وزیر اعظم عمران خان نے سینیٹ کی نشست خریدنے سے متعلق متنازع ویڈیو کے بارے میں کہا ہے کہ اب یہ سوال نہیں بنتا کہ ویڈیو کہاں سے اور اس وقت منظر عام پر کیوں آئی بلکہ اگر یہ ویڈیو پہلے منظر عام پر آتی تو میرے خلاف 2 سال سے دائر مقدے میں سود مند ثابت ہوتی تاہم معاملے کی تحقیقات کے لیے 3 رکنی کمیٹی بنادی ہے۔
نجی چینل ‘اے آر وائی’ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 30 سال سے سب کو معلوم تھا کہ سینیٹ انتخابات میں پیسہ چلتا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بلوچستان میں سینیٹر بننے کے لیے قیمت 50 سے 70 کروڑ روپے ہوچکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ سینیٹ کی نشست کے لیے خرید و فروخت کرے اپنے ضمیر کا سودا کررہے ہیں وہ ملک میں جمہوریت اور عوام کی فلاح وبہبود کے لیے کیا کام کریں۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ‘ایسے ماحول میں ہم ضمیر فروش تھانے دار اور پٹواری کو کیسے غیر جانبدار بنائیں گے’۔
انہوں نے بتایا کہ ‘تین رکنی کمیٹی بنا دی ہے جو ایف آئی اے سمیت مختلف متعلقہ اداروں کے تعاون سے تحقیقات کرے گی اور اس کے بعد نتائج الیکشن کمیشن کو ارسال کرے’۔
عمران خان نے کہا کہ تحقیقاتی کمیٹی آج ہی تشکیل کی ہے جو اپنی سفارشات بھی پیش کرے گی اور اگر ضرورت پڑی تو معاملہ نیب میں جا سکتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 2018 میں ہمارے 20 اراکین اسمبلی کو ووٹوں کی فروخت پر شوکاز نوٹس دینے کے بعد پارٹی سے بے دخل کیا گیا، اس وقت ہماری ایک کمیٹی نے ویڈیو پیش کی لیکن حوالے نہیں کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ آئین میں ترمیم سے متعلق ہماری پٹیشن 5 ماہ سے موجود ہے۔
اسلام آباد میں سرکاری ملازمین کی جانب سے تنخواہ میں اضافے کے لیے احتجاج پر کہا کہ ملک سابق حکومتوں کے لیے گئے قرضوں کا سود ادا کررہا ہے، وسائل کی کمی کی وجہ سے مزید قرضے لینے پڑتے ہیں تاہم ملازمین کی تنخواہ میں اضافہ کیا ہے لیکن انہیں تھوڑا صبر سے کام لینا چاہیے۔
انہوں نے حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ (پی ڈی ایم) کو ‘چور بچاؤ موومنٹ’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو جہاں اپنی چوری چھپانے اور حکومت کو غیر مستحکم کرنے کا موقعہ ملتا ہے اور اسے استعمال کرتے ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ‘میں ٹی ایل پی اور ملک کے لوگوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ ناموس رسالت کے معاملے میں جو سخت مؤقف اختیار عالمی سطح پر اختیار کیا اس کی مثال نہیں ملتی’۔
انہوں نے کہا کہ مغرب میں ایک فتنہ سازش کے ذریعے سارے فساد پھیلا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تک مسلم ممالک کے سربراہان اس معاملے پر بات نہیں کریں گے، ہمارا پیغام موثر نہیں ہوسکتا۔












