کتابوں کی خوشبو طارق محمود مرزا۔ سڈنی

0
958

چند ہفتے قبل میرا موبائل گنگنایا ۔میں نے اس پر لکھا فون نمبر دیکھاتو یہ میرے احباب کی فہرست میں سے نہیں تھا ۔میں نے فون آن کرکے ہیلو کہا تو دوسری طرف سے شستہ اُردو میں پوچھا گیا “کیا آپ طارق مرزا بول رہے ہیں ؟ ،،
“جی !میرا نام طارق مرزا ہے،،
آپ کا تعلق اُردو انٹرنیشنل سے ہے جو ادبی تقریبات منعقد کرتے ہیں،،
جی ہاں!آپ اپنا تعارف کروائیں گے،،
میرا نام ڈاکٹر نعمان ہے اور میں بھی سڈنی میں رہتا ہوں،،
جی نعمان صاحب !میں آپ کی کیاخدمت کرسکتاہوں،،
تھوڑے سے توقف کے بعد ڈاکٹر نعمان نے کہ”دراصل میرے پاس اُردو ادب کی کافی ساری کتابیں ہیں جنہیں میں وقف کرنا چاہتا ہوں۔کیا یہاں کوئی اُردو لائبریری یا دکان ہے؟ ،،
میں نے انہیں بتایا “نہیں ،آسٹریلیا میں اُردو لائبریری نہیں ہے۔ تاہم چند ایک لائبریریوں میں اُردو کی کچھ کتابیں دستیاب ہیں ۔ویسے آپ یہ کتابیں کیوں دینا چاہتے ہیں؟ ،،
ڈاکٹر نعمان نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہ”اس لیے کہ میرے بعد میرے گھر میں ان کتابوں کوئی جگہ نہیں ہے۔ مجھے یقین ہے کہ میرے مرتے ہی یہ کتابیں بِن میں پھینک دی جائیں گی۔اس لئے میں چاہتا ہوں کہ یہ کتابیں کسی اور کو دے دوں،،
میں نے کہا “فی الحال تو کوئی اردو لائبریری نہیں ہے۔ لیکن جس طرح اُردو بولنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے ہوسکتا ہے مستقبل میں اردو کی لائبریری یا دکان بن جائے،،
ڈاکٹر نعما ن نے تھکن زدہ لہجے میں کہا”تب تک نہ میں ہوں گا نہ یہ کتابیں رہیں گی۔میری اولاد کے لئے تو میں بھی بوجھ ہوں ۔میری پسندیدہ کتابوں کو کون سنبھالے گا ۔‘‘
میں نے تسلی دی ،ڈاکٹر صاحب مایوس نہ ہوں ،اللہ بہتر کرے گا،،
ڈاکٹر صاحب نے مزید بتایا “ان میں میرے والدمرحوم کی تحریر کردہ کتابیں بھی شامل ہیں اور وہ کتابیں بھی جنہیں ساری زندگی میں نے دوست بنا کر رکھا ہے ۔ان کتابوں نے آخر دم تک مجھ سے دوستی نبھائی ہے۔ اگر میرے بس میں ہو تو انہیں اپنے ساتھ لے جاؤں ۔ مجھے افسوس ہے کہ میری اولاد کو آباؤ اجداد کی زبان ،ان کی تہذیب و تمدن اور ان کے ادب سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اس میں میری بھی غلطی ہے کہ میں نے اُردو پڑھنے کے لیے اُن پر زور نہیں دیا۔حالانکہ میں نے بھی برطانیہ سے ڈاکٹری پاس کی ہے اور سار ی زندگی باہر گزاری ہے۔ لیکن اُردو کا دامن ہمیشہ تھامے رکھا ۔میں نے اپنے باپ کی نشانیوں کو ساری زندگی اپنے سینے کے ساتھ لگا کر رکھا ۔جبکہ میری اولاد میری تصویر رکھنے کی بھی روادار نہیں ہے،،
ڈاکٹر نعمان کے لہجے میں اتنا دردتھا کہ میری پلکوں میں آنسو ڈھلک آئے۔ ڈاکٹر نعمان کے دکھ نے مجھے ہلا کر رکھ دیا تھا ۔میں کافی دیر تک بیٹھا یہی سوچتا رہا کہ انسان کی زندگی بھر کی محنت اور تگ و دو کا انجام بس یہی ہے۔ انسان ڈگریاں،دولت ،شہرت ،اولاد ،مرتبہ اور مقام حاصل کرنے کے لئے رات دن ایک کردیتا ہے۔ ساری زندگی کی دوڑ دھوپ کے بعد جب وہ ، یہ سب کچھ حاصل کرلیتا ہے تو اس وقت اُسے احساس ہوتا ہے کہ اس نے ساری زندگی ایک سراب کے پیچھے دوڑنے میں صرف کردی ۔ ہم میں سے اکثر یہی غم لے کر سدھار جاتے ہیں کہ زندگی میں وہ نہیں کر پائے جو کرنا چائیے تھا ۔
ڈاکٹر نعمان کی باتیں میرے لئے لمحہِ فکریہ تھیں ۔ان کی طرح میری دوستی بھی کتابوں سے ہے۔ میرے گھر میں بھی تقریباََ ڈیڑھ دو سو اُردو ادب کی بہترین کتابیں موجود ہیں ۔کتابوں کی یہ الماریاں میری سٹڈی میں نہیں بلکہ میری خواب گاہ میں ہیں۔ کیونکہ میں ان کی رفاقت میں سکون محسوس کرتا ہوں ۔ اُن کی خوشبو میں سوتا ہوں اوراُن کو دیکھ کر جاگتاہوں ۔اگرچہ ڈاکٹر نعمان کے برعکس میرے تینوں بچے روانی سے اُردو بولتے ہیں اور تھوڑی بہت لکھ پڑھ بھی لیتے ہیں ۔ اُردو پڑھنا لکھنا میں نے خود انہیں سکھایا ہے۔ تاہم ادبی کتابیں پڑھنا ان کے بس سے باہر ہے۔ آسٹریلیا میں تعلیم و تربیت حاصل کرنے والے بچوں کے لئے یہ ممکن بھی نہیں ہے۔ ابھی تک میرے گھر میں اُردو رسائل وکتب کی خوشبو رچی ہوئی ہے۔ کیونکہ ان کاشوق صرف مجھے ہی نہیں میری بیگم کو بھی ہے۔ لیکن ہمارے بعد ان کتابوں کا کیا ہوگا، ڈاکٹر نعمان کی گفتگو سے اس کااندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اگلی نسل کب تک یہ ’بوجھ ‘سنبھالے گی۔ ایک دن یہ کتابیں بِن کی نذر ہوجائیں گی۔ ان کے ساتھ میری رَت جگوں کی کمائی میری چند کتابیں بھی شامل ہوں گیں۔ آخر جانے والوں کی نشانیوں کو کب تک سنبھال کر رکھا جاسکتا ہے۔یہ صرف ڈاکٹر نعمان اور طارق مرزا کانوحہ نہیں ہے ۔ ایک نسل ہے جو اِس سفر کے لئے تیار بیٹھی ہے۔یہ ان سب کی کہانی ہے ۔ کیونکہ موت سب سے بڑی حقیقت ہے ۔زندگی کا بھروسا نہیں اور موت سے مفر نہیں ۔
اے حجرؔ وقت ٹل نہیں سکتا ہے موت کا
لیکن یہ دیکھنا ہے کہ مٹی کہاں کی ہے

SHARE

LEAVE A REPLY