مسجد الحرام و مسجد نبوی میں ماسک اور سماجی فاصلے کی پابندی پھر نافذ

0
1488

سعودی عرب میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے مسجد الحرام اور مسجد نبوی سمیت ملک بھر میں ایک بار پھر سماجی فاصلہ اور ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے ‘سعودی پریس ایجنسی’ کے مطابق مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے امور کو دیکھنے والے ادارے نے اعلان کیا ہے کہ 30 دسمبر کی صبح سات بجے سے سماجی فاصلہ دوبارہ لازمی ہو گا۔

اس اعلان کے ساتھ ہی مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں نمازیوں کے لیے سماجی فاصلے کے اسٹیکرز بھی دوبارہ سے لگا دیے گئے ہیں۔ ان اسٹیکرز کو اکتوبر میں کرونا پابندیوں میں نرمی کے بعد ہٹا دیا گیا تھا۔

یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب دنیا بھر میں کرونا کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور مختلف ممالک میں اومیکرون ویریئنٹ کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ ڈیلٹا اور اومیکرون ویریئنٹ جڑواں خطرات ہیں جو کیسز کی تعداد کو ریکارڈ سطح پر لے جا رہے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے اپنی ایک ہفتہ وار رپورٹ میں کہا تھا کہ دنیا کے کئی ممالک میں وبا کے تیزی سے پھیلنے کی بڑی وجہ اومیکرون قسم ہی ہے۔ کئی مقامات پر اومیکرون کے سامنے آنے والے کیسز کی تعداد ڈیلٹا ویریئنٹ سے تجاوز کر چکے ہیں۔

سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق ​سماجی فاصلہ اختیار کرنے کا اطلاق نمازیوں، متعین کردہ نماز کے مقامات اور عمرہ ادا کرنے والوں پر ہو گا۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ نمازیوں کے درمیان سماجی فاصلہ اس لیے برقرار رکھا جائے گا تاکہ آنے والے زائرین کا تحفظ یقینی بنا جا سکے۔

اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مسجد الحرام اور مسجد نبوی آنے والے تمام افراد اور ورکرز کو ماسک پہننا، جاری کیے گئے اجازت نامے کے مطابق دیے گئے اوقات پر داخلے پر عمل کرنا، سماجی فاصلے کو اپنانا اور مساجد میں کام کرنے والے حکام کی ہدایات پر عمل کرکے حفاظتی اقدامات پر عمل کرنا چاہیے۔

ادھر سعودی عرب میں حکام نے تمام انڈور اور آؤٹ ڈور سرگرمیوں اور پروگرامات میں بھی سماجی فاصلے اور ماسک پہننے کو لازمی قرار دیا ہے۔

عرب نیوز کے مطابق سعودی وزارتِ داخلہ کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا کہ تمام اندرونی اور بیرونی مقامات پر 30 دسمبر کی صبح سات بجے سے اس پابندی کا اطلاق ہوا۔

SHARE

LEAVE A REPLY