بارہویں قسط
امام حسین عليہ السلام نے اپنا سفر کوفہ جاری رکھا
مقام بیضہ پر آپ ع نے خطبہ دیا
بیضہ کا مقام مکہ اور کوفہ کے قدیمی راستے کے درمیان واقع ہے
جو بنی یربوع بن حنظلہ کی زمین میں واقع ہے
اور واقصہ اور عذیب الہجانات کے نزدیک ہے
جس میں اپنے مقاصد کی وضاحت کی
امام حسین عليہ السلام نے خدا کی حمد و سپاس کے بعد فرمایا
“ اے لوگو
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
جوشخص کسی ایسے بادشاہ کو دیکھتا ہے جو ظالم و جابر ہے
جو اللہ رب العزت کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کررہاہے
خدا سے کیئے ہوئے عہد کو توڑ رہا ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو تہس نہس کر رہا ہے
خدا کے بندوں پر گناہ اور زیادتی کے ساتھ حکومت کررہا ہے
اور پھر بھی اس شخص کو غیرت نہ آئے
وہ نہ زبان سے وہ اس ظالم کے خلاف آواز اٹھاتا ہے
نہ عملی طور پر ظالم کے خلاف آواز اٹھاتا ہے
تو ۔۔خدا کو یہ حق ہے
کہ ۔۔۔
وہ اس ظالم بادشاہ کی جگہ
اس شخص کو دوزخ کی آگ میں جھونک دے
لوگو.۔۔
خبر دار ہوجاؤ
یہ لوگ شیطان کی اطاعت قبول کر چکے ہیں
اور رحمان کی اطاعت سے آزاد ہوگئے ہیں
ان لوگوں نے خدا کی زمین کو فساد سے بھر دیا ہے
حدود اللہ کو پامال کردیا ہے
مال غنیمت میں سے اپنے لئے زیادہ وصول کرنے لگے ہیں
خدا کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال کر لیا ہے
اور۔۔۔۔ حلال چیزوں کو حرام کر دیا ہے
اس لئے
مجھ کو غیرت میں آنے کا زیادہ حق ہے
تمہارے خطوط میرے پاس آئے
تمہارے قاصدین اس بات پر تمہاری بیعت کی خبر لے کر آئے
کہ ۔۔ تم لوگ مجھے تنہا نہیں چھوڑو گے
اگر تم نے۔۔
اپنے وعدہ بیعت کو پورا کیا تو تم رشد و کمال کو پاؤ گے
میں علی اور فاطمہ بنت رسول اللہ کا بیٹا حسین ہوں
میں تمہارے ساتھ ہوں
میرے اہل خانہ تمہارے اہل خانہ کے ساتھ ہیں
میں تمہارے لئے ۔۔۔ تمہارے لئے اسوہ ہوں
اگر تم نے
اسوہ پورا نہ کیا ۔۔ تم نے اپنے عہد کو توڑا
اور ۔۔ میری بیعت سے اپنی گردنوں کو آزاد کیا
تو ۔۔ خدا کی قسم !
تو یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے
کیونکہ ۔۔۔ تم نے اس سے پہلے
میرے باپ ۔۔ میرے بھائی اور میرے بھتیجے کے ساتھ ایسا ہی کیا
اس نے دھوکہ کھایا ہے جس نے تم سے دھوکہ کھایا ہے
تم نے اپنی سعادت میں خطا کی
اور تم ہی ہو جس نے اپنا حصہ ضائع کیا
جس نے (اپنے) عہد کو توڑا تو اس نے اپنے نفس کا نقصان کیا
جلدی خدا مجھے تم سے بے نیاز کر دے گا
تم پر اللہ کی سلامتی، رحمت اور برکات نازل ہوں “
لشکرحر
جو اب آپ کا خطبہ سن چکا تھا
اب آگے چلنے کو بیتاب تھا
خطبہ ختم ہوتے ہی پھر سے چلنا شروع ہو گیا
کچھ دورجا کر راستے میں طرماج بن عدی سے آپ کی ملاقات ہوئی
انہوں نے
آ پ کویمن چلنے کی دعوت دی
لیکن آپ نے یہ پیشکش شکریہ کے ساتھ ٹال دی
امام حسین عليہ السلام کا قافلہ
اور حر بن یزید تمیمی کا لشکر ساتھ ساتھ آگے کی طرف چلتا رہا
جہاں کہیں آپ ع کے قافلے کا رخ صحرائے عرب کی طرف ہو جاتا
حر بن یزید تمیمی
آپ کو روک دیتا اور رخ پھیر کر کوفے کی طرف کر دیتا
چلتے چلتے امام حسین علیہ السلام ع نینوا پہنچ گئے
جاری ہے













