پولیس نے لاک ڈاؤن سے متعلق اقدامات کی خلاف ورزی کرنے پر مزید 12 تاجروں کو گرفتار کرلیا۔
واضح رہے کہ کراچی پولیس چیف اور کمشنر، دونوں نے تاجروں کو خبردار کیا تھا کہ حکومت کی اجازت کے بغیر اپنا کاروبار/ دکانیں کھلونے کی صورت میں شہر میں امن وامان کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔
ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ صدر کے الیکٹرانک مارکیٹس میں دکانداروں نے اپنا کاروبار کھولا تھا۔
جس کے بعد پولیس کی نفری کی مدد سے علاقے کے اسسٹنٹ کمشنر نے مارکیٹ پر چھاپہ مارا اور پریڈی پولیس نے 12 تاجروں کو حراست میں لے لیا۔
انہوں نے بتایا کہ زیر حراست تاجروں کے خلاف ریاست کی مدعیت میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 188 کے تحت ایف آئی آر درج کرلی گئی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز نیپئر پولیس نے تاجروں کے 4 نمائندوں حماد پونو والا، جاوید قریشی، احسان احمد، جاوید شکور اور دیگر کو گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف فوجداری کارروائی کی دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے الزام میں ایف آئی آر (144/2020) درج کی گئی تھی۔
جمعرات (آج) کراچی کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل غلام نبی میمن نے تاجروں سے کہا کہ وہ شہر میں امن وامان کی صورتحال پیدا کرنے سے گریز کریں۔
انہوں نے کہا کہ تاجر امن پسند لوگ ہیں اور انہیں امن و امان کی صورتحال پیدا نہیں کرنا چاہیے۔
ایک سرکاری بیان کے مطابق پولیس چیف نے تجویز پیش کی کہ تاجر برادری کو اس مشکل وقت کے دوران کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے حکومتی احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
ایڈیشنل انسپکٹر جنرل غلام نبی میمن نے خبردار کیا کہ اگر تاجروں نے امن و امان کا مسئلہ پیدا کیا تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
تاہم انہوں نے مزید کہا کہ حکومت دکانداروں اور تاجروں کو سزا دینا نہیں چاہتی۔
ایڈیشنل انسپکٹر جنرل نے تجویز پیش کی کہ تاجر صوبائی حکومت کے نمائندوں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کریں۔












