امریکی محکمہ خارجہ نے ایران کے خلاف جاری فوجی مہم کے دفاع میں باضابطہ قانونی مؤقف جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ امریکا نے ’آپریشن ایپک فیوری‘ اسرائیل کی درخواست پر شروع کیا۔
منگل کے روز امریکی محکمہ خارجہ کے آفس آف لیگل ایڈوائزر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ فروری میں شروع کی گئی وسیع فضائی اور بحری کارروائی مشترکہ دفاع کے قانونی حق کے تحت کی گئی۔
بیان کے مطابق امریکا نے اسرائیل کی درخواست پر ایران کے میزائل اور جوہری ڈھانچے کو تباہ کرنے کے لیے مداخلت کی جسے اسرائیل نے وجودی خطرہ قرار دیا تھا۔
محکمہ خارجہ کے حکام نے اس مؤقف کو مسترد کیا کہ یہ کارروائی اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے اور کہا کہ یہ مہم دراصل دونوں ممالک کے درمیان جاری ایک طویل مسلح تنازع کا تسلسل ہے۔













