پیوٹن نے امریکی انتخاب پر اثرانداز ہونے کا ’حکم‘ دیا تھا: خفیہ رپورٹ

0
260

جمعے کے روز افشا کی گئی امریکی انٹیلی جنس کی تازہ ترین ’ڈی کلاسی فائیڈ‘ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکی صدارتی انتخاب پر اثرانداز ہونے کی آن لائن کوشش کا ’’حکم‘‘ دیا تھا۔

اِس رپورٹ میں، جسے منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو دی جانے والے سرکاری بریفنگ کے چند ہی گھنٹوں کے اندر جاری کیا گیا، بتایا گیا ہے کہ روسی انٹلی جنس اداروں نے 2016ء کے انتخابات سے وابستہ اہداف کے خلاف سائبر کارروائیاں کیں، جن میں دونوں اہم سیاسی پارٹیاں شامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’ہمیں مزید پتا چلا ہے کہ پیوٹن اور روسی حکومت نے منتخب صدر، ٹرمپ کے لیے واضح ترجیح کا منصوبہ تیار کیا تھا‘‘۔

اس میں کہا گیا ہے کہ ’’ہم نے یہ بھی اندازہ لگایا ہے کہ پیوٹن اور روسی حکومت کی یہ خواہش تھی کہ منتخب صدر کے انتخاب کے امکانات میں مدد دی جائے، جب کہ، جہاں کہیں ممکن ہو سابق وزیر خارجہ، کلنٹن کو بدنام کیا جائے، جِن (ہیلری) کا عوام کی نظروں میں، اُن (ٹرمپ) کے برعکس، ناموافق تاثر پیدا کیا جائے ‘‘۔

دیگر حقائق:

پیوٹن کا متعدد مغربی سیاسی رہنماؤں کے ساتھ مثبت کام کا تجربہ ہے، جن کے کاروباری مفادات اُن کو روس سے لین دین کے لیے زیادہ آمادہ کرتے ہیں۔

ماسکو کی قربت کی مہم سے قبل روس کی جانب سے پیغام رسانی کی حکمت عملی کا سلسلہ چلتا ہے، جس میں انٹیلی جنس کی پوشیدہ کارروائیاں کی جاتی ہیں، جیسا کہ سائبر کی حرفت؛ جب کہ پس پردہ روس کے سرکاری اداروں کی سرگرمیان شامل ہیں، جن میں ابلاغ عامہ کے لیے سرکاری رقوم کی پیش کش، ثالثی کا کردار ادا کرنے والے دور کے فریق، اور سماجی میڈیا کے اجرتی صارفین شامل ہوتے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY