ایران نے کہا ہے کہ وہ اپنے دفاع کے معاملے میں خود کفیل اور اسلحے کی خرید و فروخت سے متعلق اقوامِ متحدہ کی پابندی ختم ہونے کے باوجود اسے کسی دوسرے ملک سے ہتھیار خریدنے کی ضرورت نہیں۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے دفاع کی بنیاد اپنے عوام پر بھرپور انحصار اور اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ غیر روایتی اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی خریداری، ایران کے دفاعی نظریے میں شامل نہیں ہے۔
خیال رہے کہ سن 2007 میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے ایران پر ہتھیاروں کی خریداری پر لگائی گئی پابندی اتوار کو ختم ہو گئی ہے۔ امریکہ نے اقوامِ متحدہ کی پابندیاں ختم ہونے کے باوجود یکطرفہ طور پر ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دی تھیں جب کہ اس نے دیگر ممالک پر بھی زور دیا تھا کہ وہ بھی امریکی اقدام کی پیروی کریں۔
ایران کے ساتھ 2015 میں طے پانے والے معاہدے کے تحت جس میں روس، چین، جرمنی، برطانیہ، فرانس اور امریکہ شامل تھے۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ تہران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے ایران پر عائد پابندیاں بتدریج اُٹھا لی جائیں گی۔
ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا کہ اقوامِ متحدہ کی پابندیاں اُٹھائے جانے سے ایران کے دیگر ممالک سے دفاعی تعاون کا راستہ کھل گیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس سے خطے میں امن اور سیکیورٹی کی صورتِ حال بہتر ہو گی۔













