سید فخر الدین بلے۔ ایک کثیرالوصف شخصیت:سیدمنصورعاقل

0
980

سید فخر الدین بلے۔ ایک کثیرالوصف شخصیت
تحریر:سیدمنصورعاقل ، مدیراعلیٰ الاقرباء، اسلام آباد
سیدمنصورعاقل کے خوبصورت مضمون سے پہلے ایک چھوٹی سی بات۔
سید فخر الدین بلےایک نامور ماہرتعلقات عامہ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی ذات میں ایک تربیتی ادارہ بھی تھے۔پاک و ہند کےمشاہیر ِ ادب سے انہوں نے اپنی علمی، ادبی اورثقافتی کارناموں اور زبان و بیان پر اپنی غیرمعمولی قدرت کی بنیاد پر خوب داد سمیٹی ۔پاکستان کی نامور ادبی اور سیاسی شخصیت سیدتابش الوری نے اپنی ساٹھ سالہ رفاقت اور محبت کاقرض اداکرنے کیلئے ایک تالیف مرتب کی ہے ،جس کاعنوان ہے سید فخرالدین بلے ۔ ایک داستان ۔ ایک دبستان۔اس کتاب میں سید فخرالدین بلے کی ہفت پہلو شخصیت کےہر رنگ کواجاگرکیا گیاہے۔ اسی کتاب میں داستان رفاقت کے عنوان کے تحت بھی ایک باب موجود ہے، جس میں اُن بڑی ہستیوں کی نگارشات شامل ہیں ، جنہیں ان کے طویل کیرئیرکےدوران سید فخرالدین بلے کےساتھ کام کرنے کےمواقع ملے۔ان مضامین کو پڑھ کر سیدفخرالدین بلے ایک دبگ افسر ،ایک کثیرالوصف شخصیت ،ایک بہترین منتظم، ایک عدیم النظیر ماہرتعلقات عامہ ، نفاست پسند اورشفیق انسان،اپنے ماتحتوں پر مہربان،اور اہلِ قلم کے قدردان نظرآتے ہیں ۔سید منصور عاقل مدیراعلیٰ الاقرباء،اسلام آباد نے اپنی نصف صدی پر محیط رفاقت کاذکرکرتے ہوئے لکھا ہےکہ مجھے خودبھی اندازہ نہ تھا کہ سیدفخرالدین بلے کا شعری سفر اتنا تاریخ ساز ہوگا کہ فکرونظر کے چراغوں سے راستوں کے سنگ ہائے میل کو روشن کرتا چلاجائے گا۔حسنِ اتفاق کہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے انہیں جو تہذیبی ورثہ عطا کیا، وہ بھی ان کے شعور ولاشعور میں خوشبو بن کر رچ بس گیا۔ غزل کی صنف میں ان کا سنِ فکر خوب جولانیاں دکھاتا ہے۔ تغزل جو کلاسیکی فکر کا عطیہ ہے، بلے مرحوم کے کلام میں پوری طرح جلوے دکھارہاہے۔اس پرمستزاد ان کا فکری اچھوتا پن اور لطیف ودلپذیر لب ولہجہ ہے۔
جاویداحمد قریشی،سابق چیف سیکریٹری ، پنجاب اکثرکہا کرتے تھے کہ سیدفخرالدین بلےتعلقات عامہ کاچہرہ ہیں ۔میں نےان کے پائے کاماہرتعلقات عامہ نہیں دیکھا۔انہوں نے سَید فخرالدین بَلّےکو ادب و ثقافت کی ہنگامہ خیز شخصیت قراردیااورلکھا کہ سَید فخرالدینَ بلّے میرے دوست بھی تھے اور رفیق کار بھی۔ ہماری رفاقت نصف صدی کا قصہ ہے۔ وہ کوئٹہ، قلات اور خضدار گئے، تو وہاں بھی ادبی ہنگامہ خیزیاں جاری رکھیں۔ سرگودھا، ملتان اور بہاول پور میں بھی ان کے جنوں نے انہیں فارغ نہیں بیٹھنے دیا۔ لاہور اور راولپنڈی میں بھی ادبی اور ثقافتی ہلچل مچائے رکھی۔ وہ ماحول کواپنے رنگ میں رنگنا جانتے تھے۔ اب دنیا میں نہیں رہے، لیکن اپنے احباب کے دلوں میں تابندہ ہیں۔ ایسی مرنجاں مرنج شخصیات کم کم ہی ہوتی ہیں۔تخلیقی صلاحیتوں سے مالامال اس شخصیت میں دست ِ قدرت نے بہت سی شخصیات کو یک جا کر دیا تھا۔ادیب، شاعر، دانش وَر، مقرر اور ماہرتعلقات عامہ ہی نہیں، وہ بہت کچھ تھے۔ وسیع العلمی اور قادرالکلامی ان کا طرہّ امتیاز۔ جس رستے پر چلے، اپنی ذہانت اور علمیت کے گہرے نقوش چھوڑے۔ انسانیت ان کے انگ انگ میں تھی۔ مٹی کا قرض چکانااپنا فرض سمجھتے تھے۔ان کی شاعری کے کئی ادوار ہیں، ہر دور میں سوچنے کے انداز مختلف ہوسکتے ہیں اور ہیں بھی۔ اسی لیے ہمیں ان کی شاعری میں بہت سے رنگ دکھائی دیتے ہیں۔ اسے آپ ارتقائی سفر کا نام بھی دے سکتے ہیں۔وہ قادرالکلام شاعر تھے۔ نظم اور غزل دونوں میں کمالات دکھائے۔ خود نمائی سے بچتے رہے۔ اخبارات و جرائد میں بھی ان کی نگارشات ان کے نام سے بہت کم چھپیں۔ البتہ اکابرین ِادب کی نظر میں وہ ایک دراز قامت علمی شخصیت تھے، اسی لیے وہ ان کی تخلیقی اور فکری توانائیوں کے معترف دکھائی دیتے ہیں۔ مولوی عبدالحق کہا کرتے تھے سید فخر الدین بَلّے کی نظم ہو یا نثر اس میں کوئی نقص نکالنا محال ہے۔ ان کے زیرسایہ بہت سے پودے پروان چڑھے اور ہم نے انہیں تن آور پیڑ بنتے دیکھا۔ ساری زندگی سر اٹھاکر جینے کی کوشش کی اور سراٹھا کے ہمیشہ جئے بھی۔ ان کا اپنا ایک شعر اس حوالے سے میرے تاثرات کو بیان کرنے کیلئے کافی ہے۔
سر اٹھاکر زمیں پہ چلتا ہوں
سرچھپانے کو گھر نہیں نہ سہی
چند حکم رانوں کے ساتھ بھی ان کے قریبی تعلقات رہے، لیکن انہوں نے اس کا کبھی فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی۔ کسی نے نوازنے کی پیش کش بھی کی تو انہوں نے اسے قبول نہ کیا، کیوں کہ یہ تو سر اٹھاکر جینے والوں میں سے تھے۔ وہ اپنے رفقائے کار کی غلطیوں کواپنے سر لے کر انہیں بچا لیا کرتے۔ برائی کا بدلہ بھلائی سے دینا ان کا شیوہ تھا۔ دوسروں کے کام آکر دلی خوشی محسوس کرتے۔ اپنے اثرورسوخ کو کام میں لاکر بہت سے قلم کاروں کو پلاٹ بھی دلوائے، مگر اپنی ذات کے لیے کبھی کسی سے کوئی امید نہیں رکھی۔ اسی لیے وہ بڑے لوگوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کیا کرتے۔ انکساری کے ساتھ خودداری بھی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ ہر چھوٹے بڑے کے ساتھ عزت سے پیش آتے اور اہل ِ علم وادب ہی نہیں بیوروکریٹس بھی انہیں قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ وہ بلاشبہ اپنے حلقۂ یاراں میں مقبول اور ہردل عزیز تھے۔ سید اظہر امام زیدی،ریٹائرڈ ڈائریکٹر تعلقات عامہ ،پنجاب نے سیدفخرالدین بلے کوایک کرشماتی شخصیت کا نام دیا۔لکھتے ہیں میں نے اپنی پوری زندگی میں سید فخرالدین بلے سے زیادہ ہمہ گیر خوبیوں، صلاحیتوں اور توانائیوں کی حامل شخصیت نہیں دیکھی۔ قدرت نے انہیں بے پناہ علمی،فکری،ادبی،روحانی،اخلاقی اور تخلیقی قوتوں سے خصوصی طورپرنوازاتھا۔ وہ پہلی ملاقات میں ہی کسی بھی ملنے والے کوخوش اخلاقی،خوش مزاجی،خوش گفتاری،شائستگی اور وضع داری سے اپنا گرویدہ بنا لیتےتھے۔ بلاشبہ ان کی دلاویزاورہمہ گیر شخصیت،علم وفن،عقل ودانش،فہم وادراک، تہذیب وتمدن، خلوص محبت اور جذبہ اخوت وایثارکے سحر سے کسی بھی شخص کا نکلنا محال تھا۔ وہ یقیناً اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ شرافت،شائستگی، اعلیٰ ظرفی اور انسان دوستی کا پیکر اور کرشماتی اوصاف کا نادرنمو نہ تھے۔ ان کے علمی تبحر اور ادبی،صحافتی، فنی، تخلیقی،تنقیدی اور فکری صلاحیتوں کا اندازہ ان کی مرتب کردہ 150 سے زیادہ تالیفات سے لگایا جاسکتاہے۔ انہوں نے ہندوپاک کے ایک درجن سے زیادہ معیاری اخبارات ورسائل میں بطور بانی چیف ایڈیٹر و ایڈیٹرفرائض سرانجام دیئے۔ ان رسائل میں علی گڑھ (بھارت) کے فلمی و ادبی میگزین اور مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی طلباء تنظیم کا مجلہ بھی شامل ہے۔ ان کی مطبوعات ملاحظہ ہوں۔1 ۔ ولایت پناہ (حضرت علی کی سیرت پرایک بصیرت افروزکتاب)۔ 2 ۔درولایت پردستک (سماع کا روحانی نصاب)
3۔ اسلام اور فنون لطیفہ (فنون ِلطیفہ کا اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جائزہ)4۔ سوچ سفر(شعری مجموعہ) ۔5 سوچ رنگ (مجموعہ غزلیات) علاوہ ازیں ان کی ایک نادرکتاب کا مسودہ “خواجہ ناظم الدین سے نوازشریف تک “ایک چورکی نذرہوگیا۔ اس کتاب میں ارباب حکومت کی 46 سالو ں پر محیط سرگذشت اور سرکاری ایوانوں کی بعض سربستہ کہانیاں شامل تھیں۔ جوہما ری قومی تاریخ کا حصہ نہ بن سکیں۔ریٹائرڈ ڈائریکٹر انفارمیشن پنجاب نذیرخالد نے اپنی یادوں کی بنیاد پر بڑا معلوماتی اوردلکش مضمون لکھاہے ، جس کاعنوان ہے ۔ سیدفخرالدین بلے ۔ایک دبنگ افسر ۔ ایک طلسماتی شخصیت ۔ لکھتے ہیں پنجاب کے جو جو ڈویژنل انفارمیشن دفاتر خوبصورت نظر آئیں ، سمجھ لیجئے کہ وہاں بلے صاحب کبھی تعینات رہے ہونگے۔
وہ ہر آنے والے کی عزت افزائی کرتے تھے اور جو بھی اہل علم ان سے ملتا، وہ یہ تاثر لیکر جاتا کہ اس سے بڑا اہل علم یہاں موجود ہے۔محکمہ تعلقات عامہ کے جس آفیسر نے ایک تربیتی ادارے کا کردار ادا کیا، وہ سید فخر الدین بلے صاحب تھے۔مہمان نوازی میں اتنے فراخ دل تھے کہ ان کا دستر خوان بہت کشادہ اور پرتکلف ہوتا تھا۔سید فخر الدین بلے غلطیوں سے پاک نہایت معیاری اردو اور انگریزی لکھنے پر قادر تھے، اورروانی کے ساتھ ڈکٹیشن دیتے تھے۔خود کرائے کے مکان میں ساری زندگی رہے لیکن اہل قلم اور بہت سے صحافیوں کو پلاٹ دلوائے۔غریب پرور انسان تھے ،کئی سال ان کی سربراہی میں کام کیالیکن انہیں کبھی غصے میں نہیں دیکھا۔ان میں بلاکی خود اعتمادی تھی۔اور ان کی پوری زندگی ایک کھلی کتاب کی طرح تھی۔ اب آئیے ۔ ملاحظہ فرمائیے ، وہ چند مضامین ،جو کہنہ مشق مولف سید تابش الوری نےزیرنظر کتاب کے ایک باب داستان ِ رفاقت کی زینت بنائے ہیں ۔
[ادارہ ]
سیدفخرالدین بلے۔ ایک کثیرالوصف شخصیت
تحریر:سید منصورعاقل، مدیراعلیٰ الاقرباء،اسلام آباد
یہ نصف صدی سے بھی زیادہ کا قصہ ہے کہ میں اور بلے مرحوم (جنہیں اب مرحوم لکھتے ہوئے میرا ہاتھ کانپ گیا ہے)انیس سو تریپن میں سابق ریاست بہاولپور کے محکمہ اطلاعات وتعلقات عامہ میں ایک دوسرے کے رفیقِ کار کے طورپر متعارف ہوئے اور چند ہی دن میں ذہنی قربت کے وہ فاصلے بھی طے کرلئے کہ جن سے گزرنے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔ وجہ یہ تھی کہ دفتر میں ہماری نشست ایک ہی کمرے میں تھی،جہاں جب چائے منگوائی جاتی تو بلے صاحب اکثروبیشتر خود پہل کرتے اور مجھے میزبانی کا موقع بہت ہی کم ملتا۔ چائے کے ساتھ ”توشہ“ بھی ہوتا، جو ان کی مرغوب مٹھائی تھی۔ حسنِ ا تفاق کہ دفتر میں ہمارے سینئر کیپٹن ممتازملک(مرحوم) تھے جو انیس سو پچاس ، اکاون میں جب میں اپنے دور طالب علمی میں روزنامہ ’زمیں دار‘ لاہور کے عملہ ادارت میں سب ایڈیٹر تھا تو وہاں بھی میرے سینئر(نیوزایڈیٹر) تھے۔ چنانچہ بلے صاحب کی باغ وبہار شخصیت کے اوصاف جہاں ان کی ہم نشینی میں مجھ پر منکشف ہوئے، وہیں کیپٹن ممتاز ملک صاحب بھی ایک ایسی قدرِمشترک تھے کہ ادب وصحافت دونوں شعبے ہی ہماری فکر وعمل کا ناگزیر حصہ بن گئے۔ نور احمد میرٹھی مولف”تذکرہ شعرائے میرٹھ“ بلے صاحب کے بارے میں لکھتے ہیں۔
”چھ اپریل انیس سو تیس کو ہاپوڑ ضلع میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ انیس سو بیالیس میں الہ آباد بورڈ سے میٹرک کیا۔انیس سو اڑتالیس میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے انٹر اور انیس سو اکاون میں اسی یونیورسٹی سے سائنس میں گریجوایشن (بی ایس سی)کیا۔ انیس سو باون میں علی گڑھ ہی سے ادیب کامل کا امتحان پاس کرکے سترہ نومبر انیس سو باون کو وطن چھوڑ کر پاکستان ہجرت کی”۔
بلے صاحب کی تاریخ پیدائش کے حوالے سے ایک خفیف سا فرق یہ ہے کہ ان کے ایک عزیز حیات میرٹھی نے جو ان سے کافی پہلے ہجرت کرکے ریاست بہاولپور آگئے تھے ۔اپنی کتاب “بہاولپور کا شعری ادب”شائع کردہ اردو اکیڈمی بہاولپور انیس سو اکہتر میں سن ولادت تو انیس سو تیس ہی لکھا ہے۔ البتہ تاریخ چھ اپریل نہیں بلکہ پندرہ دسمبر لکھی ہے ۔بہرحال کچھ نسبتیں ایسی ہیں جن کا فیضان بلے صاحب کی زندگی میں نمایاں نظر آتا ہے۔ ان کا آبائی وطن ہاپوڑ ضلع میرٹھ یوپی کا ایک مردم خیز قصبہ اور تحصیل کا صدر مقام تھا۔ یہی قصبہ بابائے اردو مولوی عبدالحق مرحوم کا بھی مولد ومنشاءتھا اور نامور شعراءکا مسکن ،جن میں حضرت امیر مینائی کے شاگردِ خاص اطہر ہاپوڑی تھے اورسلسلئہ داغ کے تلامذہ میں شمس ہاپوڑی اور لاڈلی لال لائق، جنہیں داغ کے نورتن حضرت سید عبدالوحیدفدا سے شرفِ تلمذ حاصل تھا ۔جو ہاپوڑ سے نومیل کے فاصلے پر قصبہ گلاءوٹھی ضلع بلند شہر کے متوطن تھے۔ مشاعرے آئے دن کا معمول بن چکے تھے ۔چنانچہ ایسے ماحول میں سید فخرالدین بلے نے ہوش سنبھالا اور ان کا شعری وجدان بیدار ہوا ۔ دوسری اہم نسبت مسلم یونیورسٹی علی گڑھ تھی ،جس کی روایات سرسید کا ورثہ بن کر بلے صاحب کی شخصیت میں منتقل ہوچکی تھیں۔ان کی وضع قطع اور ان کے آدابِ معاشرت میں علی گڑھ ان کی شناخت بن گیا تھا اور عہد طالب علمی کے سائنسی علوم کی نسبت السنہ شرقیہ کی سند”ادیبِ کامل” ان کے ادیب ہی نہیں بلکہ شاعر کامل ہونے کی سندِاعتبار بن گئی تھی۔ البتہ تخلص”بلے” ہر نو متعارف شخص کے چہرے پر استفہامیہ لکیرکھینچ دیتا تھا۔ چنانچہ انہیں خود بھی متعدد بار یہ وضاحت کرنا پڑی کہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری نے اپنے صاحبزادے کا نام فخرالدین رکھا تھا اور پیار سےانہیں “بلے” کہتے تھے۔ اسی مناسبت سے ان کے والد غلام ِ معین الدین چشتی نے ان کا یہ نام رکھا۔
بہاولپور میں پچاس کی دہائی کے نصف اول کو بلے صاحب کی شاعری کے حوالے سے طلوع آفتاب کا ہنگام کہا جاسکتا ہے اور ان کی حیاتِ مستعار کے آخری برسوں میں قیام ملتان کو”دلیل ِ آفتاب”۔ بعد کے اس دور میں ان کے فکر وفن نقطہءعروج کو چھوتے نظر آتے ہیں، جس کی بشارت ان کے ایک معاصر نقاد ماجد قریشی نے اپنی کتاب’دبستان بہاولپور‘ میں ساٹھ کی دہائی میں درج ذیل جملے میں لکھ کر دے دی تھی۔
“۔۔۔۔۔۔اس کے جسم میں ایک ایسی نامعلوم آگ سلگ رہی ہے، جس میں سے کبھی دھواں اٹھتا ہے اورکبھی شعلے لو دینے لگتے ہیں۔ ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے بلے میں کوئی دوسرا شخص بھی چھپا بیٹھا ہے-“۔ چنانچہ جب بلے صوفیا ءواولیاء کی سرزمین ملتان پہنچے تو وہ سلگتی آگ بھی شعلہء جوالہ بن گئی اور وہ ”دوسراشخص” بھی ظاہر ہوگیا، جو چھپا بیٹھاتھا۔
یوں لگی مجُھ کو خنک تاب سحر کی تنویر
جیسے میرے لئے جبریل نے پر کھولے ہیں
دیکھی چمک جو سر پہ مرے آفتاب کی
پرچھائیں تک مری مرے قدموں میں آگری
ہے میرا سوچ سفر فلسفے کے صحرا میں
ہواکے دوش پہ جیسے کٹی پتنگ چلے
انسان اور حیات وکائنات ان کی فکر کا موضوع بنے اور متصوفانہ مضامین نت نئے انداز میں اشعارمیں ڈھلنے لگے ۔ ان اسالیب میں قدرت کی شاہکار تخلیق کی حیثیت سے انسان اورانسانی عظمت کا شعور بلے کی فکری ترجیحات کے اولین نقطے ہیں۔
خداسے روزِ ازل کس نے اختلاف کیا
وہ آدمی تونہ تھا ،جس نے انحراف کیا
وہی تو ہوں میں کہ جس کے وجود سے پہلے
خود اپنے رب سے فرشتوں نے اختلاف کیا
اسی کے رحم و کرم پر ہے عاقبت میری
نہ جس نے پہلی خطا کو مِری معاف کیا
ازل سےعالم ِ موجود تک سفر کرکے
تھکے تو جسم کے حجرے میں اعتکاف کیا
رہیں گے قصرِعقائد نہ فلسفوں کے محل
جو میں نے اپنی حقیقت کا انکشاف کیا
اتنا بڑھا بشر کہ ستارے ہیں گردِ راہ
اتنا گھٹا کہ خاک پہ سایہ سا رہ گیا
ہنگامہ ہائے کار گہہِ روز و شب نہ پوچھ
اتنا ہجوم تھا کہ میں تنہا سا رہ گیا
ارتقا کاتیزتر عمل فخرالدین بلے کا نمایاں وصف ہے۔ وہ جدید وقدیم کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ شعر کی کلاسیکی اقدار انہیں عزیز ہیں اور اسلوب میں جدت کا رحجان عزیز تر۔ وہ فطرت کے مشاہدہ ومطالعہ میں اس طرح مصروف ہیں کہ پوشیدہ حقائق کی جستجو انہیں ہرلحظہ مضطرب رکھتی ہے۔ سحر آفریں مناظر سے مفاہیم ومعانی تراشنا ان کا مستقل مشغلہ ہے۔ ان کی باطن کی آنکھ مظاہرِ فطرت کا تجزیہ کرنے پر پوری طرح قادر ہے۔
رنگِ صحن چمن اک معماسا ہے
روئی شبنم، کلی کو ہنسی آگئی
پیڑ نعمت بدست وسرخم ہیں
ہے تفاخر بھی انکسار کے ساتھ
