پینٹاگون نے گوانتاناموبے کے امریکی حراستی مرکز سے حال ہی میں رہا ہونے والے قیدیوں کی شناخت ظاہر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ چاروں یمنی شہری ہیں جنہیں عسکریت پسند گروپ القاعدہ کے مشتبہ رکن ہونے کے بنا پر 14 سال تک حراست میں رکھا گیا۔

یہ چاروں افراد جمعرات کو سعودی دارالحکومت ریاض پہنچے جہاں ان کے خاندان کے افراد بھی موجود تھے۔

سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے کہا کہ شاہ سلمان نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ چاروں افراد سعودی عرب ہی میں رہیں گے اور وہ “بحالی اور شدت پسندی کے خاتمے” کے پروگرام میں حصہ لیں گے، گوانتانامو میں حراست کے دوران ان کے خلاف کوئی مخصوص الزامات عائد نہیں کیے گئے تھے۔

ان قیدیوں کی سعودی عرب پہنچنے کے بعد پینٹاگون کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ “امریکہ کی طرف سے انسانی بنیادوں پر گوانتانامو بے کے حراستی مرکز کو بند کرنے کی کوششوں میں جاری حمایت پر سعودی حکومت کا شکرگزار ہیں۔”

سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے نے رہا ہونے والے قیدیوں کی شناخت محمد رجب صادق ابو غانم، سالم احمد ہادی بن كناد، عبدالله يحيىٰ يوسف الشبلی اور محمد باوزير کے ناموں سے کی ہے۔

گوانتاناموبے کے حراستی مرکز میں اب بھی 55 قیدی موجود ہیں اور صدر براک اوباما نے آٹھ سال قبل پہلی بار صدر بننے کے بعد اس مرکز کو بند کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

تاہم قیدیوں کی رہائی کو کس طرح عمل میں لایا جائے یا انہیں کہاں رکھا جائے، اس حوالے سے اختلافات کی وجہ سے اس کیمپ میں قید افراد کی تعداد کو کم کرنے کی کوششوں میں پیش رفت نا ہو سکی۔

اطلاعات کے مطابق امریکی عہدیدار صدر اوباما کے 20 جنوری کو وائٹ ہاؤس چھوڑنے سے پہلے تقریباً 15 مزید قیدیوں کو یہاں سے دوسرے ملکوں میں منتقل کرنا چاہتے ہیں تاہم بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ اس کیمپ کو بند کرنے کے بارے میں صدر کے ارادوں کی تکمیل نا ہو سکے گی۔

کانگریس کے ریپبلکن ارکان گوانتانامو کے حراستی مرکز سے قیدیوں کو امریکہ کی جیلوں میں منتقل کرنے کی کوششوں کی مخالفت کرتے رہے ہیں، دوسری طرف نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ گوانتانامو کو “بعض برے لوگوں سے بھرنے کے لیے” اسے کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔

قبل ازیں رواں ہفتہ ٹرمپ نے اپنی ایک ٹویٹ میں یہاں سے مزید قیدیوں کی منتقلی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ” (گوانتاناموبے) سے مزید (قیدیوں) کو رہا نہیں کرنا چاہیئے۔ یہ بہت خطرناک لوگ ہیں اور انہیں اس بات کی اجازت نہیں ملنی چاہیئے کہ وہ دوبارہ میدان جنگ میں شامل ہو جائیں۔”

صدر اوباما کی مدت صدارت ختم ہونے کے دو ہفتوں کے دوران اگر مزید قیدیوں کو دیگر ملکوں میں منتقل کیا جاتا ہے تو میڈیا میں سامنے آنے والی خبروں کے مطابق انہیں اٹلی، عمان یا متحدہ عرب امارات بھیجا جا سکتا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY