سپریم کورٹ میں پاناما کیس پر درخواستوں کی سماعت

0
231

سپریم کورٹ میں پاناما کیس پر درخواستوں کی سماعت کے دوران وزیراعظم کی وکیل مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ اراکین اسمبلی کی نااہلی کے لیے ٹھوس شواہد کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ ٹھوس شواہد کے بغیر نااہلی نہیں ہو سکتی۔

وزیر اعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے خلاف آرٹیکل 62 کے تحت نااہلی کے لیے عدالتی ڈیکلیئریشن ضروری ہے،آرٹیکل 62، 63 کے تحت نا اہلی کے لیے کسی حوالے سے سزا یافتہ ہونا ضروری ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تعلیمی قابلیت کے جعلی ہونے اور اثاثے چھپانے کے معاملے پر نااہلی آرٹیکل 62 کے تحت ہو سکتی ہے تاہم نااہلی کا معاملہ کاغذات نامزدگی کے وقت اٹھایا جاسکتا ہے اور الیکشن کے بعد نااہلی کا معیار کم نہیں ہوسکتا۔

مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ الیکشن کے بعد صرف کووارنٹو کی درخواست دائر ہو سکتی ہے

جس پر جسٹس آصف کھوسہ کا کہنا تھا کہ آپ جن مقدمات کا حوالہ دے رہے ہیں وہ الیکشن کمیشن کے خلاف تھے ٹریبونل کے خلاف نہیں۔

دوران سماعت مخدوم علی خان نے جہانگیر ترین کیس کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ صدیق بلوچ کی نااہلی کا فیصلہ ٹریبونل سطح پر ہوا تھا مگر سپریم کورٹ نے ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اراکین اسمبلی کی نااہلی کے لیے ٹھوس شواہد کی ضرورت ہوتی ہے اور ٹھوس شواہد کے بغیر نااہلی نہیں ہو سکتی۔

مشرف کی نااہلی کا حوالہ دیتے ہوئے مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ ان کا فیصلہ عدالتی فیصلوں کی روشنی میں ہوا اور آرٹیکل 62 ون ایف کے اطلاق کے بھی ضابطے موجود ہیں۔

جس پر جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ مشرف کیس میں ڈیکلیئریشن سپریم کورٹ نے دیا تھا۔

عدالت کا مزید کہنا تھا کہ اس فیصلے میں مشرف کی جانب سے حلف کی خلاف ورزی قرار دی گئی تھی۔

جس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ نااہلی کے لیے پہلے ڈیکلیئریشن ہونا ضروری ہے، ڈیکلیئریشن اور نااہلی ایک ساتھ نہیں ہو سکتے۔

وزیراعظم کے پارلیمنٹ کے خطاب پر بات کرتے ہوئے وکیل مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ غلط بیانی اور جھوٹ کے تعین کے لیے بھی ضابطہ موجود ہے، وزیراعظم کے قومی اسمبلی سے خطاب کو ماضی میں بھی چیلنج کیا گیا۔

جس پر جسٹس شیخ عظمت نے استفسار کیا کہ یہ شاید وہی خطاب تھا جو وزیراعظم نے دھرنے کے دوران کیا تھا۔

مخدوم علی خان نے وضاحت دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ اس وقت بھی وزیراعظم پر سچ نہ بولنے کا الزام عائد کیا گیا تھا اور اسپیکر نے ڈیکلیئریشن کے بغیر ریفرینس کو مسترد کر دیا تھا جبکہ لاہور ہائیکورٹ نے اسپیکر کے فیصلے کو قانون کے مطابق قرار دیا تھا اور سپریم کورٹ نے بھی لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

مخدوم علی خان کے ان دلائل کے بعد سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کو پیر (16 جنوری) تک ملتوی کردیا، اگلی سماعت میں بھی مخدوم علی خان اپنے دلائل کا سلسلہ جاری رکھیں گے

SHARE

LEAVE A REPLY