مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 میں دوبارہ ضمنی الیکشن کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈسکہ نے پورے پاکستان کا مقدمہ لڑنا ہے۔
ڈسکہ میں اپنے کارکنوں سے خطاب میں مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ آٹا، چینی، بجلی اور ووٹ چوری کے بعد انتخابی عملہ بھی چوری کر لیا گیا۔ جب پوچھا گیا کہاں تھے؟ کون لے کر گیا؟ تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ترجمانوں کی فوج نے دھند کا بہانہ بنا دیا۔ ایسی کون سی دھند تھی کہ فون بند ہو جاتے ہیں۔ پریذائڈنگ افسران چودہ گھنٹے غائب رہتے ہیں۔
لیگی رہنما نے کہا کہ عوام نے ووٹ پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو شکست دے دی، ان کی ڈسکہ پر نظر تھی۔ ہم نے نوشہرہ میں ان کے گھر میں گھس کر مارا۔ انہوں نے کہا کہ لندن میں بیٹھا نواز شریف ان سب پر حاوی ہے۔ تنہا نواز شریف نے ان مافیاز کو تنگی کا ناچ نچایا۔
مریم نواز نے کہا کہ پورے ڈسکہ میں ری الیکشن ہونا چاہیے۔ الیکشن کمیشن ووٹ چوروں کے خلاف مقدمہ درج کرکے گرفتار کروائے۔
انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ دھند میں کونسی مخلوق، کس کے جنات تھے؟ 20 پولنگ سٹیشنز پر اچانک ٹرن آؤٹ 90 فیصد تک پہنچ گیا، یہ انسانوں کا تو کام نہیں ہو سکتا، دھند میں 90 فیصد عوام کہاں سے نکل آئی؟
ان کا کہنا تھا کہ ووٹ چور اور مگرمچھوں کے منہ سے تینوں سیٹیں کھینچ کر لانے پر (ن) لیگ کو مبارکباد دیتی ہوں۔ نواز شریف کی طاقت اور بیانیہ سر چڑھ کو بول رہا ہے۔ دھاندلی کے باوجود نواز شریف ڈسکہ کا الیکشن جیت گیا۔
…………………
مسلم لیگ نون کی نائب صدر اور سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کہتی ہیں کہ حکومت نے پولیس اور انتظامیہ کے ذریعے دھاندلی کا منصوبہ بنایا پھر بھی بری طرح ہار گئی۔
یہ بات مسلم لیگ نون کی نائب صدر اور سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے ڈسکہ روانگی سے قبل جاتی امراء میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ ڈسکہ کے عوام کو سلام پیش کرنے جا رہی ہوں، جو ثبوت سامنے آ رہے ہیں ان سے حکومت کھل کر سامنے آگئی ہے، اب ان لوگوں کو اپنی اسٹینڈنگ کا پتہ چل جانا چاہیئے، پاکستان کے چاروں صوبوں کے عوام نے انہیں بری طرح رد کر دیا ہے۔
مریم نواز کا کہنا ہے کہ حکومت نے ڈسکہ کے انتخابات کے ذریعے بتا دیا کہ 2018ء میں کس طرح ان لوگوں کو عوام پر مسلط کیا گیا تھا، صرف 1 سیٹ کیلئے 2 جانیں گئیں، پریزائڈنگ افسران نے بکنے سے انکار کر دیا، ڈسکہ کے عوام نے جمہوریت کی جنگ لڑی، ووٹ کو عزت دی۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے سارے حربے آزما لیے، یہ لوگ کھل کر سامنے آئے، انہوں نے الیکشن کمیشن کے بندے اغواء کر لیے، ریاستی بد ترین دہشت گردی کے باوجود یہ بری طرح ہارے۔
نائب صدر نون لیگ نے کہا کہ ہر چیز پر قبضہ اور تمام سپورٹ کے باوجود عمران خان ہار گئے، تحریک انصاف والے عوام اور ووٹ کے سامنے فیل ہوتے ہیں، جہاں غنڈہ گردی کی بات ہے وہاں یہ کامیاب ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیٹ کی خاطر انہوں نے 2 جانیں لے لیں، اگر پتہ ہوتا یہ جانیں لیں گے تو نون لیگ ایسے ہی سیٹیں دے دیتی، عوام نے ووٹ چور حکومت کے خلاف فیصلہ دیا ہے۔
سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کی صابحزادی کا یہ بھی کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے ایم این ایز کو بھی پتہ ہے کہ عمران خان نہ پہلے آ سکے نہ اب آئیں گے، پی ٹی آئی کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔
مریم نواز ڈسکہ میں نون لیگی رہنما نوشین افتخار کے گھر جائیں گی، اس کے علاوہ وہ ضمنی انتخاب کے دوران جاں بحق ہونے والے نوجوان کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت بھی کریں گی۔
…………………………………
پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے این اے 75 پر الیکشن کمیشن کے بیان کو حکومت کے خلاف بڑی چارج شیٹ قراردے دیا۔
پریس کانفرنس میں مریم نواز نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے ایکشن لینے پر خوشگوار حیرت ہوئی، الیکشن کمیشن بھی چیخ پڑا ہے کہ دھاندلی ہورہی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کو تاریخی شکست، بدنامی اور رسوائی پر مبارک باد دیتی ہوں، عمران خان آپ تاریخی دھاندلی کرکے بھی بُری طرح ناکام ہوئے ہیں، چاروں صوبوں کے عوام نے آپ کو مسترد کردیا ہے ۔
مریم نواز نے کہا کہ عمران خان کے خلاف ووٹ چوری اور دو افراد کی ہلاکت کی ایف آئی آر درج ہونی چاہیے۔
مریم نواز نے این اے 75 سیالکوٹ میں دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ری پولنگ سے کم پر نہیں مانیں گے ۔
جارحانہ انداز اپناتے ہوئے مریم نواز بولیں کہ اب مخالفین اُن کا دوسرا روپ دیکھیں گے ، مخالفین کو پتلی گلی سے نکلنے نہیں دیں گے ۔













