پاکستان میں جو حکومت بھی آئی اس نے یہ لفاظی خوب خوب کی کہ انکی ترجیحات میں یہ شامل ہے کہ عام آدمی کو انصاف سستا فوری اور اسکی دہلیز پر دیا جائے، لیکن سچ تو یہ ہے کہ علمی طور پر آزادی کے بعد سے اب تک کوئی حکومت بھی اس دعوے کے قریب تر بھی نہیں پہنچ سکی۔
ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے مقدمات کا ذکر تو ایک طویل اورتکلیف دہ داستان ہے لیکن سیشن اور کچہریوں میں ایسی ناگفتہ صورت حال ہے کہ شاید انسان کچہری کی بجائے جہنم میں جانے کو ترجیح دے
گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے ایسے ایسے آدمی کی رہائی کا بھی حکم دیا جسے مرے ہوئے کئی سال گزر چکے تھے
اکثر حکومتوں نے دوسرے اداروں کی طرح نظام عدل کو بھی اپنے مفادات اورمقاصد کے لیئے استعمال کیا
آج بھی ہر عدالت میں نے پناہ مقدمات برسوں سے تصفیہ طلب ہیں اور ایسے میں سپریم کورٹ کے سربراہ چیف جسٹس کھوسہ نے ایسی سیاہ تصویر پیش کی ہے کہ یوں لگتا ہے کہ جیسے شاید اگلے پچاس برس میں بھی عدلیہ اور اسکا نظام اسی طرح اپاہج رہے گا۔۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاہےکہ عدالتوں میں زیر التوامقدمات کی تعداد 19 لاکھ ہوگئی ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے دیوانی مقدمے میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتوں میں ججز کی 25 فیصد خالی آسامیاں پُر ہوں تو زیرالتواء مقدمات ایک دوسال میں ختم ہوجائیں گے۔
آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ زیر التواء مقدمات کا طعنہ عدالتوں کو دیا جاتا ہےلیکن ان مقدمات کی قصوروار عدالتیں نہیں کوئی اور ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے ججز زیر التواء مقدمات نمٹانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں، ایک سال میں 31 لاکھ مقدمات نمٹائے گئے ہیں جن میں سے صرف سپریم کورٹ نے 26 ہزار مقدمات نمٹائے ہیں۔
اس کے مقابلے میں امریکا کی سپریم کورٹ نے ایک سال میں 80 سے 90 مقدمات نمٹائے ہیں۔
صفدر ھمدانی














Quite correct. Government kept busy Supreme Court to get political decisions for personal benefits.