر کی خودنوشت میرا زمانہ میری کہانی کا مسلسل ذکر ہورہا تھا

کبھی کبھی خواب تعبیر کی خوبصورت شکل میں پاکر دل خوشی سے پاگل ہوجاتا ہےلاہور کے کتاب میلے میںبک کارنر کے پر رونقاسٹال پر ماہ پارہ کی خودنوشت دیکھی اور انکوروبرو پایا تو بہت اچھا لگا اور پھر الحمرا لاہور میں انکی کتاب کی تقریب رونمائی میں شرکت کی۔ لیکن ابھی ان سے تفصیلی ملاقات باقی ہے

شاہین اشرف علی

SHARE

LEAVE A REPLY