لبنان کی عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ نے اتوار کے روز کہا کہ اس نے اپنی “سب سے بڑی” فضائی کارروائی کا آغاز کیا ہے، جس میں گولان کی پہاڑیوں میں اسرائیلی ملٹری انٹیلیجنس کے ایک پہاڑی علاقے میں واقع اڈے پر دھماکہ خیز ڈرون لانچ کئے گئے۔
سرحد پار فائرنگ کے بڑھتے ہوئے تبادلوں کے درمیان جس نے عالمی خطرے کو جنم دیا ہے، یہ تازہ ترین واقعہ ہے۔
حزب اللہ کے 200 راکٹ حملوں پراسرائیل کی جوابی کارروائی
حزب اللہ نے اپنی فضائی افواج کی طرف سے کی جانے والی “سب سے بڑی کارروائی” کا اعلان کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ اس کے جنگجوؤں نے کوہ ہرمون پر واقع” جاسوسی مرکز کو نشانہ بنانے کے لیے ، یکے بعد دیگرےڈرون کے متعدد اسکوارڈن”لانچ کیے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ ایک دھماکہ خیز ڈرون “ماؤنٹ ہرمون میں ایک کھلے علاقے میں گرا، لیکن “کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔”
ہفتوں میں حملوں کے ساتھ ساتھ بیان بازیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ویسی ہی مکمل جنگ کا خدشہ پیدا ہوا ہے جو کہ آخری بار 2006 میں ہوئی تھی۔
لبنانی تنظیم کا کہنا ہے کہ ڈرون حملہ، سرحد سے تقریباً 100 کلومیٹر کے فاصلے پر مشرقی لبنان پر ہفتے کے روز ہونے والے حملے میں اس کے ایک جنگجوکی ہلاکت کے “جواب” کا حصہ تھا۔
حزب اللہ نے کہا کہ ماؤنٹ ہرمون حملے نے انٹیلیجنس سسٹمز کو نشانہ بنایا، بقول اس کے “انہیں تباہ کر دیا اور بڑے پیمانے پر آگ لگا دی”۔
اسرائیل کا موقف
اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے دفتر نے بتایا کہ انہوں نے اتوار کو ماؤنٹ ہرمون پر فوجیوں سے ملاقات کی۔
گیلنٹ نے ماؤنٹ ہرمون سے ایک ویڈیو میں کہا ہے کہ اگر غزہ میں جنگ بندی ہوتی ہے تو ہم، “حزب اللہ کے خلاف مہم میں لڑائی جاری رکھیں گے اور مطلوبہ نتائج کے حصول کےلیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔”
دو مزید بیانات میں،اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس کے فضائی دفاع کے نظام نے گولان کی پہاڑیوں کے علاقے میں سائرن بجنے کے بعد لبنان سے آنے والے متعدد “فضائی اہداف” کو “کامیابی سے روک لیا۔”













