قربانی قربان سے ہے ۔ ۔ ۔ قربان ، قرب و قربت کے حصول کا وسیلہ اور زریعہ ہے ۔ ۔ ۔ پس قربت کی قیمت قربانی ہے ۔ ۔ ۔ قربت چاہتے ہو ، تو اس کی قیمت ادا کرنی پڑے گی ۔ ۔ ۔ قربانی ” عشق کے دعوے ، اور قربت کے حصول می! ” مخلص ہونے کی دلیل ہے ۔ ۔ ۔
عشق کرتے ہو ۔ ۔ ۔ ؟ پس عشق کے دعوے کی دلیل دو ، دلیل دو کہ اس دعوے میں مخلص ہو ، عشق میں اپنے خالص ہونے اور اخلاص کا مقدار بتاو ۔ ۔ ۔
خالی دعوے کو تو بچہ بھی قبول نہیں کرتا ، عشق کا دعویٰ کرتے ہو ، عشق بھی کرتے ہو گے ، لیکن محبوب کیسے مان لے ، محبوب کو کیسے یقین دلاو گے ، کہ اس کی طلب میں کتنے خالص ہو ، اس کے ساتھ کتنے مخلص ہو ، اسے کس قدر طلب کرتے ہو ، پس دلیل دو ۔ ۔ ۔
قربت چاہتے ہو ، قربت کی فرمائش کرتے ہو ۔ ۔ ۔ ؟ پس فرمائش کی دلیل آزمائش سے ہے ، آزمائش میں ” اپنی چاہ اور طلب ” کا خلوص دکھاو ۔ ۔ ۔
قربت کیلئے قیمت ادا کرو ، یعنی قربان کرو ، پاس موجود سب سے قیمتی شے کو قربان کرو ۔ ۔ ۔
ابراہیم خلیل اللہ نے ، پاس موجود سب سے قیمتی شے کو قربان کر کے خدا سے اپنے عشق کی دلیل دی ، قربت کی قیمت ادا کی ، اور قربت کیلئے وسیلہ بنا لیا ۔ ۔ ۔ یہ بتا دیا کہ پروردگارا ! میں تیرے لیے ، تیرے عشق میں ، تیری قربت کیلئے ہر شے کو قربان کرنے کیلئے تیار اور آمادہ ہوں اور اپنے اس دعوے میں مخلص ہونے کی دلیل یہ دیتا ہوں ، کہ پاس موجود سب سے قیمتی شے ، یعنی اپنے فرزند کو زبح کرتا ہوں ۔ ۔ ۔ پس تو میرے دعوے میں خالص ہونے کی دلیل ، قربت کی قیمت اور قربت تک وسیلے و راستے یعنی قربانی کو قبول کر اور مجھے اپنا قرب عطا کر ۔ ۔ ۔
پس سنت قائم ہوئی ، کہ جو بھی خدا سے عشق کا دعویٰ کرتا ہے ، جو بھی خدا کی قربت کے حصول کی فرمائش رکھتا ہے ، اسے اپنے دعوے کی حقانیت ، سچائی اور خلوص کی دلیل دینی پڑے گی ، اسے پاس موجود اب سے قیمتی شے کو قربان کرنا پڑے گا ، اسے میری قربت تک راستہ بنانا پڑے گا ۔ ۔ ۔
پس خدا کو تمہارا گوشت نہیں پہنچتا ، اسے تمہارا تقویٰ ، یعنی عشق اور قربت کے دعوے میں خالص ہونے کی مقدار دیکھنی ہے ، اسے تمہارے طلب کی شدت اور سنجیدگی دیکھنی ہے ، اسے تمہارا قربت کی چاہ میں اپنی ذات کی نفی کرنا دیکھنا ہے ، اسے یہ دیکھنا ہے کہ اس کیلئے تم کیا کیا دے سکتے ہو ، اور کس حد تک جا سکتے ہو ۔ ۔ ۔
_____________________
جسٹن سنو ۔ ۔ ۔
انتخاب
فائزہ عباس













