چین کے حکام نے دارالحکومت بیجنگ میں کورونا کیسز کی شرح میں اضافے کے پیش نظر کئی پابندیاں عائد کردی ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق چین میں کورونا وبا ایک مرتبہ پجر سر اٹھا رہی ہے، منگل کے روز 28 ہزار سے زائد کورونا مثبت کیسز سامنے آئے ہیں۔
صوبہ گوانگ ڈونگ میں 16 ہزار جب کہ چونگ قینگ شہر میں 6 ہزار 300 کیسز ایک دن میں سامنے آئے ہیں۔
چین کے دارالحکومت بیجنگ میں بھی دو روز کے دوران کورونا مثبت کیسز کی تعداد دگنی ہوگئی ہے۔ اتوار کے روز بیجنگ میں 621 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی تھی جب کہ مگل کے روز یہ تعداد دگنی سے بھی زیادہ ہوکر 1438 پر آگئی ہے۔
چین دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں شمار کیا جانے والا واحد ملک ہے جہاں کورونا کے تدارک کے لئے سخت ترین پابندیاں لگائی جاتی ہیں۔ ان پابندیوں میں اسنیپ لاک ڈاؤن، بڑے پیمانے پر جانچ اور لاک ڈاؤن شامل ہیں۔
چین کے حکام نے کورونا کی حالیہ لہر کے دوران سخت پابندیوں کے ہٹ کر اقدامات پر غور شروع کردیا ہے کیونکہ حکام اپریل میں شنگھائی میں دو ماہ کے طویل لاک ڈاؤن کے باعث پیدا ہونے والی معاشی صورت حال سے بچنا چاہتے ہیں۔
اگرچہ دارالحکومت بیجنگ میں اب تک مکمل لاک ڈاؤن سے گریز کیا گیا ہے لیکن زیادہ تر عوامی مقامات پر داخلے کے لیے 24 گھنٹے پہلے کی منفی ٹیسٹ رپورٹ کی پابندی کے باعث بڑے پیمانے پر اسنیپ لاک ڈاؤن اور پی سی آر ٹیسٹنگ شروع ہوگئی ہے۔
حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ گھر پر رہیں اور بین الاضلاعی سفر سفر سے گریز کریں۔سیاحتی مقامات، جم اور پارکس بند کر دیے گئے ہیں، بڑے پیمانے پرعوامی شرکت کے پروگرام ( کنسرٹس وغیرہ) منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ متعدد ریستوران بند کرنے، اسکولوں میں آن لائن تدریسی عمل شروع کرنے اور دفتری امور گھر سے انجام دینے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔












