پاناما معاملے پر شروع ہونے والا قومی اسمبلی کا اجلاس شیڈول سے ایک دن پہلے ہی غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا گیا، ہنگامہ آرائی کے باعث سپریم کورٹ کے کوئٹہ کمیشن کی رپورٹ پر بحث بھی نہ سمیٹی جا سکی۔

پاناما پیپر پر وزیراعظم کے بیان میں مبینہ تضاد کے معاملے پر قومی اسمبلی کا اجلاس جیسے پی ٹی آئی کے احتجاج اور ہنگامہ آرائی سے شروع ہوا، اسی طرح غیر معینہ مدت تک ملتوی بھی ہو گیا۔

تحریک انصاف کے اسد عمر کو ا سپیکر سردار ایاز صادق نے کوئٹہ کمیشن کی رپورٹ پر بات کرنے کے لیے فلور دیا ،اسد عمر نے پاناما کے ایشو پر بات شروع کر دی۔

اسپیکر نے یہ کہہ کر روکا، ٹوکا کہ اس معاملے پر بہت بات ہو چکی، آپ کوئٹہ کمیشن کی رپورٹ تک ہی رہیں،پی ٹی آئی کے ارکان کا اصرار بڑھتا ہی چلا گیا اور ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی۔

شور تھما تو اسپیکر نے دوبارہ اسد عمر کو بات کرنے کا موقع دیا تاہم وہ پاناما ایشو پر بات کرنے پر بضد رہے، ا سپیکر کے روکنے پر پی ٹی آئی کے ارکان مراد سعید اور شیریں مزاری نےنعرے بازی شروع کر دی۔

مراد سعید نے کہا کہ ہماری زبان پر تالے نہیں لگائے جاسکتے،جس پر ا سپیکر نے خبردار کیا کہ پی ٹی آئی ارکان اگر طے شدہ معاہدے کے مطابق بات نہیں کریں گے تو وہ اجلاس ملتوی کردیں گے۔

اسد عمر نے کہا کہ ہم اسپیکر کی کرسی کی عزت چاہ رہے ہیں، جس پر ایاز صادق نے جواب دیا کہ عزت دینے والا اللہ ہے، آپ نے تو مجھے 2013ءسے قبول نہیں کیا۔

اسپیکر نے شاہ محمود قریشی پر زور دیا کہ ان کی جماعت طے شدہ فیصلے کی پاسداری کرے، شاہ محمود نے کہا کہ ہم متفقہ قرارداد لاتے ہیں کہ خدا کیلئے دانیال عزیز کو وزارت دیں۔

اسپیکر کی بار بار ہدایت کے باوجود اسد عمر سانحہ کوئٹہ سے متعلق کمیشن رپورٹ پر بات کے لیے تیار نہ ہوئے تو پی ٹی آئی ارکان کے شور شرابے کے دوران ہی اسپیکر نے قومی اسمبلی کا اجلاس غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا۔

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سپریم کورٹ کمیشن کی رپورٹ پر بحث سمیٹنے کے لیے ایوان میں موجود تھے تاہم ان کے بولنےکی نوبت ہی نہ آئی

SHARE

LEAVE A REPLY