“مجتبی خامنہ آئی” ایران کے نئے رہبر اعلی کون ہیں؟
چھپن سالہ عالم دین کو ایران کی مجلسِ خبرگان نے منتخب کیا یہ 88 رکنی ادارہ آئین کے تحت ملک کے اعلیٰ سیاسی و مذہبی حکمران کے انتخاب کا ذمہ دار ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای، جو طویل عرصے سے ایران کے سیاسی ادارے کے سب سے زیادہ بااثر مگر کم دکھائی دینے والے روحانی رہنماؤں میں شمار ہوتے رہے ہیں ان کو اپنے والد کی امریکہ-اسرائیل کے فضائی حملے میں ہلاکت کے بعد ملک کا نیا رہبرِ اعلیٰ مقرر کر دیا گیا ہے۔
56 سالہ عالم دین کو ایران کی مجلسِ خبرگان نے منتخب کیا یہ 88 رکنی ادارہ آئین کے تحت ملک کے اعلیٰ سیاسی و مذہبی حکمران کے انتخاب کا ذمہ دار ہے۔
ان کے تقرر کے ساتھ، مجتبیٰ ایران میں 1979 کی انقلاب کے بعد سے تیسرے رہبرِ اعلیٰ بنے ہیں، اور وہ ایسی بین الاقوامی کشیدگی اور اندرونی غیر یقینی کی صورتِ حال میں قیادت سنبھال رہے ہیں۔
ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر
مجتبیٰ 8 ستمبر 1969 کو ایران کے شمال مشرقی شہر مشہد میں پیدا ہوئے، جو ملک کے بڑے مذہبی مراکز میں سے ایک ہے۔ وہ مرحوم علی خامنہ ای کے دوسرے بیٹے ہیں، جو 1989 سے ایران کے رہبرِ اعلیٰ تھے، اور وہ عالم دین جواد خامنہ ای کے پوتے بھی ہیں۔
سیاسی طور پر متحرک ماحول میں پروان چڑھنے کے باعث مجتبیٰ نے اپنے والد کو ملک میں کلیدی کردار سنبھالتے دیکھا، جو بعد ازاں صدر بھی رہے اور پھر رہبرِ اعلیٰ بنے۔ انہوں نے زہرہ حدادعادل سے شادی کی، جو غلام علی حدادعادل کی بیٹی ہیں — غلام علی حدادعادل ایک معروف قدامت پسند سیاستدان اور سابق اسپیکرِ پارلیمان ہیں جو اس وقت ایران کے ایک بڑے ثقافتی ادارے کی سربراہی کرتے ہیں۔
زہرہ بھی اس امریکی-اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والوں میں شامل تھیں، جس نے تہران میں خامنہ ای خاندان کے رہائشی کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا۔ مجتبیٰ حملے سے بچ گئے، مگر انہوں نے ماں، بہن، بھائی ، بہنوئی اور بھتیجوں کو کھو دیا۔
تعلیم اور حوزوی تربیت
بہت سے ایرانی روحانی شخصیات کی طرح، مجتبیٰ نے مذہبی تعلیم قم کے شہر میں حاصل کی، جو شیعہ الہیات کی مرکزی درسگاہوں اور حوزاتِ علمیہ کا اہم مرکز ہے۔
ایرانی تجزیہ کاروں کے مطابق، مجتبیٰ نے اپنی زندگی کے بہت سے سال قم کی مدارس میں تدریس میں گزارے، بشمول اُس اعلیٰ سطح کی فقہی کلاسوں کے جنہیں درسِ خارج کہا جاتا ہے اور جو حوزوی تعلیم کی بلند ترین سطح سمجھی جاتی ہیں۔
مجتبیٰ نے کبھی کسی عوامی عہدے کے لیے انتخابی دوڑ میں حصہ نہیں لیا اور نہ ہی انہیں کسی سرکاری عہدے کے لیے عوامی رائے سے منتخب کیا گیا، لیکن دہائیوں سے وہ سابق رہبرِ اعلیٰ کے اندرونی حلقے میں ایک بہت بااثر شخصیت رہے، اور ان کے نظریاتی اور ذاتی تعلقات انقلابِ اسلامی کے پاسدارانِ (سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی) کے ساتھ گہرے بتائے جاتے رہے ہیں۔













