مظاہرین کے ساتھ معاہدے کو ’سرینڈر‘ کہنے پر قومی اسمبلی میں ہنگامہ

0
708

قومی اسمبلی کے اجلاس میں آسیہ بی بی کو بری کرنے کے عدالتی فیصلہ پر احتجاج کرنے والے مظاہرین سے حکومتی معاہدے کو پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما کی جانب سے ’سرینڈر‘ کہنے پر حکمراں جماعت تحریک انصاف اور پی پی پی رہنماؤں میں تکرار ہوگئی۔

پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری کی جانب سے حکومت اور مظاہرین کے درمیان ہونے والے معاہدے کو ’سرینڈر دستاویزات‘ کا نام دیا گیا۔

انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کے نام میں نیازی کے لفظ کا استعمال کرتے ہوئے 1971 میں جنرل اے اے کے نیازی کی جانب سے دستخط کیے گئے سرینڈر دستاویزات سے بھی تشبیہ دی جس کے بعد بنگلہ دیش بنا تھا۔

وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے شازیہ مری کے ریمارکس پر اعتراض کرتے ہوئے ان سے کسی کے انفرادی عمل پر پوری قوم کو ان سے ملانے پر اعتراض اٹھایا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ حقیقت ہے کہ جنرل نیازی نے 1971 میں بھارتی فوج کے آگے ہتھیار ڈالے تھے تاہم یہاں دیگر نیازی بھی ہیں جو قوم کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔

اسپیکر اسد قیصر نے اراکین اسمبلی کو خبردار کیا کہ آئندہ کوئی بھی رکن کسی قوم کی تضحیک نہیں کرے گا۔

تاہم شازیہ مری نے دوبارہ کہا کہ وہ جبرل نیازی کا نام استعمال کرتی رہیں گی جس پر حکومتی اراکین اپنی بینچوں پر کھڑے ہوگئے اور شور شرابہ شروع کردیا۔

دریں اثناء پیپلز پارٹی کے کراچی سے رکن قومی اسمبلی سید رفیع اللہ اور تحریک انصاف کے لرہ سے رکن اسمبلی عبدالمجید خان کے درمیان بحث گرم جوشی اختیار کرگئی۔

سید رفیع اللہ، عبدالمجید خان کے ریمارکس، جو شور شرابے کی وجہ سے اسمبلی میں سنے نہیں جاسکے تھے، پر سیخ پا ہوگئے اور اپنی سیٹ سے وہ عبدالمجید خان کی جانب بڑھنے لگے۔

تاہم انہیں دیگر قانون سازوں کی جانب سے روک دیا گیا۔

اسپیکر اسمبلی نے دونوں ممبران کو ایوان سے باہر نکالنے کا حکم دیا تاہم صورتحال قابو میں نہ آنے پر انہوں نے اجلاس کو کل صبح تک کے لیے ملتوی کردیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY