ڈاکٹر رضی الدین صدیقی کی وفات

٭ پاکستان کے نامور ماہر تعلیم، سائنس دان اور دانش ور ڈاکٹر رضی الدین صدیقی 2 / جنوری 1908ء کو حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے تھے

انہوں نے 1925ء میں جامعہ عثمانیہ سے گریجویشن کیا اور پھر 1928ء میں کیمبرج یونیورسٹی (برطانیہ) سے ریاضی میں ایم اے کا امتحان اعزاز کے ساتھ پاس کیا، 1931ء میں جرمنی کی لیپزگ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کرنے کے بعد وہ وطن واپس آگئے اور اپنی مادر علمی، جامعہ عثمانیہ میں تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔1950ء میں وہ پاکستان آگئے۔

وہ پشاور یونیورسٹی، سندھ یونیورسٹی اور قائداعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے اور انہوں نے کچھ عرصہ پاکستان سائنس اکیڈمی کی سربراہی بھی کی۔ وہ ادب خصوصاً اقبالیات سے خصوصی شغف رکھتے تھے۔ اقبالیات کے موضوع پر ان کی دو تصانیف اقبال کا تصور زمان و مکان اور کلام اقبال میں موت و حیات ان کے اسی شغف کا مظہر ہیں۔

ڈاکٹر رضی الدین صدیقی کو حکومت پاکستان نے نشان امتیاز اور ہلال امتیاز کے اعزازات عطا کئے تھے۔
٭2 جنوری 1998ء کو ڈاکٹر رضی الدین صدیقی نے اسلام آباد میں وفات پائی۔ وہ اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

………………………

دو جنوری دوہزار چودہ کو کوئٹہ میں خودکش حملے میں پانچ افراد جان جاں بحق اور تیس زخمی ہوئے
دہشت گردی نے پاکستانیوں کی کمر توڑ رکھی ہے صرف تحریک طالبان پاکستان ہی نہیں اور بھی بہت سے خفیہ ہاتھ اس میں ملوث ہیں۔ دہشت گردی کی جنگ دوسروں کے لیے لڑتے لڑتے آج پاکستان خود اس آگ کی لپیٹ میں آگیا ہے اور پاکستانی اس آگ میں جھلس رہے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دو جنوری 1492 میں سپین نے مورز سے گریناڈا واپس لے لیا جس کی مناسبت سے اسے گریناڈا ڈے کہتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دو جنوری 1757میں برناوی فوج نے بھارت میں کلکتے پر قبضہ کر لیا

وقار زیدی ۔ کراچی

SHARE

LEAVE A REPLY