تحت اللفظ خوانی، ایک فنی مطالعہ۔تبصرہ ، روما رضوی

3
1988

اردو ادب کی تاریخ کے مطابق مرثیہ نویسی کا  آغاز 1503ہجری میں ہوا اور اٹھارویں صدی اس کا عروج سمجھا جاتا ہے۔  اِسی دور کے مرثیہ نویس شعراء کے بیشتر نام آج تک بار بار لئے جاتے ہیں۔
آغاز میں نوتصنیف مرثیے کو خطابت سے زیادہ  رواج دیا گیا تھا۔۔  پھر کچھ امراء نے مجالس کے موجودہ طرز کو متعارف کروایا ۔۔اور جب لحن سے سوز پھر مرثیے کو بصورت  طرز پڑھا جانے لگا ۔۔ تو سُر کی آمیزش نے  الفاظ کی شان و شوکت کو مدھم کردیا ۔
مجالس میں مرثیے کو بالخصوص امام حسین اور آلِ رسول مقبول سے منسوب کیا جاتا ہے۔۔
اہل تشیع کے لیے یہ بات یقینا” قابلِ فخر ہے کہ ان کے گھروں میں بچوں کی تربیت جو ان کے بزرگ کرتے ہیں فرش عزا پر ہی کی جاتی ہے ۔۔اٹھنے بیٹھنے کی تمیز و سلیقہ ، مرصع مدحت و مصائب  کا احوال بصورت شاعری یا خطابت منبر سے  متعارف کروایا جاتا ہے ۔اور یوں کم سنی میں ہی خوبصورت  الفاظ اور ادب کی کئی اصناف سے نو آموز سامع کو اُنسیت ہوجاتی ہے ۔
آج کی کتاب جو زیرِگفتگو ہے اس کا عنوان ہے
” تحت اللفظ خوانی، ایک فنی مطالعہ”
ایک نوعمر مصنف کی انتہائی اہم موضوع پر تحقیق و تصنیف ہے ۔۔
موضوع کے اعتبار سے یہ پاکستان کی پہلی کتاب ہے اور اس سے پہلے اس موضوع پر لکھنؤ سے ڈاکٹر نیر مسعود کی کتاب “مرثیہ خوانی کا فن” لکھی گئی تھی جو کہ تحقیق پر مبنی تھی اس طرح فرحان رضا کی یہ کتاب اس موضوع پر برصغیر کی دوسری کتاب ہوئی.
فرحان رضا صاحب جو خود بھی بہت کم عمری میں صاحبانِ منبر میں شامل ہوئے ۔ ان کا خانوادہ عزاداری، خطابت، شاعری کے حوالے سے ایک شہرت رکھتا ہے اور اسی پس منظر کے ساتھ ساتھ ان کی لگن کے باعث  خداوند عالم نے انہیں بہترین استاد عطا کئے۔۔ اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی تذکرہ کیا کہ گھر کی تربیت ہی اس سلسلے میں شخصیت کی تعمیر میں معاونت و سبقت رکھتی ہے ۔۔یعنی کہ بچوں کو کس طرح سے اس عقیدے اور ان محترم ہستیوں کے ساتھ مانوس کیا جائے۔۔
عزاداری کے سلسلے کو بھی اِسی تربیت کے ذریعے نسل در نسل منتقل کیا جاتا ہے۔۔  اور یہ تربیت نوعمری سے دلوں میں پروان چڑھتی ہے ۔۔ اور اِس نورانی ذکر سے  دلی لگاؤ کا باعث بنتی ہے۔۔ یہاں تک کہ جب ہم خود اس تذکرے کو کرنے والے بنتے ہیں ۔۔تو خیالات و الفاظ کا ایک بیش بہا خزینہ شخصیت کا حصہ بن چکا ہوتا ہے  جو تاحیات ہمارے ساتھ ساتھ موجود رہتا ہے.
یوں تو مرثیہ کسی بھی گذر جانے  والے کے غم میں اس کی صفات کو بیان کرتے ہوئے رنج اور غم کا اظہار کرنے کو کہتے ہیں.  مگر واقعہ کربلا سے اسکی نسبت چودہ سو سال سے اب تک گہری ہوتی چلی گئی ہے ۔ باوجود تحقیق کے ان رونما واقعات میں کوئی تبدیلی نہیں پائی گئی ہے۔۔ یا یوں کہہ لیجئے کہ مرثیے کی زبان و بیان اسرار و رموز اور مخصوص اصطلاحات برسہا  برس سے یکساں ہیں۔۔
اب چاہے یہ بصورت نظم ہوں یا بصورت خطابت مگر  سنانے والے کا انداز اس واقعے کو ایک جدت عطا کردیتا ہے
یہ درست ہے کہ ایسے میں پڑھنے والے کی ادب سے دلچسپی بہت معنی رکھتی ہے۔۔ یاد رہے کہ یہاں وہ ادب مراد ہے کہ جو آج سے سینکڑوں برس پہلے تخلیق کیا گیا ۔۔ نوجوانوں کا  ادب سے گہری وابستگی رکھنا اس کے مطالعے کا ذوق رکھنا۔۔علم دوست اور صاحبان بصیرت افراد کی صحبت سے استفادہ کرنا ہی دراصل ان میں نشست و برخاست اور مزاج میں الگ ہی طرح کا سبھاو پیدا کردیتا ہے۔۔
