سپریم کورٹ نے ہفتے اور اتوار کو کاروباری مراکز کھولنے کا حکم واپس لے لیا

0
657

سپریم کورٹ آف پاکستان نے عید سے قبل ہفتے اور اتوار کو کاروباری مراکز کھولنے سے متعلق دیا گیا حکم واپس لے لیا جب کہ وفاقی حکومت کو کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے قانون سازی کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چار رکنی بینچ نے کرونا وائرس از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت نے تاحال کرونا وائرس سے تحفظ سے متعلق قانون سازی نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس سے متعلق قومی سطح پر کوئی قانون سازی ہونی چاہیے۔ جس کا اطلاق پورے ملک پر ہو۔ ملک کے تمام ادارے کام کر سکتے ہیں تو پارلیمنٹ کیوں نہیں۔ چین نے بھی وبا سے نمٹنے کے لیے فوری قانون بنائے۔

اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت کرونا وائرس سے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہی ہے جب کہ حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد بھی یقینی بنایا جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبوں کی جانب سے قانون سازی کی گئی ہے۔ وفاقی حکومت کو بھی قانون سازی کی تجویز دوں گا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ کرونا وائرس کسی صوبے میں تفریق نہیں کرتا اور لوگوں کو مار رہا ہے۔ وفاقی حکومت کو اس معاملے پر رہنما کردار ادا کرنا چاہیے۔ وہ کرونا سے بچاؤ کے لیے قانون سازی کرے۔ آپ کے پاس اب وقت نہیں رہا۔ ایک لاکھ سے زائد کرونا وائرس کے کیسز سامنے آچکے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 3 ہزار 671 ہوگئی ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق اس مرض کے باعث گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 65 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY