قاتل کو دعائیں دو کہ فارغ

0
1001

یادوں کا عجیب سلسلہ ہے
سویا ہوا درد جاگ اٹھا ہے

مٹ بھی چکے نقش پا مگر دل
مہکی ہوئی چاپ سن رہا ہے

جلتی ہوئی منزلوں کا راہی
اب اپنا ہی سایہ ڈھونڈھتا ہے

دیواریں کھڑی ہوئی ہیں لیکن
اندر سے مکان گر رہا ہے

پوچھے ہے چٹک کے غنچۂ زخم
اے اجنبی تیرا نام کیا ہے

سوچوں کے اتھاہ پانیوں میں
دل برف کا پھول بن گیا ہے

کس شعلہ بدن کی یاد آئی
دامان خیال جل اٹھا ہے

تخلیق میں خود چھپا ہوا ہے
فن کار بھی ًفطرتا خدا ہے

مرجھا کے ہر ایک زرد پتہ
آویزۂ گوش بن گیا ہے

سوچا ہے یہ میں نے پی کے اکثر
نشے میں یہ روشنی سی کیا ہے

شاخوں پہ پجارنیں سجی ہیں
ہر پھول چمن کا دیوتا ہے

صحرائے وفا میں میرے فن کی
خوشبو کا چراغ جل رہا ہے

پھر پائیں گے خاک سے نمو ہم
فارغؔ یہ اصول ارتقا ہے

اظہار کا جس کو حوصلہ ہے
وہ اپنی صدی کا دیوتا ہے

منصور سے کم نہیں ہے وہ بھی
جو اپنی زباں سے بولتا ہے

وہ پیڑ ہے زندگی کی عظمت
جو تند ہوا سے لڑ رہا ہے

قاتل کو دعائیں دو کہ فارغؔ
ہر زخم وفا غزل سرا ہے

فارغ بخاری

SHARE

LEAVE A REPLY