حُسین شناسی کا سفر۔93۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
576

قسط 93

آیئے تحریک حسینی کو
ایک اور نگاہ بصیرت سے دیکھتے ہیں
ظاہری نگاہ میں
آپ ع کي يہ تحريک و قيام
ايک فاسق، ظالم اور منحرف يزيدي حکومت کے خلاف تھا
ليکن بصیرت کی نگاہ میں
ظاہري و معمولي
اور آدھے دن ميں ختم ہو جانے والي يہ تحريک
درحقيقت ايک بہت بڑي تحريک تھي
کہ
یہ انسان کي جہالت و پستي کے خلاف
امام حسین علیہ السلام کي تحريک ہے
صحيح ہے
کہ
امام حسين ع گرچہ يزيد سے مقابلہ کرتے ہيں
ليکن
يہ امام عالي مقام ع کاصرف
يزيد جيسے بے قيمت اور پست انسان سے
تاريخي اور عظيم مقابلہ نہيں ہے
بلکہ
انسان کي
جہالت وپستي ، ذلت و رُسوائي اور گمراہي سے مقابلہ ہے
اور ۔۔ درحقيقت
امام حسین علیہ السلام نے اِن سے جنگ کي ہے
روحانيت اور معنويت کي دنيا ميں
محبت اور مہرباني کا اپنا ايک خاص اور الگ مقام ہے
نہ مہرباني، دليل و برہان کي جگہ لے سکتي ہے
اور نہ ہي دليل و برہان ، مہرباني ،احساسات کي جگہ پُر کرسکتے ہیں
واقعہ کربلا
اپني ذات اور حقيقت ميں
مہرباني اور محبت کے جذبات و احساسات لئے ہوا ہے
ايک ايسے
اعليٰ صفت اورپاک و پاکيزہ نوراني انسان کي ملکوتي شخصيت ميں
نقص و عيب اور دھوکہ و فريب کا دور دور تک کوئي شائبہ نہيں ہے
جو ايک عظيم ہدف کيلئے
تحريک کا آغاز کرتے ہیں
اور اپني تحريک کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں
کہ
ان کا قیام اس کے خلاف ہے
جو بندگانِ خدا پر
ظلم و جوراورگناہ و معصيت سے حکومت کر رہا ہے
ايسا انسان
اپنے ايسے بلند اور مقدس ہدف کي راہ ميں
جنگ اورمبارزے کي سختيوں اور مصائب کو تحمل سے برداشت کرتا ہے
اسلام کي کسي جنگ ميں
جب حق و باطل کے لشکر مقابلے کيلئے صف آرا ہوئے
تو محاذ جنگ ميں
سرفہرست رہنے والي شخصيات ميں
پيغمبر اکرم ص اور امير المومنين علی علیہ السلام پيش پيش تھے
پيغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے سپاہيوں سے پوچھا کرتے
کہ
’’کون ہے جو ميدان جنگ ميں جائے
تاکہ
دشمن کے فلاں معروف جنگجو کو قتل کرسکے‘‘
سپاہ اسلام ميں سے کوئی نوجوان حامي بھرتا
تو
رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
اُس کے سر پر ہاتھ پھيرتے
اور
آگے تک اُس کے ساتھ جاتے
باقی مسلمان بھی اُس کيلئے دعا کرتے
اور يوں نوجوان
ميدانِ جنگ ميں قدم رکھتا ہے
جہاد کرتا ہے اور درجہ شہادت پر فائز ہو جاتا
يہ ايک قسم کا جہاد کرنا اور شہید ہونا ہے
ايک اور قسم کا جہاد وہ ہے
کہ
جب انسان ميدان جنگ ميں قدم رکھتا ہے
تو
معاشرے کي اکثريت
يا تو اُس کي منکر و مخالف ہے
يا۔۔۔ اس کي شخصيت اور مقام و منزلت سے غافل ہے
يا اُس سے کنارہ کشي اختيار کيے ہوئے ہے
يا اُس سے مقابلے کيلئے نيزوں ،تلواروں کو ہوا ميں لہرا رہي ہے
اور وہ افراد
جو اپنے قلب سے
اُس کو داد و تحسين دينے والے ہيں وہ تعداد ميں بھي کم ہيں
اور ستم
کہ
وہ اُس کو زباني داددينے کي جرآت نہيں رکھتے
تحريک کربلا ميں
’’عبد اللہ ابن عباس اور ’’عبد اللہ ابن جعفر‘‘ جيسے افراد
جو خاندان بني ہاشم سے تعلق رکھتے ہيں
اور
اِسي شجرہ طيبہ سے متصل ہيں
لیکن جرآت نہيں کرتے
کہ
مکہ يا مدينہ ميں کھڑے ہوکر فرياد بلند کريں
اور
امام حسين کيلئے اور اُن کي حمايت ميں نعرے لگائيں
يہ ہے غريبانہ جنگ اور مبارزہ !
اوريہ ايسي سخت ترين جنگ ہے
کہ
جہاں تمام افراد
اِس لڑنے والے انسان سے
روگرداں اور اُس کے دشمن ہوں
امام حسين کي جنگ ميں
اُن کے بعض دوستوں نے بھي اُن سے منہ موڑ ليا تھا
جيسا
کہ
اُن ميں سے ہی ايک سے جب سيد الشہدا نے کہا
کہ
’’آو ميري مدد کرو‘‘
تو
اُس نے مدد کرنے کے بجائے
اپنا گھوڑا بھيج ديا اور کہا
کہ
’’ميرے گھوڑے سے استفادہ کيجئے‘‘
اِس سے بھي بڑھ کر
غربت و تنہائي اور کيا ہو گي
اِس غريبانہ جنگ سے بڑھ کر اور کون سي جنگ ہے؟
غربت و تنہائي کي جنگ ميں
ان کے عزيز ترين افراد کو
ان کي آنکھوں کے سامنے ٹکڑے ٹکڑے کرديا جاتا ہے
ان کے بھتيجے، بيٹے، بھانجے، بھائي، چچا زاد بھائي
بہترين اصحاب اور گل ہائے بني ہاشم
ان کے سامنے ايڑياں رگڑ رگڑ کر جان دے ديتے ہيں
حتيٰ ۔۔کہ
ان کے شير خوار چھ ماہ کے بچے کو شہید کر ديا جاتا ہے
اِن تمام مصائب اور جان فرسا سختيوں کے علاوہ
وہ یہ بھی جانتے ہیں
کہ
جيسے ہي ان کي روح ان کے جسم سے جدا ہوگي
اُن کے اہل و عيال
بے پناہ و بے دفاع ہوجائيں گے
اور دشمن کے حملوں کا نشانہ بنيں گے
سید الشہداء امام حسین علیہ السلام
میدان کربلا کے آخری شہید ہیں
امام حسین ع کا یہ ایثار اور قربانی
تاریخ اسلام کا ایک ایسا درخشندہ باب ہے
جو
رہروان منزل شوق و محبت اور حریت پسندوں کے لیے
رہتی دینا تک ایک اعلیٰ ترین مثال ہے
سانحہ کربلا
آزادی کی اس جدوجہد کا نقطہ آغاز ہے
جو
اسلامی اصولوں کی بقا
اور
احیا کے لیے تاریخ اسلام میں پہلی بار شروع کی گئی

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY