دل کی دیوار میں جڑی آنکھیں
خوبصورت بڑی بڑی آنکھیں
دل کے دیوار و در ہلا ڈالے
اس قدر زور سے لڑی آنکھیں
تیرے وعدے میں ڈھونڈتی ہیں ابھی
اک ملاقات کی گھڑی آنکھیں
گن رہی ہیں فراق کی گھڑیاں
راہِ امید میں کھڑی آنکھیں
جس جگہ ہم جدا ہوئے تھے ‘ ادھر
دیکھتی ہیں گھڑی گھڑی آنکھیں
تیرے قدموں کو دے رہی ہیں صدا
راہ میں جا بجا پڑی آنکھیں
نقاش عابدی













