حُسین شناسی کا سفر۔1۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
1003

سڈنی میں مقیم ڈاکٹر نگہت نسیم کا قلمی سفر طویل اور ہمہ جہت ہے انکو نظم ونثر دونوں پر دسترس حاصل ہے وہ کئی کتابوں کی مصنف ہیں۔ اس برس انہوں نے ۔۔حُسین شناسی کا سفر۔۔۔ کے عنوان سے ایک طویل عزائی نظم کہنے کا اہتمام کیا ہے جو عالمی اخبار کے لیئے خاص طور پر لکھی گئی اور کئی اقساط میں شائع ہو گی۔ ادارہ عالمی اخبار انکی صحت و سلامتی کے لیئے دعا گو ہے

ادارہ عالمی اخبار

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پہلی قسط

اکثر لوگ مجھ سے
وہی سوال پوچھا کرتے ہیں
جو کبھی میں اپنی جنت مکانی ماں سے پوچھا کرتی تھی
محرم کے آتے ہی
آپ اداس سوگوار کیوں ہو جاتی ہیں
گریہ
پیاس
شام غریباں بار بار کیوں سناتی ہیں
وفا کے تصور کو کیسے تصویر کرتی ہیں
میری ماں
غم کی تاریخ
ہر سال اسی شدت سے بتایا کرتی تھیں
جس شدت سے میں یاد رکھا کرتی ہوں
پر ۔۔۔ مجھ سے
سوال کرنے والے اکثر یہ تاریخ بھول جاتے ہیں
شاید۔۔۔ شاید
ان کی ماؤں نے انہیں بتایا نہیں تھا
جیسا میری ماں نے مجھے سمجھایا تھا
پہلے وہ حق اور باطل کو آمنے سامنے رکھا کرتیں
پھر۔۔۔۔ کرب و بلا میں
کیسے ابد تک حق سرخرو ہوا بتایا کرتیں
پر ۔۔۔۔ کیا کروں
تھال میں رکھا
وہ پرنور سر مبارک
نظروں سے ہٹتا ہی نہ تھا
کیسے بتاوں
میرے کاندھوں پر معصوم سوالوں کا کتنا بوجھ تھا
اور ۔۔۔۔
ایک ختم نہ ہونے والا کیسا رنج و ملال تھا
میں اب بھی
کبھی کبھی سمجھ نہیں پاتی
آخر مسلمانوں کا آپس میں
ایسا کیا اور کیوں جھگڑا تھا
جو رہتی دنیا تک
حق اور باطل میں ایک لکیر کھینچ گیا
اکسٹھ ہجری کا باب کھلا
نواسہ رسول ، جگر گوشہ بتول
امام حسین علیہ السلام نے
کربلا کی تپتی ریت پر پیاس کو یوں امر کیا
کہ
رہتی دنیا تک حق تھال میں رکھا رہ گیا
امام حسین علیہ السلام کون تھے ؟
وہ کیوں اپنے جگر گوشوں کے ساتھ نہتے نکل آئے تھے ؟
اور وہ ان کے ساتھ لڑنے والے کون تھے ؟
امی جی بتایا کرتیں کہ وہ بھی مسلمان تھے
اورجنت کے طلبگاربھی تھے
میرے معصوم ذہن میں ایک سوال اٹکا رہ گیا
دل میں جیسے ایک پھانس چبھی رہ گئی
وہ اگر مسلمان تھے اور جنت میں بھی جانا چاہتے تھے
تو ۔۔۔ پھر ۔۔۔۔
جنت کے سردار کے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ کیوں کیا ؟
کرب و بلا میں گھیر کر کیوں قتل کر دیا ۔۔۔۔

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY