ضبط اب اے بِلال رہتا نہیں

0
296

طوق لَعنت کا رَب سے پاتے ہیں
جو بھی بَندوں کا دِل دُکھاتے ہیں

خونی رِشتوں کا پاس رکھتے نہیں
غَیر آئے تو کِھلکِھلاتے ہیں

زِندگی میں تو کام آتے نہیں
بَعد مَرنے کے غَم مَناتے ہیں

جَب چَلا جائے کوئی اپنا تو
خُوب پھر اَشک یہ بَہاتے ہیں

جُھوٹ اِن میں ذرا نہیں ہوتا
ہم جو اشعار میں سُناتے ہیں

ہو مریضوں کی بدعا جن کو
لوگ کب ایسے چین پاتے ھیں

ضبط اب اے بِلال رہتا نہیں
خُونی رِشتے بھی جَب سَتاتے ہیں

بلال رشید

SHARE

LEAVE A REPLY