لاہور ہائی کورٹ نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا فیصلہ محفوظ کرنے کے خلاف درخواست میں وفاقی حکومت کو کیس سے متعلق مکمل ریکارڈ جمع کرانے کا حکم دے دیا۔
عدالت عالیہ میں سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا فیصلہ محفوظ کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔
کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پرویز مشرف کے وکیل سے مخاطب ہوتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ کے مؤکل کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے ریلیف تو مل گیا ہے۔
وکیل اظہر صدیق نے عدالت کو جواب دیا کہ یہاں جو درخواست ہے وہ تھوڑی مختلف ہے ۔
سابق صدر پرویز مشرف کے وکیل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ عدالت میں پڑھ کر سنایا۔
عدالت نے حکم دیا کہ پرویز مشرف کا کیس سنگین غداری کیس کیسے بنتا ہے اس پر آئندہ سماعت میں معاونت کی جائے۔
لاہور ہائی کورٹ نے 3 دسمبر تک وفاقی حکومت کو اس کیس سے متعلق مکمل ریکارڈ جمع کرانے کا حکم بھی دیا۔