میں کیا بتاءوں کہ قلب ونظر پہ کیا گزری
کرن نے قطرہء شبنم میں جب شگاف کیا
کھل کے گل بن گئی کلی چپ چاپ
اِک قیامت گزرگئی چپ چاپ
سوچ کے آسماں سے اتری ہے
دل کے آنگن میں چاندنی چپ چاپ
میں کس سے پوچھوں کہ پھولوں نے کس لئے آخر
بسنت رُت کو چُنا چاک دامنی کے لئے
معروضیت اور عصری معنویت بلے کے کلام میں غزل کی صنفی حدود میں دیکھی جا سکتی ہے لیکن رمزیت واشاریت کے تمام لوازم کے ساتھ، جو برملا بھی ہیں اور لباسِ حریر میں ملبوس بھی۔
رُتوں کی ریت یہی ہے ،یہی ہوا کی روش
تپش بڑھے گی تو بادل ضرور برسے گا
چمن کے دیدہ وروں سے سوال ہے میرا
بہار کا ہے یہ موسم توپھر گھٹن کیوں ہے
میں اس مقام پر تو نہیں آگیا کہیں
ہوگی نہ صبح رات گزرنے کے باوجود
یہی نہیں بلکہ بلے کی فکری معروضیت میں کہیں کہیں اساتذہ کے اسلوب وآہنگ کا پر تو صاف جھلکتا ہے اوران کا انداز تنقید بھی تو اردو مماثلت کی حدوں کو چھونے لگتا ہے۔انیس سوسینتالیس میں تقسیم برصغیر کے انسانی سانحات نے جگرمرحوم جیسے غزل گو شاعر کو جھنجوڑ کر رکھ دیا تھا اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہوگئے تھے کہ
فکرِجمیل خوابِ پریشاں ہے آج کل
شاعر کہاں ہے وہ جو غزل خواں ہے آج کل
سازِ حیات ساز ِشکستہ ہے ان دنوں
بزمِ خیال جنتِ ویراں ہے آج کل
جمہوریت کا نام ہے جمہوریت کہاں
فسطائیت حقیقتِ عریاں ہے آج کل؟
چنانچہ فخرالدین بلے کے عہد میں تاریخ جب خود کو دہراتی ہے تو ان کا لہجہ بھی اسی طرح تلخ و درشت ہو جاتا ہے۔
جنت خیال وفکر کی ویراں ہے آج بھی
آدم حقیقتوں سے گریزاں ہے آج بھی
جمہوریت کا نام ہے جمہوریت کہاں
پابندیاں ہیں ،قید ہے، زنداں ہے آج بھی
مجھے خودبھی اندازہ نہ تھا کہ سیدفخرالدین بلے کا شعری سفر اتنا تاریخ ساز ہوگا کہ فکرونظر کے چراغوں سے راستوں کے سنگ ہائے میل کو روشن کرتا چلاجائے گا۔ وہ جب بہاولپور میں بحیثیت شاعر متعارف ہوئے تو محفلوں میں ”بلے بلے“ کی آوازوں سے انہیں دادوتحسین سے نوازاگیا۔ یہاں تک کہ انہی دنوں حکیم راغب مراد آبادی مرحوم نے جو اپنی بدیہہ گوئی کے باعث شہرت حاصل کرچکے تھے اور بہاولپور آئے ہوئے تھے۔ ایک شعری نشست میں جو معروف مقامی شخصیت اور صحافی عبدالحمید صحرائی کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی ،بلے صاحب کو برجستہ شعر کہہ کردعوتِ سخن دی کہ
قوافی اب نہیں ہیں میرے پلے
مدد فرمائیں فخرالدین بلے
اس شعر نے محفل کو زعفرانِ زار بنادیا اور رفتارِزمانہ نے سرکاری ملازمت کے ہاتھوں انہیں ملک کے طول وعرض میں ایسے ایسے مقامات تک پہنچایا،جنہیں تہذیب وثقافت اور علم وادب کے مراکز کہا جاسکتا ہے۔ اس طرح انہیں جو پذیرائی میسر آئی ،اس نے انہیں اہلِ فکرودانش میں مقبول بنادیا اورجب وہ سفر آخرت کی تیاری کے لئے ملتان پہنچے تو ان کے فکر وفن بلندیوں کو چھونے لگے۔پروفیسر ڈاکٹر عاصی کرنالی جیسے ثقہ ادیب وشاعر اورمتوازن الفکر نقاد نے ان کی رحلت پر دل کھول کر داد دی۔
“فخرالدین بلے ایک شخص کا نہیں،ایک یونیورسٹی اور تہذیبی ادارے کا نام تھا۔”
اس میں شک نہیں کہ وہ جس گنگا جمنی تہذیب کے نمائندہ تھے۔ اس کا واضح عکس ان کے اشعار میں منجملہ ذاتی اوصاف یعنی خود داری وخود آگہی اور دانش وحکمت میں اصل ونقاب کے امتیازی شعور کو دیکھاجاسکتا ہے مثلاً
سر اٹھا کر زمیں پہ چلتا ہوں
سر چھپانے کو گھر نہیں نہ سہی
ہے فلسفوں کی گرد نگاہوں کے سامنے
ایسے میں خاک سوچ کو رستہ دکھائی دے
دیدہ وروں کے شہر میں ہر ایک پستہ قد
پنجوں کے بل کھڑا ہے کہ اونچا دکھائی دے
