بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان نے کہا ہے کہ عمران خان نے اپنی صحت سے متعلق شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عظمیٰ خان نے کہا کہ انہیں گزشتہ رات اڈیالہ سے پمز اسپتال لے جایا گیا، وہ کمرے میں پہنچیں تو عمران خان وہاں پہلے سے موجود تھے۔
عظمیٰ خان نے کہا کہ خیال تھا کہ پمز اسپتال سے شفا اسپتال لے جائیں گے مگر صبح عمران خان کو واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
’عمران کو صحت مند قرار دیا گیا‘، عطا تارڑ نے بانی پی ٹی آئی کے پمز اسپتال میں معائنے اور واپسی اڈیالہ جیل منتقلی کی تصدیق کردی
ڈاکٹر عظمیٰ خان نے مزید کہا کہ عمران خان نے اپنی صحت سے متعلق شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، قید تنہائی کی وجہ سے عمران خان کو اینزائیٹی ہو گئی ہے، بلڈ پریشر کی مسلسل شکایت رہتی ہے، ان کی بات نہیں سنی جاتی اور کسی شخص کو ان کے قریب نہیں جانے دیا جاتا۔
پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ رات کو اڈیالہ جیل سے شفا اسپتال پہنچے جہاں 3 گھنٹے انتظار کروایا گیا، صبح ساڑھے چار بجے بتایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کو شفا اسپتال نہیں لایا جائے گا اور وہ پمز اسپتال سے واپس اڈیالہ جا چکے ہیں۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان ملک کےسابق وزیراعظم ہیں ان کے ساتھ یہ رویہ ہے تو عام پاکستانی کےساتھ کیا ہوگا، حکومت نے جو کیا وہ عدالتی حکم کی توہین ہے، عدالت کواس کا نوٹس لینا چاہیے۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ عمران خان کو میڈیکل چیک اپ کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے اور ان کا مکمل طبی معائنہ کرایا جائے تاہم گزشتہ روز حکومت نے عمران خان کو پمز اسپتال منتقل کیا جہاں ڈاکٹرز نے ان کا طبی معائنہ کیا اور پھر رات دیر گئے عمران خان کو دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
اس حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ قیدی کو 20 اور 21 اگست کی درمیانی شب حفاظتی انتظامات کے تحت اسپتال لے جایا گیا جہاں ماہرِ امراض چشم، ماہرِ امراض قلب اور فزیشن سمیت مستند ڈاکٹروں نےان کامعائنہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کی طرف سے جو سکیورٹی کی صورتحال الشفا اسپتال کے راستے میں اور باہر پیدا کی گئی اس کے پیش نظر ان کو پمز اسپتال لے جایا گیا جہاں الشفا اسپتال کے ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔













