ینسٹھ کی جنگ میں اپنی جرت مندانہ صلاحیتوں سے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کرنے والے ایم ایم عالم نے تاریخ رقم کی۔ محمد محمودعالم (جنہیں ایم ایم عالم بھی کہا جاتا ہے) پاکستان کے جنگی ہوا باز تھے۔ جن کی وجہ شہرت گنیز بک ورلڈ ریکارڈ میں ایک منٹ میں سب سے زیادہ طیارے مار گرانے کا ریکارڈ ہے۔
پینسٹھ کی جنگ میں سکاڈرن لیڈر ایم ایم عالم کا نہ بہلائے جانیوالا کارنامہ، چھ ستمبر کو ایف ایٹی سکس صابری جیٹ میں اڑان بھری اور دشمن کی سر حد کو چیرتے ہوئے دشمن پر زرب کر سنبھلنے کا موقع نہ دیا۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے کچھ ہی لمحوں میں دشمن کے نو جہاز تباہ کر ڈالے۔
ایم ایم عالم نے پاکستان کے دفاع میں جرات و بہادری کی وہ مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک یاد رکھ جائے گی۔ ایم ایم عالم کی زندگی کی کچھ جھلکیاں پی اے ایف میوزیم میں بھی قید ہیں۔ پی اے ایف میوزیم میں ایم ایم عالم کا مجسمہ اور ان کا وہ جہاز کھڑا ہے، جس نے دشمن کی فضائی طاقت کو نیست و نابود کیا۔ میوزیم میں ایم ایم عالم کے نام سے ایک کارنر بھی مختص کیا گیا ہے۔ ایم ایم عالم ایک بہادر جنگجو، سپاسلار اور قومی فخر ہیں۔ ان کے کارنامے اور جزبہ حب الوطنی رہتی دنیا تک لوگوں کے ذہنوں میں اپنا گھر کر گئیں ہیں۔
واضع رہے کہ سکواڈرن لیڈر محمد محمود عالم کو یہ عزاز جاصل ہے کہ انھوں نے 1965 کی پاک بھارت جنگ میں سرگودھا کے محاذ پر پانچ انڈین ہنٹر جنگی طیاروں ایک منٹ کے اندر اندر مار گرایا، جن میں سے چار تیس سیکنڈ کے اندر مار گرائے گئے تھے۔ یہ ایک عالمی ریکارڈ تھا۔ اس مہم میں عالم صاحب ایف 86 سیبر طیارہ اڑا رہے تھے جو اس زمانے میں ہنٹر طیارے سے تینکی اعتبار فر و تر تھا۔ مجموعی طور پر آپ نے نو طیارے مار گرائے اور دو کو نعقصان پہنچایا ہے۔ جن میں چھ ہاک ہنٹر طیارے تھے۔
1965کی جنگ کے بعد 1967 میں آپ کا تبادلہ بہ طور اسکواڈرن کمانڈر برائے اسکواڈرن اول کے طور پر ڈسالٹ میراج سوم لڑاکا طیارہ کیلئے ہوا، جو پاکستان ایئر فورس نے بنایا تھا۔ 1969 میں ان کو اسٹاف کالج کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ 1972 میں انہوں نے 26ویں اسکواڈرن کی قیادت دو مہینوں کیلئے کی۔ بنگالی ہونے کی وجہ سے 71 کی جنگ میں آپ کو ہوائی جہاز اُڑانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
جولائی 1935 کو کلکتہ کے ایک خوشحال اور تعلیم یافتہ گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ثانوی تعلیم 1951 میں سندھ گورنمنٹ ہائی سکول ڈھاکہ (سابقہ مشرقی پاکستان )سے مکمل کی۔ 1952 میں فضائیہ میں آئے اور 2 اکتوبر 1953 کو کمیشنڈ عہدے پر فائز ہوئے۔ ان کے بھائی ایم شاہد عالم ایک معاشیات کے پروفیسر تھے۔ نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی میں اور ایک اور بھائی ایم سجاد البانی میں طبعیات دان تھے۔ 1965 کی جنگ میں پاکستان کے لیے نمایاں کارنامہ انجام دیا۔













