دل کی دیوار میں جڑی آنکھیں ۔نقاش عابدی

0
1076

دل کی دیوار میں جڑی آنکھیں
خوبصورت بڑی بڑی آنکھیں

دل کے دیوار و در ہلا ڈالے
اس قدر زور سے لڑی آنکھیں

تیرے وعدے میں ڈھونڈتی ہیں ابھی
اک ملاقات کی گھڑی آنکھیں

گن رہی ہیں فراق کی گھڑیاں
راہِ امید میں کھڑی آنکھیں

جس جگہ ہم جدا ہوئے تھے ‘ ادھر
دیکھتی ہیں گھڑی گھڑی آنکھیں

تیرے قدموں کو دے رہی ہیں صدا
راہ میں جا بجا پڑی آنکھیں

نقاش عابدی

SHARE

LEAVE A REPLY