حسین والوں کو راہِ بقا بلاتی ہے ,ندیم صدیقی

0
965

حسین آئے ہیں ، کرب و بلا بُلاتی ہے
آنسوؤ ! آؤ زمینِ عزا بُلاتی ہے
غمِ حسین کی کالی گھٹا بلاتی ہے
حسین والو! عزا کی جزا بلاتی ہے
کہ جن کا حسنِ تبسم نبیؐ کی راحت تھا
اُنہی کی آج بھی آہ و بُکا بلاتی ہے
حسین جیسا نسب ہے، نہ جرأتِ انکار
یہ اہلِ کوفہ کی، کس کو جفا بلاتی ہے
کسی کے نام سے ہم کو بھی مل گئی عزّت
کسی کے نام کو ذِلت سَدا بلاتی ہے
ہمارے خواب کی تعبیر کوئی بتلائے
کہ سمتِ شام سے کوئی بُکا بلاتی ہے
ہمیں تو خطبۂ زینب بھی یاد ہے اب تک
جو سَر سے کھینچی گئی تھی رِدا ، بلاتی ہے
یہ کون پیاس کے صحرا میں پا بجولاں ہے
یہ میری روح کو کس کی صدا بلاتی ہے
سنو گے! اشک سے تطہیرِ روح ہوتی ہے
کہ اہلِ دل ہی کو کرب و بلا بلاتی ہے
وہ دیکھو حُر کو کہ حق کی طرف کھِنچا آیا
ہمیں ضمیر کی اب تک صدا بلاتی ہے
چلے بھی جاؤ ہَوا نے بجھا دِیے ہیں چراغ
چلے بھی جاؤ کہ تم کو ہَوا بلاتی ہے
کسی کی بیعتِ باطل رِجھا رہی ہے ہمیں
کسی کی بیعتِ حق کی ندا بلاتی ہے
ہماری صف میں بھی پوشیدہ ابنِ ملجم ہیں
علی کے بغض میں، ہم کو قضا بلاتی ہے!
یزید والوں کی روحیں بھٹک رہی ہیں ندیمؔ
حسین والوں کو راہِ بقا بلاتی ہے
ندیم صدیقی

SHARE

LEAVE A REPLY