چوہدری شوگر ملز کیس: مریم نواز کی ضمانت منظور، رہائی کا حکم

0
659

لاہور ہائیکورٹ نے چوہدری شوگر ملز کیس میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ان کی ضمانت منظور کرلی اور رہائی کا حکم دے دیا۔

عدالت عالیہ کے جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے مذکورہ کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) اور درخواست گزار کے وکیل دونوں کے دلائل کے بعد 31 اکتوبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

جسے آج عدالت نے سناتے ہوئے چوہدری شوگر ملز کیس میں مریم نواز کی درخواست ضمانت کو منظور کرتے ہوئے انہیں ایک ایک کروڑ کے 2 مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا۔

ساتھ ہی عدالت نے مریم نواز کو اضافی 7 کروڑ روپے جمع کروانے کا کہتے ہوئے بھی اپنا پاسپورٹ جمع کروانے کا حکم بھی دے دیا۔

آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت مریم نواز کی ضمانت دیتے ہوئے عدالت کے تحریری حکم کے مطابق ‘چونکہ استغاثہ نے درخواست گزار کی ایک بینک اسٹیٹ منٹ دکھائی، جس میں 28 نومبر 2011 کو 7 کروڑ روپے نکالے گئے اور استغاثہ کو درخواست گزار کے فرار ہونے کا خدشہ ہے، لہٰذا ہم عدالتی ضمنیر کو مطمئن کرنے کے لیے ایک مشروط حکم جاری کریں گے’۔

عدالت کی جانب سے مریم نواز کی ضمانت منظور ہونے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے کارکنان نے جشن منایا۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے چوہدری شوگر ملز کیس میں ضمانت بعد از گرفتاری کے لیے 30 ستمبر کو عدالت سے رجوع کیا تھا۔

تاہم گزشتہ ماہ کے اواخر میں ان کے والد سابق وزیراعظم نواز شریف کی صحت کی اچانک ناسازی کے بعد انہوں نے بنیادی حقوق اور انسانی بنیادوں پر ضمانت کے لیے 24 اکتوبر کو ایک متفرق درخواست دائر کی تھی۔

اس درخواست پر عدالت میں متعدد سماعتیں ہوئی تھیں، تاہم گزشتہ سماعت میں نیب کے وکیل جہانزیب بھروانا نے انسانی بنیادوں پر مریم نواز کی درخواست ضمانت کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ ‘سپریم کورٹ کے فیصلے میں یہ واضح ہے کہ ملزمہ کو صرف انتہائی غیرمعمولی حالات میں ضمانت مل سکتی ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘مریم نواز کا کیس غیرمعمولی حالات پر پورا نہیں اترتا’۔

اس سے پہلے کی خبر

چودھری شوگر ملز کیس میں مریم نواز کی ضمانت کی درخواست پر محفوظ فیصلہ آج 2 بجے سنایا جائے گا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے مریم نواز کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے موقف اپنایا تھا کہ مریم نواز کا چودھری شوگر ملز میں کبھی بھی متحرک کردار نہیں رہا، ایک عرصے سے مریم نواز کے پاس ملز کے کوئی شیئرز نہیں ہیں، وکیل نے بتایا کہ 1991 میں جب چودھری شوگر ملز قائم ہوئی تو اس وقت مریم نواز چھوٹی تھیں، مریم نواز کے وکیل نے بتایا کہ چودھری شوگر ملز کا تمام تر کنٹرول ان کے دادا محمد شریف کے پاس تھا ،محمد شریف کے انتقال کے بعد ملزم کے کرتا دھرتا عباس شریف تھے۔

وکیل نے نشاندہی کی کہ چودھری شوگر کے تمام معاملات کی دیکھ بھال اب عباس شریف کے بیٹے یوسف عباس کر رہے ہیں۔ وکیل نے یہ بھی بتایا کہ مریم نواز کا بطور ڈائریکٹر اور سی ای او کردار رسمی نوعیت کا تھا، مریم نواز کے وکیل نے نکتہ اٹھایا کہ اینٹی منی لانڈرنگ کا قانون 2010 میں آیا اور اس کا اطلاق ماضی سے نہیں کیا جا سکتا۔ وکیل کے مطابق نیب کے قانون میں ترمیم کے بعد اعانت کا جرم شامل کیا گیا اور اس کا ماضی سے اطلاق نہیں ہوسکتا لہذا درخواست ضمانت منظور کی جائے۔

ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانہ نے کہا انکم ٹیکس ریٹرن کے ریکارڈ کے مطابق مریم نواز کے اثاثے ان کی آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے، مریم نواز چودھری شوگر ملز کی سی ای او اور شیئرز ہولڈر رہی ہیں۔ نیب وکیل نے بتایا کہ مریم نواز سے پوچھا گیا کہ چودھری شوگر ملزمیں ان کے 41 فیصد شیئرز ہیں، بتائیں کہاں سے آئے، مریم نواز اپنے جواب سے نیب کو مطمئن نہ کر سکیں، چودھری شوگر ملز کے اکاؤنٹس سے شمیم شوگر ملز کے اکاؤنٹ میں بھاری رقم ٹرانسفر کی گئی۔

نیب وکیل نے کہا مریم نواز نے منی لانڈرنگ میں اہم کردار ادا کیا ، چودھری شوگر ملز کے بینک اکاؤنٹس سے مریم نواز کے ذاتی اکاؤنٹ میں بھاری رقم بھجوائی گئی۔ لہٰذا مریم نواز کی ضمانت خارج کی جائے۔

SHARE

LEAVE A REPLY