بیدار ماں کا ملک و ملت کے روح سے تعلق

0
717

مشہور ہے کہ فیلسوف کی والدہ ہمیشہ پاکیزگی اور طہارت میں ہی انہیں دودھ پلاتیں ۔ ۔ ۔ اگر دیر رات کا وقت ہوتا اور فیلسوف بھوک کی شدت سے روتا تو وہ رونے دیتیں ۔ ۔ ۔ دودھ نہ پلاتیں ۔ ۔ ۔ یہاں تک کہ پاکیزگی اختیار نہ کر لیتیں ۔ ۔ ۔ فیڈینگ کرتے ہوئے وہ پہلے تو کلامِ خدا کی تلاوت کیا کرتیں ۔ ۔ ۔ اور اس کے بعد فیلسوف جو کہ شیر خوار تھا اور کچھ نہ سمجھ سکتا تھا ۔ ۔ ۔ اُس سے باتیں کرتیں ۔ ۔ ۔ اور پھر خدا کی عظمت کی طرف نگاہ کر کے کہتیں کہ ۔ ۔ ۔
اے عالمین کے پالنے والے ! گواہ رہنا کہ میں نے تیری امانت کو حلال دودھ پلایا کر شریف گود میں اس کی پرورش کی ہے ۔ ۔ ۔
پھر فیلسوف کے ہونٹوں کو چومتیں ۔ ۔ ۔ اور اُس سے باتیں کرتیں ۔ ۔ ۔
اے میرے دل کے میوے ! اگر تیرا یہ جسم ۔ ۔ ۔ جو کہ تیرا نہیں ہے ۔ ۔ ۔ بلکہ کسی اور کی ملکیت اور تیرے اختیار میں تیرے پاس امانت ہے ۔ ۔ ۔
اگر تو نے یہ جسم تیرے بنانے والے کی راہ میں ۔ ۔ ۔ پارہ پارہ نہ کیا ۔ ۔ ۔ اور تیرا سر زبح ہو کر میری گود کیلئے نہ بھیجا گیا ۔ ۔ ۔ تو میرا دودھ تجھ پہ حرام ہے ۔ ۔ ۔
کہ میں تیرے خون سے اپنے رُخسار رنگین کر کے بارگاہِ ایزدی میں جاؤں گی اور کہوں گی ۔ ۔ ۔ کہ دیکھ میں نے تجھ سے کیا ہوا عہد نبھایا اور تیری امانت کی بھرپور حفاظت کی اور اپنی ذمہ داری سے غفلت نہ کی ۔ ۔ ۔ اور تجھے لبیک کہنے کا حق ادا کیا ۔ ۔ ۔
اور پھر وہ عظیم جملہ اپنے پیرائے میں ڈھال کر کہتیں کہ ۔ ۔ ۔
میں نے اپنے دودھ میں تجھے شرافت و شہادت پلائی ہے ۔ ۔ ۔ کہ یہ تیرا ورثہ ہے ۔ ۔ ۔
واضح رہے کہ فیلسوف کی والدہ پاکستانی نہیں تھیں نہ ہی ان کا زیادہ وقت پاکستان میں گزرا تھا ۔ ۔ ۔
اس گفتگو اور اس انداز میں دودھ پلانے کے متعلق جب فیلسوف کے والد سے استفسار کیا جاتا ۔ ۔ ۔ تو وہ کہتے کہ ۔ ۔ ۔
چونکہ مادرِ فیلسوف کا تعلق ایسے ملک سے ہے ۔ ۔ ۔ جو دشمنانِ خدا کے بھرپور ظلم و ستم و جفا کاری اور وحشیانہ کاروائیوں کی زد میں تھا ۔ ۔ ۔ جبکہ عالمِ اسلام خاموش تھا ۔ ۔ ۔ اس لیے وہاں رواج بن گیا کہ مائیں نوجوان ہونے پر اپنے بچوں کو جنگ پر بھیجنے کیلئے یوں تیار کر کے بھیجتی جیسے ان کی شادی کروا رہی ہوں ۔ ۔ ۔
فیلسوف کی مادرِ گرامی نے اپنے شوہر کے پاکستانی ہونے کے باعث پاکستان کے بہت سے علمی سفر کیے تھے ۔ ۔ ۔ اور پاکستان کی طرف انتہائی حد تک مائل ہوئیں ۔ ۔ ۔ بعد از ان سفروں کے انہوں نے پاکستان کے متعلق دقیق اور گہرائی میں مطالعہ کیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا ۔ ۔ ۔ کہ عالمِ اسلام کے مردہ جسم میں پاکستان آب حیات بن کر روح پھونکنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ ۔ ۔ اور یہ بات مرحلہ وار ثابت بھی ہوتی رہی ۔ ۔ ۔ اسی لیے وہ فیلسوف کی تربیت اس طریق پر کرنا چاہتیں تھیں ۔ ۔ ۔ کہ اس کی تمام صلاحیتیں پاکستان کیلئے صرف ہوں ۔ ۔ ۔ جو اسلام کی نجات و رہبری کی ضمانت بن سکتا ہے ۔ ۔ ۔ اور ان کا کہنا تھا کہ بچے کی اس طریق پر تربیت کرنا ہی عورت
کی اولین ذمہ داریوں میں سے ہے ۔ ۔ ۔

جسٹن سنو ۔ ۔ ۔
انتخاب ۔فائزہ عباس

SHARE

LEAVE A REPLY