کیا لکھوں خدا کا حساب لکھوں یا کسی کی لاپرواہی لکھوں۔ ستانوے لوگ شہید ہوگئے۔ کس کس کا نوحہ لکھوں۔ ان جوانوں کا جو کسی کی امیدوں کا سہارا تھے، ان بچوں کا جنھیں ابھی جینا تھا،
یا اس ماں کا نوحہ لکھوں جس کے دل کا ٹکڑا چھن گیا۔ جو اس کی آنکھوں کا نور تھا، یا ان بچوں کے لئے لکھوں جویتیم ہوگئے اب زندگی نہ جانے ان پر کیا کیا ظلم ڈھائے گی۔ یا ان عورتوں کا نوحہ لکھوں جن کی پیشانیوں پر بیوہ لکھ دیا گیا۔
کون بھلا کب تک کسی حاد ثے پر آنسو بہاتا ہے۔ چند دن اخبارت کی سرخیوں میں اور چند دن چینلز کا موضوع،
حکومت کی تسلیاں چند روپے دیکر ختم ہو جائیں گی۔
اور بس ہمیشہ کی طرح اس حادثے کا بھی کفن دفن ہو جا ئیگا۔
مگراس حادثے کا ایندھن بننے والے خالد شیر دل کی ماں فرخ کا دکھ کبھی ختم نہیں ہوگا، کیا کوئی اس کا دکھ سمجھ سکے گا.
، شاید وہ مائیں جو جوان بیٹوں کی لاشوں پر بین کرچکی ہونگیں
ہمارا بچہ خالد شیر دل
کیسے کہوں کہ اپنے بھائیوں کا قوت بازو، بہن کے دل کا سکون اور ماں کی آنکھ کا نور خا لد اب نہیں رہا
میں اس کا نوحہ لکھنے بیٹھی تو ہوں مگرکیا کروں الفاظ ساتھ نہیں دے رہے آنکھیں برسنا تھم نہیں رہیں۔
سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہاں سے شروع کروں، اس وقت سے جب میں نے پہلی مرتبہ خالد شیر دل
کو دیکھا، اس وقت وہ ماں کی گود میں تھا۔ صرف دس گیارہ ماہ کا، ماں اسے بٹھانا چاہ رہی تھی مگروہ ماں کی گود میں ٹک نہیں رہا تھا، بار بار گود سے نکل کر کمرے کی ہر چیز کو چھونے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کے باپ شیر دل نے ہنس کر مذاق میں کہا، دیکھو ایک پوری عورت سے ایک چھو ٹا سا بچہ نہیں سنبھل رہا۔ پوری عورت کہنے پر سب ہنس دئے
پھر وقت کیسے گزر گیا پتہ ہی نہیں چلا، اب کے میں نے اسے سکول کی یونفارم پہنے دیکھا، پھر سنا کہ اس نے ایچیسن کالج سے اے لیول کرلیا. جب وہ اعلی تعلیم کے کے لئے امریکہ جارہا تھا تو ہمارے پاس لندن میں رکا، مسکرا کر بتانے لگا کہ جب سے خاندان والوں کو یہ علم ہوا تھا کہ میں مزید تعلیم کے لئے امریکہ جارہا ہوں، تو گویا ہرعزیز نے اپنا اپنا فرض جانا اور دو تین ماہ میں امریکی لڑکیوں کی اتنی برا ئیاں گنوادیں کہ ان پر پورا ایک تھیسس لکھا جا سکتا ہے۔
ہم لوگ 1975 میں کسی کام کے سلسلے میں لندن آئے وہ کام برسوں تک مکمل نہ ہو سکا اور ہم یہیں کے ہو رہے. خالد اپنے والدین کے ساتھ کئی مرتبہ لندن آیا، میرے دونوں بچوں کے ساتھ دن بھر لندن میں گھومتا پھرتا تھا۔ امریکہ میں وہ سات برس رہا۔ تعلیم کے دوران لائبریری میں کام بھی کرتا تھا تاکہ اپنی کچھ ضرورریات پوری کرسکے
خالد انتہائی سمجھدار، سلجھا اور ذہین بچہ تھا۔ آج یاد کرتی ہوں تو یہ سب باتیں ابھی کل کی بات لگتی ہے۔ وقت تو گزر جاتا ہے اور مگر پیچھے کیا کیا کچھ چھوڑ جاتا پے
خا لد شیردل بلاشبہ ایک انمول ہیرا تھا۔
اس نے اپنا کرئیر اسٹنٹ کمشنر سے شروع کیا. بس پھر یہ سفر کہیں رکا نہیں، اس نے کم برسوں میں ایسے ایسے کام کئے اور کئی اہم پر اجیکٹ اپنی محنت سے مکمل کئے. اگر خدا اسے مہلت دیتا تووہ نجانے کہاں تک پہنچتا۔
بھیک مانگنے پرساینٹفک لائنزپر ریسرچ اور تجزیہ کیا۔ پاکستان کی سب سے بڑی آرٹ ویب سائٹ چلائی،
جب پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا ڈاریکٹر جنرل بنا تو قدرتی آفات کے دوران زلزلہ ہو یا سیلاب، اور خالد وہاں نہ ہو یہ ممکن نہیں تھا،
جب بالا کوٹ اور شمالی علاقوں میں زلزلہ آیا تو خالد اگلی صبح چھٹیوں پرنیویارک جانے والا تھا مگراس تباہی کا سن کر وہ اگلی صبح نیویارک کی پرواز میں بیٹھنے کے بجائے بالا کوٹ کے لئے روانہ ہوگیا۔
وہ ایک ایسے ماڈل دیہات کے منصوبے پر کام کر رہا تھا جس میں مکینوں کو سولر بجلی اور ہسپتال سمیت زندگی کی تمام سہولتیں میسر ہوں.
خالد نے ڈینگو بخار کے کنٹرول اور بچاؤ پر ایک کتاب بھی لکھی
جو ایمزون پر دستیاب ہے
اس نے جس طرح اہم پوسٹوں پر انتہائی ایمانداری سے کام کیا. وہ صرف اپنے خاندان کا فخر ہی نہیں بلکہ ملک و قوم کے لئے بھی سرمایہ تھا
جان تو ہر انسان کی بہت قیمتی ہوتی ہے. مگر ایسی جان جو دوسروں کی زندگیاں بہتر بنانے کے لئے دن رات کام کرتی ہو، ایسی جان کا ازالہ ہونا نہ صرف مشکل بلکہ بعض اوقات ممکن نہیں ہوتا۔
خالد شیر دل ایسے ہی قابل انسانوں میں سے تھا.
ایسے بیٹے کی ماں سے میں نے یہ کہہ تو دیا کہ فرخ صبر کرو مگر جانتی تھی کہ میرے یہ الفا ظ کتنے رسمی اور کھوکھلے ہیں. یہ ماں کے
دکھ کا مداوا نہیں.
اللہ خالد شیردل کو جنت میں بہترین مقام عطا فرمائے.
بس اس کے سوا کیا کہوں
ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کی نہیں نایاب ہیں ہم
ساجدہ ہمایوں













