تاریخ کے سیاہ باب,عالم آرا

0
696

خاقان کہتے ہیں کہ رانا ثناء کی گرفتاری ‘‘تاریخ کا سیاہ باب ہے ‘‘۔ ہم تاریخ کے روشن باب ڈھونڈنے لگے سب سے پہلے سانحئہ ماڈل ٹاؤن سامنے آیا ۔پھر سانحئہ بلدیہ نگاہوں کے سامے سے گزرا ،پھر وہ دو معصوم دکھائی دئے جو پولیس نے گولیوں سے بھون دئے تھے ۔پھر باکسر بھی تصویر کی طرح آکھڑا ہوا اور ہم روشن باب دیکھتے چلے گئے ۔اب سیاہ باب ہر وہ بات ہے جو پولیں کھول رہی ہے سچ یا غلط یہ ہم نہیں جانتے ۔مگر جو کچھ سنتے آئے تھے اُس پر اگر پکڑ دھکڑ ہورہی ہے تو چیخ و پکار سمجھ سے بالا تر ہے ۔بھئی اگر معصوم ہو تو صاف ستھرے ہو جاؤ گے ۔نہیں ہو تو پکڑے جاؤگے ۔ویسے تو ہمارے یہاں اس قدر انسانیت دوست ہیں کہ شاید دنیا میں کہیں نہ ملیں۔
ہماری ساری انسانیت جاگتی ہی جب ہے جب کوئی بڑا پارٹی کا کرتا دھرتا پکڑا جاتا ہے ساری ہمدردیاں اُس کے ساتھ ہوتی ہیں سارے انسانی حقوق اُس کے نام کر دئے جاتے ہیں ۔وہ ہر رعایت کا مستحق ٹہرتا ہے اور شاید یہیں سے ہماری بے حسی اور بے رحمی جنم لیتی ہے ۔کیونکہ جب بڑوں کی پردہ پوشی اس قدر ہو کہ ہر برائی دبا دی جائے تو معاشرے تباہ ہوتے ہیں ۔انسانیت دم توڑ دیتی ہے اور بے شرمی اور بے حیائی پیدا ہوتی ہے ۔بے شرمی صرف یہ نہیں ہے کہ اآپ بے لباس ہوں بے حیائی صرف اس بات کا نام نہیں ہے کہ اآپ ننگے پھر رہے ہوں ۔ بے شرمی اور بے حیائی یہ ہے کہ آپ اچھے برے کی تفریق مٹا دیں ۔آپ سچ اور جھوٹ کوایک لائن میں کھڑا کر دیں ۔آپ ہر غلط کام کی طرفداری کریں اور ہر برے کام کو اچھا جانیں ۔یہیں سے شروع ہوتا ہے قوموں کا زوال ۔کسی مہزب اور ترقی یافتہ معاشرے میں برائیوں کے لئے زیادہ جگہ ہوتی ہے نہ اُن سے صرفِ نظر کیا جاتا ہے۔ بلکہ کڑی نظر رکھی جاتی ہے ایسی ہر بات پر جو ملک کے لئے قوم کے لئے عام آدمی کے لئے نقصان کا باعث بنے ۔
لیکن عوام ان کے ساتھ کبھی نہیں ہوتی ۔یہ بڑے اتنے بے حس ہیں کہ چاہے کوئی بے گناہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے صرف اس لئے جان دے دے کہ اُس کے پاس جُرمانے کی رقم نہ ہو یا اس لئے جان سے جائے کہ وہ وکیل نہیں کر سکتا ،یہ پیسے والے بڑے سے بڑے وکیل اپنی مدد کو لاتے ہیں پیسہ پانی کی طرح بہاتے ہیں اور چھوٹ جاتے ہیں پھر جُرم چاہے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔۔کہتے ہیں جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے مگر ہمارے ان سیاست دانوں نے جھوت کے پاؤں بھی بنا دئے ہیں اور جھوٹ کو سچ کرنے کی بھی ٹھان لی ہے ۔جیسے کل شھباز نے رانا کی محبت میں کہا کہ انہیں پانی تک نہیں دیا جارہا اور یہ بھی کہ اگر انہیں کچھ ہوا تو زمے دار خان ہوں گے ۔وہ یہ بھی رُو رہے ہیں کہ نواز سے کسی کو ملنے نہیں دیا جارہا ۔بھائی اتنے دن سے تو مزے اُڑا رہے تھے روز ہی بیٹھک لگ رہی تھی اب زرا وہ بھی تو دیکھو کہ ایک عام آدمی کس طرح جیل میں رہتا ہے ۔مزہ تو سب کو ہی چکھنا چاہئے اپنے کئے کا ِ۔اے سی تمہارے پاس ،نوکر تمہارے پاس کیونکہ تمہارا احسان ہے ہم پر کہ تم نے ہمیں تین ادوار میں لوٹا بھی اور بے توقیر بھی کیا ۔کیا کوئی تصور کر سکتا ہے کہ ایک لاء منسٹر پکڑا جائے ایسے مکروہ سامان کے ساتھ جس کو سوائے نفرت کی نگاہ کے کسی اور نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا ۔
