آج ہیں میرے وطن کی بھی فضائیں سوگوار
جس کو بھی دیکھو ، نظروہ آرہا ہے اشک بار
آپ کی قربانیوں کی گنتی کرسکتے نہیں
آپ کی خدمات کاہم کر نہیں سکتے شمار
قدر بھی کیا ہم نے کی، یہ سوچنے کی بات ہے
یہ وہ ہیرا تھا کہ جس کو لائے تھے خود ذوالفقار
کردیا ہم نے سپرد ِ خاک جو اِک آسماں
رحمتیں اس پر سدا برسیں، مِرے پروردگار
سرجھکاکر ہم سلامی دے رہے ہیں آپ کو
ایٹمی قوت کے خالق ، کامیاب و کام گار
اپنوں نے بھی پھیر لیں آنکھیں تو دُنیا پر کھلا
آپ ہمت کا ہمالہ، عزم کا تھے کوہسار
آپ کے دل میں دُکھی انسانیت کادرد تھا
خدمت ِ خلق ِ خدا تھا آپ کا بے شک شعار
پُرتعیش زندگی کو کہہ دیا تھا، خیرباد
سادگی کو آپ نے اپنا کے پایا تھا وقار
ایسے مُحسن کا بچھڑنا، کم قیامت سے نہیں
ایسے دیدہ ور کااب صدیوں رہے گا انتظار
اُس کابھی ماتم ہے ،جوبرتی ہے ہم نے بے رُخی
گونج اُٹھی ہے دیس میں اِس قوم کی چیخ و پکار
چھوڑ کر دنیاسے رخصت ہوگئے اَن مِٹ نقوش
جو ادارہ بھی بنایا آپ نے ، وہ یادگار
محسن ِ پاکستان ۔ ڈاکٹرعبدالقدیر خان
نظم نگار: ظفر معین بلے جعفری