میرے تجزیئے کے مطابق ان کی ادبی وشعری عمارت کو جوبلند وبالادکھائی دیتی ہے۔ خشت ِ اول “ادیب کامل”کے نصابی مطالعہ نے مہیا کی، ورنہ ابتداً تو وہ سائنس کے طالب تھے۔اس کے ساتھ ساتھ شخصیتوں اور ماحول کا فیضان بھی ان کی خوش بختی بن گیا۔ حسنِ اتفاق کہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے انہیں جو تہذیبی ورثہ عطا کیا، وہ بھی ان کے شعور ولاشعور میں خوشبو بن کر رچ بس گیا۔ غزل کی صنف میں ان کا سنِ فکر خوب جولانیاں دکھاتا ہے۔ تغزل جو کلاسیکی فکر کا عطیہ ہے، بلے مرحوم کے کلام میں پوری طرح جلوے دکھارہاہے۔اس پرمستزاد ان کا فکری اچھوتا پن اور لطیف ودلپذیر لب ولہجہ ہے۔ ملاحظہ ہو۔
کیا چاہتا تھا اور یہ کیا دے گیا مجھے
قاتل بھی زندگی کی دعا دے گیا مجھے
ہیں مجھ کو پسند آپ کی بکھری ہوئی زلفیں
بکھری ہوئی زلفوں کو سنوارا نہ کریں آپ
میں جانتا ہوں مگر تو بھی آئینہ لے کر
مجھے بتا کہ مرا انتخاب کیسا ہے
پڑا ہوا ہے بہت سے چہروں پہ مستقل جو غبار کیا ہے
ذرا کبھی آئینوں سے پوچھو نگاہ کا اعتبار کیا ہے
پلے ہیں جو دل کی دھڑکنوں میں لہوہے،جن کی رگوں میں جاری
بھلا انہیں کوئی کیا بتائے؟ سکون کیاہے؟ قرارکیا ہے
ہے پیار کا کھیل مصلحت اور خیالِ سود و زیاں سے بالا
لگا ہی لی ہے جو دل کی بازی تو جیت کیا اورہار کیا ہے
سیدفخرالدین بلے نے مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی۔ تصوف تو ان کا غالب رحجان تھا ہی۔ اس لئے نعت اور سلام ومنقبت میں محتاط ومودب اسلوب اپنے اندر خاص دلکشی رکھتا ہے۔ مثلاً نعت کے یہ شعر۔
ہے خوفِ خدا اُن کو خدا کہہ نہیں سکتے
کچھ اور مگر اس کے سوا کہہ نہیں سکتے
الفاظ جھجکتے ہیں لرزتے ہیں معانی
کچھ اور بجز صل علیٰ کہہ نہیں سکتے
اورآخرمیں غیرملکی صنف سخن “ہائیکو” میں ایک شہ پارہ ملاحظہ فرمائیں
اُس نے پوچھا علوم کتنے ہیں
میں نے بھی اس سے یہ سوال کیا
آسماں پر نجوم کتنے ہیں
سیدفخرالدین بلے۔ ایک کثیرالوصف شخصیت
تحریر:سید منصورعاقل،مدیراعلیٰ الاقرباء ،اسلام آباد
سَید فخرالدین بَلّے۔ادب کی ہنگامہ خیز شخصیت
تحریر: جاویداحمد قریشی،سابق چیف سیکریٹری ، پنجاب
سَید فخرالدینَ بلّے میرے دوست بھی تھے اور رفیق کار بھی۔ ہماری رفاقت نصف صدی کا قصہ ہے۔ وہ کوئٹہ، قلات اور خضدار گئے، تو وہاں بھی ادبی ہنگامہ خیزیاں جاری رکھیں۔ سرگودھا، ملتان اور بہاول پور میں بھی ان کے جنوں نے انہیں فارغ نہیں بیٹھنے دیا۔ لاہور اور راولپنڈی میں بھی ادبی اور ثقافتی ہلچل مچائے رکھی۔ وہ ماحول کواپنے رنگ میں رنگنا جانتے تھے۔ اب دنیا میں نہیں رہے، لیکن اپنے احباب کے دلوں میں تابندہ ہیں۔ ایسی مرنجاں مرنج شخصیات کم کم ہی ہوتی ہیں۔
تخلیقی صلاحیتوں سے مالامال اس شخصیت میں دست ِ قدرت نے بہت سی شخصیات کو یک جا کر دیا تھا۔
ادیب، شاعر، دانش وَر، مقرر اور ماہرتعلقات عامہ ہی نہیں، وہ بہت کچھ تھے۔ وسیع العلمی اور قادرالکلامی ان کا طرہّ امتیاز۔ جس رستے پر چلے، اپنی ذہانت اور علمیت کے گہرے نقوش چھوڑے۔ انسانیت ان کے انگ انگ میں تھی۔ مٹی کا قرض چکانااپنا فرض سمجھتے تھے۔
سَیّد فخرالدین بَلے کے ہاں مزاحمت کا رنگ بھی ہے اور تصوف کا رنگ بھی۔ دراصل ان کی شاعری کے کئی ادوار ہیں، ہر دور میں سوچنے کے انداز مختلف ہوسکتے ہیں اور ہیں بھی۔ اسی لیے ہمیں ان کی شاعری میں بہت سے رنگ دکھائی دیتے ہیں۔ اسے آپ ارتقائی سفر کا نام بھی دے سکتے ہیں۔
وہ قادرالکلام شاعر تھے۔ نظم اور غزل دونوں میں کمالات دکھائے۔ خود نمائی سے بچتے رہے۔ اخبارات و جرائد میں بھی ان کی نگارشات ان کے نام سے بہت کم چھپیں۔ البتہ اکابرین ِادب کی نظر میں وہ ایک دراز قامت علمی شخصیت تھے، اسی لیے وہ ان کی تخلیقی اور فکری توانائیوں کے معترف دکھائی دیتے ہیں۔ مولوی عبدالحق کہا کرتے تھے سید فخر الدین بَلّے کی نظم ہو یا نثر اس میں کوئی نقص نکالنا محال ہے۔ ان کے زیرسایہ بہت سے پودے پروان چڑھے اور ہم نے انہیں تن آور پیڑ بنتے دیکھا۔ ساری زندگی سر اٹھاکر جینے کی کوشش کی اور سراٹھا کے ہمیشہ جئے بھی۔ ان کا اپنا ایک شعر اس حوالے سے میرے تاثرات کو بیان کرنے کیلئے کافی ہے۔
