کے الیکٹرک کو اس وقت حکومتی ارکان کی سخت برہمی کا سامنا کرنا پڑا جب وفاقی حکام نے اس دعوے کو مسترد کردیا کہ شہر میں لوڈ شیڈنگ شارٹ فال کی وجہ سے کی جارہی ہے اور خبردار کیا کہ اگر ادارہ اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے میں ناکام رہا تو حکومت اسے اپنی تحویل میں لے سکتی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق گورنر ہاؤس میں وزیر منصوبہ بندی اسد عمر اور گورنر سندھ عمران اسمٰعیل کی مشترکہ سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں یہ انتباہ دیا گیا۔

دونوں نے کے الیکٹرک کے سینئر عہدیداران پر سخت برہمی کا اظہار کیا جنہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کے اہم رہنماؤں کو حالیہ بجلی بحران کی وجوہات پر بریفنگ دی۔

اجلاس میں کراچی سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی اراکین اسمبلی نے بھی شرکت کی جبکہ وفاقی حکومت کے دیگر اراکین ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔

اجلاس کے حوالے سے ایک بیان کے مطابق کے الیکٹرک نے 250 میگا واٹ کے شارٹ فال کا ذکر کیا جس کے جواب میں گورنر سندھ نے کے الیکٹرک کو کہا کہ ’شارٹ فال سے شہر میں ایک آدھ گھنٹے کے لیے بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے لیکن کے الیکٹرک 6 سے 7 گھنٹوں تک بجلی بند رکھتی ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے کمپنی کو ہر چیز فراہم کی ہے اور ہر مطالبہ پورا کیا ہے لیکن ادارہ کوئی بہتری دکھانے میں ناکام رہا، وفاقی حکومت اب بھی نیشنل گرڈ سے اضافی بجلی کی پیش کش کررہی ہے لیکن کے الیکٹرک کا سسٹم 720 میگا واٹ سے زائد بجلی نہیں لے سکتا‘۔

انہوں نے کہا کہ کمپنی نے صلاحیت میں اضافے کے لیے گزشتہ کئی سال سے کوئی سرمایہ کاری نہیں کی اور اب عوام کو اپنی ناکام پالیسیز سے سزا دے رہی ہے۔

گورنر سندھ نے کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ کے الیکٹرک کو صارفین سے زیادہ اپنے منافع کی فکر ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کمپنی کو 4 ہزار 500 ٹن فرنس آئل فراہم کررہی تھی اور مزید 500 ٹن کی پیشکش کی ہے اور اگر بن قاسم پاورپلانٹ پر گیس پریشر میں مسئلہ ہے تو اسے فرنس آئل پر چلایا جاسکتا ہے۔

سیاسی جماعتوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے احتجاجی مظاہروں، صارفین کے غصے اور کے الیکٹرک کی خراب کارکردگی نے وزیراعظم عمران خان کی بھی توجہ حاصل کی ہے جنہوں نے اپنی ٹیم کو کمپنی انتظامیہ سے ملاقات کرنے اور کراچی کے شہریوں کو درپیش مسائل کا حل نکالنے کی ہدایت کی تھی۔

اس سے قبل گورنر سندھ عمران اسمٰعیل نے اسلام آباد میں وزیراعظم سے ملاقات کی اور انہیں شہر میں بجلی بحران اور سندھ میں کورونا وبا کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کے حوالے سے آگاہ کیا تھا۔

وزیراعظم کی ہدایات کے ایک روز بعد وفاقی وزیر اسد عمر کراچی پہنچے اور گورنر سندھ کے ہمراہ کے الیکٹرک انتظامیہ سے ملاقات کی اور انہیں سخت تنبیہ کی۔

SHARE

LEAVE A REPLY