بوکو حرام کی قید میں موجود اسکول کی طالبہ لیا شریبو کے والدین کا کہنا ہے کہ شدت پسند تنظیم بوکو حرام نے ان کی بیٹی کو سزائے موت سنادی ہے۔
نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق لڑکی کے والد نتھن شریبو کا کہنا تھا کہ بوکو حرام کے دہشت گرد اپنے مطالبات نہ پورے ہونے پر اکتوبر کے مہینے میں ان کی بیٹی کا قتل کردیں گے۔
لڑکی کے اہل خانہ نے نائیجیریا کی حکومت سے اپنی بیٹی کی بازیابی کے لیے مذاکرات کی اپیل بھی کردی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل رواں سال فروری کے مہینے میں بھی نائیجیریا کی حکومت نے اغوا کی گئی اسکول طالبات کے لیے مذاکرات کیے تھے۔
لڑکی کے والد کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردوں نے لیا شریبو کو ان کے مطالبات پورے نہ ہونے پر اکتوبر میں قتل کردینے کی دھمکی دی ہے، وقت نکلا جارہا ہے جس کی وجہ سے میں حکومت سے مطالبہ کر رہا ہوں کہ مجھے میری بیٹی واپس چاہیے‘۔
نائیجیریا کے صدر کے ترجمان گربا شیہو کا کہنا تھا کہ حکومت عالمی اداروں کے ساتھ بات کر رہی ہے جنہوں نے ماضی میں بھی مذاکرات میں مدد کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر نے بوکو حرام کی دھمکی موصول ہوتے ہی عالمی مذاکرات کاروں سے رابطہ کیا اور انہیں بوکو حرام کی قید میں تمام افراد کی زندگیاں بچانے کا مطالبہ کیا۔