سر اٹھاکر زمیں پہ چلتا ہوں
سرچھپانے کو گھر نہیں نہ سہی
چند حکم رانوں کے ساتھ بھی ان کے قریبی تعلقات رہے، لیکن انہوں نے اس کا کبھی فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی۔ کسی نے نوازنے کی پیش کش بھی کی تو انہوں نے اسے قبول نہ کیا، کیوں کہ یہ تو سر اٹھاکر جینے والوں میں سے تھے۔ ذاتی منفعت اٹھاتے تو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کر سکتے تھے۔ اس لیے فائدہ ہی نہیں اٹھایا۔ وہ ذوالفقار بھٹو کے وزارت خارجہ کے دور میں وفد کے ساتھ نئی دہلی گئے تھے، وہاں ان کی ’پی آر‘ دیکھ کر بھٹو صاحب نے ریمارکس دئیے۔
The performance of Mr. Fakhruddin Balley at New Dehli was excellently excellent. [written by Zulfiqar Ali Bhutto ]
اشفاق احمد زندگی میں آسانیاں بانٹنے کی باتیں کرتے رہے ہیں۔ یہی چلن ساری زندگی سید فخرالدین بلے کا رہا۔ وہ اپنے رفقائے کار کی غلطیوں کواپنے سر لے کر انہیں بچا لیا کرتے۔ برائی کا بدلہ بھلائی سے دینا ان کا شیوہ تھا۔ دوسروں کے کام آکر دلی خوشی محسوس کرتے۔ اپنے اثرورسوخ کو کام میں لاکر بہت سے قلم کاروں کو پلاٹ بھی دلوائے، مگر اپنی ذات کے لیے کبھی کسی سے کوئی امید نہیں رکھی۔ اسی لیے وہ بڑے لوگوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کیا کرتے۔ انکساری کے ساتھ خودداری بھی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ ہر چھوٹے بڑے کے ساتھ عزت سے پیش آتے اور اہل ِ علم وادب ہی نہیں بیوروکریٹس بھی انہیں قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ وہ بلاشبہ اپنے حلقۂ یاراں میں مقبول اور ہردل عزیز تھے۔
انہوں نے صدور، وزرائے اعظم، گورنروں، وزرائے اعلیٰ سمیت مقتدر شخصیات کے لیے ہزاروں تقریریں لکھیں، بیسیوں بروشرز، سووینئیرز، کتابیں اور کتابچے شایع کرائے۔ لاہور میں ادبی تنظیم قافلہ بنائی، جس کے تحت بڑی خوب صورت محفلیں سجایا کرتے تھے۔ مجھے بھی ان کے قافلے کی بہت سی محفلوں میں پڑاؤ ڈالنے کا اعزاز ملا۔ ان محفلوں کی رپورٹوں کو یک جا کر دیا جائے، تولاہور کی ادبی تاریخ کے بہت سے اوراق ہم محفوظ کرسکتے ہیں۔ راولپنڈی آرٹس کونسل اور ملتا ن آرٹس کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے انہوں نے ان دونوں ثقافتی اداروں کو نئی زندگی بخشی۔ ڈوبتے ہوئے اداروں کو بچانا نئے ادارے بنانے سے زیادہ مشکل کام ہے، لیکن ان کے لیے یہ سب کچھ بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ اسی لیے تو انہوں نے بہ آسانی یہ معرکہ سر کرلیا۔
اسلام اور فنون ِ لطیفہ کے حوالے سے بھی انہوں نے قرآن واحادیث کی روشنی میں بڑا تحقیقی کام کیا، اس کا مسودہ میری نظر سے گزر چکا ہے۔ واقعی قابل ِ ستائش کارنامہ ہے۔ سَید فخرالدین بَلّے کو اپنی زندگی میں جو میدان ملا، وہ اس سے باہر نکل کر بھی بڑی کام یابی کے ساتھ کھیلتے نظر آئے۔
یہ 1970ء کی دہائی کی بات ہے۔ وہ محکمہ تعلقات عامہ ملتان ڈویژن کے سربراہ کی حیثیت سے سرکاری دورے پر ساہی وال آئے تو وارث شاہ کی یادگار ملکہ ہانس کی خستہ حالی دیکھ کر سیدھے میرے دفتر پہنچ گئے۔ میں ان دنوں ساہی وال میں ڈپٹی کمشنر تھا۔ کہنے لگے آپ کے ہوتے ہوئے آپ کے ضلع میں یہ سب ہورہا ہے، یقین نہیں آتا۔ میں نے پوچھا کیا ہوا تو کہنے لگے بات بتانے کی نہیں، دکھانے کی ہے۔ وہ مجھے ملکہ ہانس لے آئے، اس کی خستہ حالی کی طرف توجہ دلائی۔ انہی کی تحریک پر ملکہ ہانس کی تزئین ِ نو کا اہتمام کیا گیا۔
