غزہ۔ حماس،اسرائیل، امریکہ، جنگ بندی،،،سب خبریں ایک جگہ

0
1082

قطر کے دارالحکومت دوحا پر اسرائیلی فضائی حملے کے بعد امریکا اور عرب ممالک کے دباؤ نے فلسطینیوں کی نسل کشی میں ملوث نیتن یاہو کو غزہ امن منصوبے پر لچک دکھانے پر مجبور کیا۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق ستمبر میں اسرائیلی حملے نے قطر میں غزہ پر مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کیا، جس پر خطے اور واشنگٹن میں شدید ردِعمل سامنے آیا۔

دوحا پر اسرائیلی حملے کے بعد امریکا اور عرب ممالک کی جانب سے آنے والے شدید دباؤ نے اسرائیل کو ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے پر لچک دکھانے پر مجبور کیا۔

پاکستان میں بھی مختلف طبقہ فکر کی طرف سے غزہ امن منصوبے پر اختلاف سامنے آیا، تاہم وزیر اعظم شہباز شریف نے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ غزہ امن منصوبے کے حوالے امریکی صدر کی جانب سے پیش کردہ 20 نکات ہمارے تیار کردہ نہیں، منصوبے میں کچھ اہم نکات شامل نہیں کیے گئے۔

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی دباؤ کے باوجود نیتن یاہو نے منصوبے کی کئی شقوں میں ترامیم کرا کے اسرائیل کے حق میں خاص طور پر غزہ سے انخلا اور فلسطینی ریاست کے ذکر پر تبدیلیاں شامل کیں۔

فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے پر مثبت ردعمل دیا تاہم کچھ نکات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کے امن منصوبے پر ردعمل سامنے آنے کے بعد اسرائیل سے غزہ میں حملے روکنے کا مطالبہ کر دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے زور دیا کہ اسرائیل کو فوری طور پر غزہ پر بمباری روک دینی چاہئے تاکہ یرغمالیوں کو فوری اور محفوظ طریقے سے نکالا جا سکے کیونکہ موجودہ صورتحال میں ایسا کرنا انتہائی خطرناک ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اس وقت مذاکرات کی تفصیلات پر بات چیت جاری ہے، انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف غزہ تک محدود نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں طویل عرصے سے مطلوب امن قائم کرنے کا ہے۔

یاد رہے کہ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا 20 نکاتی غزہ امن منصوبہ بڑی حد تک قبول کرلیا، حماس نے ٹرمپ منصوبے پر رد عمل دیتے ہوئے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ وہ اسرائیل کی غزہ پر جنگ ختم کرنے اور اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کے بدلے تمام اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہے۔

تنظیم کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ وہ غزہ کی انتظامیہ ایک ایسے آزاد اور غیر جانبدار ادارے کے حوالے کرنے پر راضی ہے جو فلسطینی ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ہو، اس ادارے کی تشکیل قومی اتفاق رائے اور عرب و اسلامی حمایت کی بنیاد پر کی جائے گی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ صدر ٹرمپ کی تجویز میں غزہ کے مستقبل اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق سے متعلق جو دیگر نکات شامل ہیں، وہ ایک مشترکہ قومی مؤقف، بین الاقوامی قوانین اور قراردادوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

امریکی صدر ٹرمپ نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کو غزہ جنگ بندی معاہدہ قبول کرنے کے لیے ڈیڈ لائن دے دی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ حماس کے پاس معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے اتوار کی شام 6 بجے تک کا وقت ہے۔

ٹرمپ نے کہاکہ حماس کے پاس معاہدہ کرنے کا یہ آخری موقع ہے، معاہدے پر دیگر ممالک دستخط کرچکے ہیں۔

امریکی صدر نے حماس کو دھمکی دی کہ حماس معاہدہ نہیں کرسکی تو اس کو سخت نتائج بھگتنے پڑیں گے، معاہدہ کرنے سے حماس کے جنگجوؤں کی بھی جان بچ جائے گی۔

ٹرمپ نے فلسطینیوں کو بھی خبردار کیا کہ بےگناہ فلسطینی غزہ شہر کو خالی کر کے محفوظ مقامات پر منتقل ہوجائیں۔

خیال رہےکہ رواں ہفتے امریکی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے 20 نکاتی غزہ امن معاہدے کا اعلان کیا تھا اور کہا کہ اس پر تمام مسلم اور عرب ملکوں نے اتفاق کیا ہے۔

تاہم قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے کئی نکات وضاحت اور مذاکرات کے متقاضی ہیں۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ غزہ سے اسرائیلی افواج کے انخلا کے معاملے پر وضاحت درکار ہے اور اسرائیلی افواج کے انخلا پر مزید بات چیت ہونی چاہیئے۔

پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا بھی کہنا ہے کہ غزہ امن معاہدے کیلئے ٹرمپ نے جو 20 پوائنٹس دیے وہ من وعن ہمارے نہیں ہیں۔

قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ غزہ میں لوگ بھوک سے فوت ہورہے ہیں، اقوام متحدہ، یورپی یونین اور دوسرے عالمی ادارے غزہ میں امن قائم کرنے کے لیے ناکام ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ سے غزہ میں جنگ بندی کے ایک نکاتی ایجنڈے پر بات ہوئی اور میٹنگ کے بعد 8 مسلم ممالک نے اس حوالے سے مشترکہ طور پر 20 پوائنٹس دیے اور بیان جاری کیے تاہم بعد میں صدر ٹرمپ نے جو 20 پوائنٹس جاری کیے وہ من وعن وہ پوائنٹس نہیں ہیں جو ہم نے دیے تھے، اس میں تبدیلی کی گئی ہے۔

وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ یہ وہ ڈرافٹ نہیں جو ہم نے تیار کیا تھا اور اس حوالے سے دفتر خارجہ کی بریفنگ میں وضاحت دے چکے ہیں اور ہم 8 مسلم ممالک نے جو ڈرافٹ تیار کیا اس پر فوکس رکھیں گے۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

حماس کے غیر مسلح ہونے سے انکار کے بعد امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے امریکی صدر ٹرمپ سے فون پر رابطہ کرکے غزہ جنگ بندی منصوبے پر تبادلۂ خیال کیا ہے۔

ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیوٹ نے بات چیت کی تفصیل بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ بات چیت حساس ہے، بتائی نہیں جاسکتی۔

وائٹ ہاؤس ترجمان نے حماس کی جانب سے منصوبہ منظور ہونے کی امید بھی ظاہر کی۔ کیرولین لیوٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ حماس کو منصوبے پر غور کے لیے ڈیڈلائن مقرر کریں گے۔

خیال رہے کہ اس سے پہلے امریکی صدر ٹرمپ نے منگل کے روز حماس کو 3، 4 روز میں جواب دینے کا کہا تھا، برطانوی میڈیا کے مطابق حماس ممکنہ طور پر ٹرمپ کا منصوبہ مسترد کردے گی۔

گزشتہ روز فرانسیسی خبر ایجنسی نے خبر دی تھی کہ قطر میں مصر، ترکیے اور قطر کے حکام سے ملاقات میں حماس کے ایک دھڑے نے غیر مسلح ہونے سے انکار کیا جبکہ دوسرا دھڑا ٹرمپ کی جنگ بندی ضمانت پر امن منصوبہ ماننے پر تیار ہے۔

دوسری جانب مصر کے وزیر خارجہ بدرعبدالعاطی نے کہا ہے کہ حماس کو جنگ بندی کی امریکی تجاویزپرقائل کرنےکی کوشش کررہے ہیں، ہماری حماس سے ملاقات ہورہی ہے، قطر اور ترکیےکے ساتھ مل کرکوشش کررہے حماس تجاویز کا مثبت جواب دے۔

بدرعبدالعاطی نے کہاکہ امریکی صدرکے غزہ منصوبے میں کئی خلل ہیں جنہیں پُرکرنا ضروری ہے، غزہ پر حکمرانی اور سکیورٹی انتظامات کی تجاویز پر مزید بات چیت ضروری ہے۔

مصری وزیر خارجہ نے کہا کہ کسی بھی صورت غزہ کے لوگوں کی بے دخلی کی اجازت نہیں دیں گے، اگرحماس نےٹرمپ کا منصوبہ منظور نہ کیا تو بہت مشکل ہوجائےگی اور کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔

SHARE

LEAVE A REPLY