وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکا کی حکام کے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبوں سے متعلق تحفظات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا مجموعی ڈیٹ سرسنگ (قرض) 74 ارب ڈالر ہیں جبکہ اس میں سی پیک کا اثر 40 لاکھ 90 ہزار ڈالر ہے۔

ملتان میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ ’یہ کہہ دینا ہے کہ سی پیک کی وجہ سے ہمارے ڈیٹ سروسنگ (قرض) میں بے پناہ اضافہ ہوگا یہ درست نہیں ہے‘۔

واضح رہے کہ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں جنوبی ایشیائی امور کی انچارج اور معاون سیکریٹری اسٹیٹ ایلس جی ویلز نے الزام لگایا تھا کہ سی پیک اتھارٹی کو کرپشن سے متعلق تحقیقات میں استثنیٰ حاصل ہے۔

انہوں نے اسلام آباد کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ سی پیک سے صرف چین کو فائدہ ہوگا اور اگر بیجنگ یہ منصوبہ جاری رکھتا ہے تو کچھ فائدے کے بدلے پاکستان کو طویل مدت میں بڑا نقصان ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی کے لیے وقت مل بھی جائے تو یہ قرضے اس کی اقتصادی ترقی کی راہ میں حائل رہیں گے جس سے وزیر اعظم عمران خان کے اصلاحات کے ایجنڈے کو نقصان پہنچے گا۔

اس ضمن میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سی پیک کے منصوبے جاری رہیں گے بلکہ توسیعی منصوبے کے تحت اس کے فیز ٹو کا آغاز کردیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہماری معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’ہم اسپیشل اکنامکس زون میں شامل امریکا سمیت دیگر ممالک سے بھی چاہیں گے کہ وہ سرمایہ کاری کریں‘۔

‘کشمیر سیل کے اجلاس کی صدارت وزیراعظم کریں’
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کشمیر سیل کے اگلے اجلاس کی صدارت وزیراعظم عمران خان سے کرنے کی گزارش کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو مقبوضہ کشمیر سے متعلق تمام سفارشات پیش کی جائیں گی، جس میں سفارتی، سیاسی اور قانونی چارہ جوئی جیسے امور شامل ہوں گے۔

علاوہ ازیں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکی کانگریس میں مسئلہ کشمیر پوری شدومد سے اٹھایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی کانگریس رکن راشدہ طلیب کی جانب سے ایک قرار داد پیش کی جس میں وہ تمام تقاضے ہیں جو پاکستان کررہا ہے مثلاً انٹرنیٹ سروس کی بحالی، پبلک سفیٹی ایکٹ کا خاتمہ اور زیر تحویل کشمیری رہنماؤں کی رہائی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ عالمی مبصرین کو مقبوضہ کشمیر میں رسائی دی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کچھ عرصہ قبل مسئلہ کشمیر پر سے داخلی سیاسی صورتحال کی وجہ سے میڈیا اور عالمی برادری کی توجہ ہٹ گئی تھی۔

وزیر خارجہ نے میڈیا سے گزارش کی کہ وہ کشمیر پر خصوصی توجہ دیں۔

واضح رہے کہ 14 ستمبر کو امریکی کانگریس کی خاتون رکن راشدہ طلیب نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی اقدامات کو ناقابل قبول اور قابل مذمت قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ وادی سے مواصلات کی معطلی اور کرفیو کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: الطاف حسین کے بھارتی چینل کو انٹرویو پر تشویش، جلد جواب دیا جائے گا، ترجمان دفتر خارجہ

راشدہ طلیب نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ‘بھارت بغیر کسی وجہ کے زیرحراست ہزاروں افراد سے قانون کے مطابق برتاؤ کرے اور ادویات، ہسپتالوں سمیت دیگر بنیادی ضروریات تک رسائی یقینی بنائے’۔

قبل ازیں امریکا کے نمایاں سینیٹرز اور اراکین کانگریس نے مسئلہ کشمیر اور پاکستان اور بھارت کے مابین دیگر تنازعات کے حل کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے تعمیری کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خط لکھا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY