رطانوی دارالحکومت میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر مقبوضہ کشمیر سے اظہارِ یکجہتی کے لیے احتجاج کے سلسلے میں 2 افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔
خیال رہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت فراہم کرنے والے آئین کے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے سلسلے میں وادی میں نافذ کرفیو کو ایک ماہ مکمل ہونے پر رواں ماہ 3 ستمبر کو ’کشمیر فریڈم مارچ‘ کے نام سے لندن میں احتجاجی ریلی نکالی گئی تھی۔
لندن کے پارلیمنٹ اسکوائر پر 5 ہزار سے زائد مظاہرین جمع ہوئے اور انہوں نے وادی میں بھارتی فورسز کے ظلم و جبر کے خلاف بھارتی ہائی کمیشن کی طرف مارچ کیا تھا۔
لندن کے میئر کے ترجمان نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’میئر پرامن اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج کرنے کی حمایت کرتے ہیں، انہوں نے لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر ایک چھوٹے سے طبقے کی جانب سے کی گئی اشتعال انگیز اور غیر قانونی سرگرمی کی مذمت کی۔
میئر کی جانب سے یہ بیان مودی مخالف مارچ کے ایک روز بعد دیا گیا جس میں پاکستان اور کشمیر سے تعلق رکھنے والے افراد نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کے خلاف مذمتی نعرے لگائے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: لندن: کشمیریوں کے حق میں ہزاروں افراد کا بھارتی ہائی کمیشن کے باہر احتجاج
مذکورہ احتجاج کا انتظام جموں اینڈ کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) نے کیا تھا، میئر لندن نے احتجاج کے دوران بھارتی ہائی کمشین کی عمارت کو نقصان پہنچانے کی اطلاعات کی مذمت کی۔
اس حوالے سے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے بھارتی مشن نے کہا تھا کہ ’پرتشدد‘ احتجاج میں ہائی کمیشن کو نقصان پہنچایا گیا۔
جس کے جواب میں میئر لندن صادق خان نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اس ناقابلِ قبول رویے کی مذمت کرتا ہوں اور کارروائی کے لیے یہ معاملہ میٹرو پولیٹن پولیس کے سامنے بھی اٹھایا گیا ہے‘