جیسا اسی کتاب میں فرحان رضا صاحب لکھتے ہیں کہ
“انسان جب تک خود پر ادب طاری نہیں کرے گا اس سے وابستہ نہیں ہوگا تو اس وقت تک مرثیہ خوانی تحت اللفظ خوانی شروع نہیں کر پائے گا یہ وابستگی خلوت و جلوت دونوں میں موجود ہے مثلا ادبی مطالعہ ادبی شخصیات سے روابط ان کی نشستوں میں بطور سامع شریک ہوناان کی گفتگو سننا مشاعروں اور ادبی محفلوں اور مجالس کا حصہ بننا. ان تمام ہی چیزوں سے شخصیت میں ادب سے لگاؤ  و رچاؤ کی بنیاد پڑنا شروع ہو جاتی ہے.”
(اقتباس )
مرثیے کو لحن سے  پڑھا جائے تو طرز اور پڑھنے والے کی آواز سامعین کو زیادہ تر متوجہ رکھتی ہے ۔جبکہ تحت اللفظ مرثیے میں شوکت  الفاظ اور تمام اجزاء مرثیہ بتدریج سامع کے سامنے آتے ہیں۔۔
اس کتاب میں آٹھ ابواب قائم کئے گئے ہیں جسمیں تحت اللفظ خوانی کی تعریف و بنیادی تصورات، تحت اللفظ خوانی کے ادوار، انیس و دبیر خاندانِ انیس و دبیر کے شعراء، بیسویں صدی و عہد حاضر کا جائزہ ، تحت اللفظ مرثیہ خوانی کی تیاری کے ساتھ ساتھ ایک مختصر فرہنگ بھی شامل ہے.
کتاب پر عہد حاضر کی ممتاز ادبی ہستیوں کے تبصرے ہیں جن میں ڈاکٹر ہلال نقوی، ڈاکٹر محمد رضا کاظمی و معروف تحت اللفظ خواں و فرحان رضا کے استاد سید جاوید حسن کے نام نمایاں ہیں.
اس کتاب کو قارئین کے سامنے لانے کے مقاصد میں  محترم مصنف خود  بیان کرتے ہیں کہ بنیادی مقصد فنِ تحت اللفظ خوانی کا جائزہ و اس فن کے مطالب کو واضح کرنا ہے تاکہ دوسرے پڑھنے والوں کی رہنمائی کی جاسکے. اس کا دوسرا مقصد انہوں نے یہ بیان کیا ہے کہ فن تحت اللفظ خوانی کا فروغ اور مرثیہ کا فروغ پیشِ نظر ہے.
اور تحت خوانی سے مرثیے کو عام سننے والوں کے لئے ابلاغ کا بہترین ذریعہ بنایا جا سکے.
فروغِ مرثیہ کے لئے انکے احباب کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں
جس میں سب سے اہم مرثیے کے قارئین کے لئے الیکٹرونک مرثیہ ویب سائٹ کا قیام ہے۔۔ جہاں مختلف اساتذہ کے  تین ہزار مرثیے اپلوڈ کیے گئے ہیں۔۔
گذشتہ دنوں جب مجھے بھی جناب زینب سلام اللہ علیہ پر ایک مرثیہ کی تلاش تھی ۔۔ تو ماشا اللہ  فرحان رضا صاحب نے نسیم امروہوی صاحب کا ایک بہترین مرثیہ جس میں بی بی کے خطبے کے کچھ الفاظ تھے اور  انداز  امام علی سے مشابہ تھا ۔۔ چند لمحوں میں مطلوبہ مرثیہ منتخب کرکے مجھے بھیج دیا ۔۔
فرحان رضا صاحب کو مرثیہ خوانی کرتے ہوئے اب تک تقریبا” بیس برس ہو چکے ہیں اور ان کی پانچویں کتاب زیر طباعت ہے .
وہ عملی زندگی میں بھی بہت مصروف انسان ہیں۔۔ مرثیہ خوانی جیسی  دلچسپی نے ان کو  اس تحقیق پر آمادہ کیا ہے۔۔ ان کے مرثیے کے حوالے سے بیشمار مضامین کئی مجلوں میں شائع بھی ہو چکے ہیں فرحان جیسے نوجوانوں سے امید کی جا سکتی ہے کہ وہ اس صنف  کو کمال تک پہنچائیں گے۔۔ انشا اللہ، جلد ہی قارئین انکا مفصل تعارف اور انکی آنے والی کتب کے بارے میں احوال ایک انٹرویو کی صورت مستقبل قریب میں دیکھ سکیں گے ۔۔
تاریخ میں ایسی کتب مقبول ہوئی ہیں ۔۔اور امید کی جاسکتی ہے کی جب بھی مرثیے میں تحت اللفظ خوانی کا نام لیا جائے گا فرحان رضا کی یہ خدمات یاد کی جائیں گی۔
جیسے میر انیس کی دعا مقبول ہوئی کہ ۔
“تو فیض کا مبدا ہے توجہ کوئی دم کر۔۔
گمنام کو اعجاز بیانوں میں رقم کر”

