مجھے انسانوں کے رویئے بہت تنگ کرنے لگے ہیں ۔۔ گھنٹوں اداس رکھنے لگے ہیں ۔۔ اور آج کل تو بچی کچھی نیند بھی لے اڑتے ہیں ۔ انسانوں کا سب سے زیادہ تلخ رویہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جو ان سے اپنی سوچ اور اس کی اڑان کی وجہ سے مختلف ہوتے ہیں ۔ ایسی منفرد سوچ کواتنے پتھر پڑتے ہیں کہ کبھی وہ اپنا سر بچاتا ہے تو کبھی بدن ڈھکتا ہے ۔
منصور جیسا عاش رب ہو کہ خلیل جبران جیسا ادب پرور
Vincent Van Gogh
جیسا مصور ہو
Vaslav Nijinsky
یا جیسابیلے ڈانس
پتھر ۔۔۔ تھپڑ ۔۔ گالیاں ۔۔ جہان بھر کی تلخ نوائی ۔۔ہرزہ رسائی ۔۔ پھر دلخراش موت نصیب رہا ۔
جب سے دنیا بنی ہے کچھ بھی تو نہیں بدلا ۔۔ سوائے چہروں اور ان کے بہروپ کے ۔۔ انسان سے انسان ہی برداشت نہیں ہو پارہے ۔
کبھی ان کو ساراشگفتہ آوارہ لگتی ہے تو کبھی امرتا پریتم بیباک دیکھائی دیتی ہے ۔۔۔
کبھی شیو کمار سماج سوچ کو آئینہ دیکھاتے ہوئے چونتیس برس کی عمر میں منہ کے بل ایسے گرتے ہیں مر ہی جاتے ہیں ۔
اکیسویں صدی کا ایک منفرد انسان “ سنجے لیلے بنسالی “ تھپڑوں ، لاتوں اور گھونسوں میں گھرا کبھی اپنا چشمہ بچاتا ہے تو کبھی سر تو کبھی بدن ۔۔ جرم صرف اتنا سا کہ فلم “ پدماوتی “ میں صدیوں پرانی راجپوتانی رانی پدماوتی کو خواب میں عالؤ الدین خلجی کے ساتھ رومانس کرتے دکھایا ہے جو تاریخ کا حصہ نہیں ہیں ۔ ارے لوگوں کبھی کوئی پریم سپنوں کا بھی پہرے دار یا سانجھے دار ہوا ہے ۔ سوچنے کی بات اتنی سی ہے کہ جو مسلمان بادشاہ ہندو رانی کی خوبصورت کے چرچے سن کر اپنے سے ملک سے نکل کر اس کے ملک کے کنارے مہینوں ڈیرے ڈالے رکھ سکتا ہے تو کیا اس نے رانی پدماوتی کے سپنے نہیں دیکھے ہونگے ۔ اگر اس نے اس کے ساتھ رہنے کے سپنے نہیں دیکھے ہوتے تو کیا وہ اس کے شوہر “ رانا پرتاب سکھ “ کو دھوکے سے گرفتار کر کے لے جاتا کہ چلو اسی بہانے رانی کے دیدار اور اختیار ہاتھ میں آجایئں گے ۔
یہ بات بتانے کا مقصد صرف انسانی نفسیات کی نقاب کشائی تھی جس پر سنجے لیلے بنسالی اپنی منفرد سوچ پر پتھر ۔۔۔ تھپڑ ۔۔ گالیاں ۔۔ جہان بھر کی تلخ نوائی ۔۔ہرزہ رسائی سہنی پڑ رہی ہے ۔۔۔۔
دراصل اس دنیا کے دامن میں دانے اس کی اوقات سے زیادہ گر گئے ہیں اس لئے بغیر تحقیقات کئے ۔۔ آپ کو اپنی صفائی میں کچھ کہنے کا موقع دیئے بغیر ۔۔ سنسر بورڈ کی رپورٹ آئے بغیر وار کر گئے ہیں ۔ ۔۔ اب دانے تو گئے ہیں گر ۔۔۔
اکیسویں صدی کے انسانوں نے بھی اپنے نا بدلنے پر مہر لگا دی ہے ۔۔
دوسروں سے مختلف سوچ رکھنے پر سنجے لیلے بنسالی کی جس طرح پٹائی کی گئی وہ کم ہے ۔۔۔۔۔ تاریخ کے مردہ کرداروں کو زندہ کرنے اور آنے والی صدیوں تک زندہ رکھنے کی سزا اس سے زیادہ کی بنتی ہے ۔
سنجے لیلے بنسالی کو زندہ رہنے کے لئے مرنا تو پڑے گا ۔۔۔ ۔۔ وقت بگل بجا چکا ۔۔۔۔
ڈاکٹر نگہت نسیم