اگر غلط پکڑا ہے بغیر ثبوت کے پکڑا ہے تو یہ حکومتِ وقت کے لئے بہت بڑا نقصان ہوگا اور اُسکی کسی بھی بات پر اعتماد کرنا مشکل ہو جائیگا ۔اس لئے ہماری حکومتی لوگوں سے بھی درخواست ہے کہ اس مشکل وقت میں خود کو ان تمام باتوں سے دور رکھیں جن سے اُن پر شک ہو ۔ملک کو آگے لے جانا ہے تو ہر اُس ناسور پر چیرا لگنا چاہئے جس نے ہمیں پھوڑا بنا دیا ہے ۔اسکولوں میں جس قدر منشیات استعمال ہو ریہی ہیں کبھی تصؤر میں بھی نہیں تھا کالجوں میں یونیورسٹی میں کوئی تعلیمی ادارہ اس لعنت سے پاک نہیں جیسا کہ خبروں سے پتہ چلتا ہے تو کوئی تو ہے جو یہ زہر بیچ رہا ہے ۔کوئی تو ہے جو یہ دھندا آسان بنا رہا ہے ۔کاش اُن تمام لوگوں کو پکڑ اجائے جنہوں نے میرے ملک کے جوانوں کو شیشہ اور منشیات کی طرف گھسیٹ لیا ہے ۔مشکل کچھ بھی نہیں اگر آپ طے کر لیں کہ ہر برائی کو ختم کرنا ہے ،ختم تو نہیں ہوگی لیکن کم ضرور ہو جائیگی ۔لیکن یہ جہاد ہے ہر اُس شخص کا جو ملک میں رہتا ہے کہ نشاندہی کرے ہر اُس برائی کی جو اُسے پتہ ہے ہر اُس شخص کی جسے وہ جانتا ہے کہ کسی ایسے دھندے میں ملوث ہے ۔
یہاں ہمیں عدل کے اداروں سے بھی توقع ہے کہ وہ اپنے ملک کے اتنے بڑے حساس مسئلے پر ضرور توجہ دیں گے تاکہ ہمارے جوان منشیات سے بچیں کہ تباہی ہے یہ ہماری نسل کے لئے ۔تعلیمی اداروں پر کڑی نظر رکھنی چاہئے اساتذہ کو بھی اور ان اداروں کے سربراہوں کوبھی کہ یہ صرف بچوں کامسئلہ نہیں ہے بڑوں کا بھی ہے کہ کس طرح یہ چرسی پھرتے ہیں ملک میں ۔چوریاں کرتے ہیں ڈاکے ڈالتے ہیں موبائل چھینتے ہیں یہاں تک کہ جانیں بھی لے لیتے ہیں ۔کہ انہیں نشہ چاہئے ۔جس طرح ہمارے ملکوں میں یہ وباء بڑھ رہی ہے اُس پر توجہ دینا لازمی ہے ۔
ہماری اپوزیشن کا زیادہ تر رونا یہ ہے کہ ہمارے ساتھ نہیں بیٹھا جا رہا ۔اپوزیشن چاہتی ہے کہ ایک دفعہ خان اُن کےسات÷÷ھ بیٹھ جائے بس پھر دیکھو ہم کیسا ریکارڈ لگاتے ہیں کہ کہتے تھے ہم اپوزیشن سے ہاتھ نہیں ملائینگے دیکھو کیسا زیر کیا ۔۔بس یہ ہی حکمتِ عملی ہے شھباز اور زرداری کی جس میں ابھی تک خان نہیں آئے اور جس دِن وہ ان کے ساتھ بیٹھ گئے جس کی آفر یہ سارے ہی بار بار کسی نہ کسی صورت دیتے نظر آرہے ہیں وہ دن پارٹی کےلئے ہی نہیں خود خان کے لئے بھی آخری کیل ہوگا یہ ہماری سوچ ہے ۔کیونکہ ساری عوام صرف اس لئے دکھ سہہ رہی ہے کہ خان کچھ اچھا کر گزرے گا ،سب کی آس ہے کہ ملک روشنی کی طرف بڑھے گا لیکن اگر اُن ہی جھمیلوں میں پھر پڑ گئے جس میں یہ اپوزیشن انہیں گھیرنا چاہ رہی ہے تو شاید ملک کے لئے بہت تکلیف دہ ہوگا ۔
کچھ اچھے فیصلے کئے جارہے ہیں ان کا ثمر ملنے میں وقت لگے گا لیکن اگر سارے معاملات کو لٹکائے رکھا گیا تو شاید لوگوں کے اعتماد اور اُن کی خواہش جو سب کے دلوں میں جگائی گئی تھی اُس پر شدید ضرب پڑے گی ۔فیصلے جلدی آنے چاہئیں چاہے نیب کے ہون یا عدلیہ کے تاکہ آگے بڑھا جا سکے ۔جو حساس مقدمے ہیں جیسے ماڈل ٹاؤن ان کے بارے میں قوم کو اعتماد میں لینا چاہئے کہ کیوں یہ مقدمے سرد خانے میں پڑے ہیں ۔کیونکہ ان کے ورثاء اب صبر کا دامن ہاتھ سے چھورےدے رہے ہیں ۔جو بھی مشکل حائل ہے اُسے عوام کے سامنے لایا جائے تاکہ عدلیہ پر بھی اعتماد ہو اُن سب کو جو شکار ہوئے اس بربریت کا ۔
مشکل مرحلے بہت ہیں لیکن سب سے پہلے مہنگائی سے نمٹیں پھر باقی باتوں کی طرف مرحلہ وار بڑھیں تاکہ ملک مسائل سے نکل کر ترقی کی طرف گامزن ہو ۔پاکستان ذندہ باد

SHARE

LEAVE A REPLY