رابطہ رکھنے میں دشواری ہے کیوں
شہر بھر میں قحط دلداری ہے کیوں
پوچھنا احوال کوئی جُرم ہے ؟
لفظ دو لکھنے کی لاچاری ہے کیوں
اک زمانے بعد دیکھا ہے تجھے
اسقدر چہرے پہ بیزاری ہے کیوں
جو گلہ شکوہ ہے کہہ برسوں کے بعد
دل کے آئینے میں زنگاری ہے کیوں
دوستوں کا بھی کوئی پوچھو مزاج
دشمنوں کی ناز برداری ہے کیوں
بربط دل کے سلگتے تار پر
نام تیرا آج بھی جاری ہے کیوں
کوئی تو صفدر کرے یہ منکشف
وقت کا سکہ یہ عیاری ہے کیوں
صفدر ھمدانی














بہت خوب سر کیا سہی کہا وقت کا سکہ سدا سے عیاری ہے اور شائید رہے گا بھی سادگی کا اپنا خسارہ ہے