روما رضوی

SHARE

3 COMMENTS

  1. میرا بہت پرانا فلسفہ ہے اور میں نے کئی مجالس میں پڑھا اور مضامین میں لکھا کہ مرثیہ لکھنے سے زیادہ پڑھنے کی صنف ہے۔ ہمارے ہاں اچھا لکھنے اور بُرا پڑھنے والوں کی بڑی تعداد ہے جسکی متعدد مثالیں ہیں۔ میرے نزدیک بہترین مرثیہ خوان تحت اللفظ خود مرثیہ نگار ہوتا ہے۔ ہاں میں زیڈ اے بخاری قبیل کی بلند آہنگی کا قائل نہیں کہ ان لوگوں نے مرثیے کو ڈرامہ بنا دیا ہے۔ کراچی کے لوگ صرف کراچی والوں کو ہی مرثیہ نگار اور تحت اللفظ خوان سمجھتے ہیں یہ میرا تجزیہ ہے

  2. صفدر ہمدانی صاحب، آپ کے اظہارِ خیال پر آپ کا شکر گزار ہوں. آپ نے درست فرمایا کہ مرثیہ لکھنے سے زیادہ پڑھنے کی چیز ہے اور واقعی ایک سے ایک لکھنے والے تھے لیکن پڑھت میں مشھور نہیں ہوئے.
    بخاری صاحب کے حوالے سے آپ کی رائے کا احترام کرتا ہوں اور عرض کرتا ہوں کہ میں پڑھت کو دو حصوں میں تقسیم سمجھتا ہوں.
    پہلی قسم، ریڈیائی و ٹیلیویژیائی پڑھت ہے جسکے بخاری صاحب بانی تھے اور ضیاء محی الدین و طلعت حسین سے لیکر تمام اداکار و صداکاروں نے کم و بیش وہی طرز اپنائی ہے وہ مجلس کی پڑھت نہ ہے اور نہ اپنے مصنوئی پن کی وجہ سے مقبول ہوسکتی ہے.
    دوسری قسم، منبر و مجلس کی پڑھت ہے جو آج بھی مجلس میں مقبول ہے اور لوگ پڑھ رہے ہیں.
    آخری بات، آپ نے فرمایا کہ کراچی والے صرف کراچی والوں کو ہی مرثیہ گو یا مرثیہ خواں سمجھتے ہیں اس پر میری رائے تھوڑی مختلف ہے کیوں کہ مجھے پورے پاکستان میں مجالس پڑھنے کا شرف حاصل ہے اس لیے کہ سکتا ہوں کہ جہاں جہاں مرثیہ لکھا اور پڑھا جارہا ہے وہ سراہا جارہا ہے اور ہمارے سر کا تاج ہے.

    • فرحان میاں اگر میں غلط نہیں تو میری عمر اور تجربہ دونوں آپ سے زیادہ ہیں۔ نشریاتی بھی اور مجالس کے بھی، میری مرثیہ نگاری کی عمر بھی نصف صدی سے زیادہ کی ہے اور میں نے جو بات کی ہے اپنے تجربے سے کی ہے جس پر قائم ہوں، ، یہ آپکی رائے ہے اسکا احترام کرتا ہوں۔ ہم جیسے لوگ عالمی اداروں میں بھی کام کر کے تعلقات عامہ سے دور رہے لیکن جہاں ہیں جیسے ہیں مطمئن ہیں۔ سلامت رہیں۔

LEAVE A REPLY