انہوں نے اس موقع پر ایک خوب صورت بروشر بھی شایع کیا تھا۔ ان کا اپنا شعر اس کے سرِ ورق کی زینت تھا۔ ہر مشکل وقت میں ان کی پیشہ ورانہ مہارت وطن ِ عزیز کے کام آئی۔ وہ محکمہ تعلقات عامہ پنجاب کا چہرہ تھے۔ ان کی عظمت یہ بھی ہے کہ اس محکمے میں ان کے ساتھ بہت سی ناانصافیاں بھی ہوئیں مگر انہوں نے اپنے کام سے ہمیشہ انصاف کیا۔ کام کو ہمیشہ عبادت سمجھا۔ لوگ ساری زندگی دولت سمیٹتے رہتے ہیں اور پھر خالی ہاتھ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں، لیکن سَید فخرالدین بِلّے نے صرف عزت اور نیک نامی کمائی اور دنیا کو بہت کچھ دے گئے۔
سَید فخرالدین بَلّے۔ادب کی ہنگامہ خیز شخصیت
تحریر: جاویداحمد قریشی،سابق چیف سیکریٹری ، پنجاب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیدفخرالدین بلے ۔ایک باکمال اورنادرشخصیت تھے۔ شعیب بن عزیز
اس طرح تو ہوتا ہے، اس طرح کے کاموں میں ،جیسے ضرب المثل مصرعوں کےخالق ، سابق ڈی جی پی آر پنجاب اور مایہ ء ناز شاعر شعیب بن عزیز نے لکھا کہ سیدفخرالدین بلے ایک باکمال اور نادر شخصیت تھے۔ جانے والوں کوکہاں روک سکا ہے کوئی ؟ ان سے کئی عشروں کا ساتھ رہا۔من آنم کہ من دانم۔ پھر بھی جو کچھ آج ہم ہیں، سیدفخرالدین بلے صاحب مرحوم جیسے بزرگوں کی تربیت کے بغیر شاید نہ ہو سکتے۔ اس خاک نشیں پہ تو انکی شفقتِ خاص تھی۔ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی انہوں نے یہ رشتہ برقرار رکھا۔ اللہ ان کی روح کو شاد اور متعلقین کو ہر بلا سے محفوظ رکھے۔ {آمین }

سیدفخرالدین بَلّے۔ ایک کرشماتی شخصیت
تحریر: سید اظہر امام زیدی،ریٹائرڈ ڈائریکٹر تعلقات عامہ ،پنجاب
میں نے اپنی پوری زندگی میں سید فخرالدین بلے سے زیادہ ہمہ گیر خوبیوں، صلاحیتوں اور توانائیوں کی حامل شخصیت نہیں دیکھی۔ قدرت نے انہیں بے پناہ علمی،فکری،ادبی،روحانی،اخلاقی اور تخلیقی قوتوں سے خصوصی طورپرنوازاتھا۔ وہ پہلی ملاقات میں ہی کسی بھی ملنے والے کوخوش اخلاقی،خوش مزاجی،خوش گفتاری،شائستگی اور وضع داری سے اپنا گرویدہ بنا لیتےتھے۔ بلاشبہ ان کی دلاویزاورہمہ گیر شخصیت،علم وفن،عقل ودانش،فہم وادراک، تہذیب وتمدن، خلوص محبت اور جذبہ اخوت وایثارکے سحر سے کسی بھی شخص کا نکلنا محال تھا۔ وہ یقیناً اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ شرافت،شائستگی، اعلیٰ ظرفی اور انسان دوستی کا پیکر اور کرشماتی اوصاف کا نادرنمو نہ تھے۔ ان کے علمی تبحر اور ادبی،صحافتی، فنی، تخلیقی،تنقیدی اور فکری صلاحیتوں کا اندازہ ان کی مرتب کردہ 150 سے زیادہ تالیفات سے لگایا جاسکتاہے۔ انہوں نے ہندوپاک کے ایک درجن سے زیادہ معیاری اخبارات ورسائل میں بطور بانی چیف ایڈیٹر و ایڈیٹرفرائض سرانجام دیئے۔ ان رسائل میں علی گڑھ (بھارت) کے فلمی و ادبی میگزین اور مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی طلباء تنظیم کا مجلہ بھی شامل ہے۔ ان کی مطبوعات ملاحظہ ہوں۔1 ۔ ولایت پناہ (حضرت علی کی سیرت پرایک بصیرت افروزکتاب)۔ 2 ۔درولایت پردستک (سماع کاروحانی نصاب) 3 ۔ اسلام اور فنون لطیفہ (فنون ِلطیفہ کا اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جائزہ)4۔ سوچ سفر(شعری مجموعہ) ۔5 سوچ رنگ (مجموعہ غزلیات) علاوہ ازیں ان کی ایک نادرکتاب کا مسودہ “خواجہ ناظم الدین سے نوازشریف تک “ایک چورکی نذرہوگیا۔ اس کتاب میں ارباب حکومت کی 46 سالو ں پر محیط سرگذشت اور سرکاری ایوانوں کی بعض سربستہ کہانیاں شامل تھیں۔ جوہما ری قومی تاریخ کا حصہ نہ بن سکیں۔ سیدفخرالدین بلے کی شاعری میں نعت، منقبت،سلام،غزل،آزاد نظم،ہائیکو،رباعی۔ غرض یہ کہ کم وبیش تمام اصناف پائی جاتی تھیں۔ ان کی ایک نعت کے چند اشعارملاحظہ ہوں۔
ہے خوفِ خدا ان کو خدا کہہ نہں سکتے
کچھ اور مگر اس کے سوا کہہ نہںہ سکتے
اِلا ّکو اگر لا سے جداکہہ نہں سکتے
حق بات بہ اندازِ ثنا کہہ نہںہ سکتے
الفاظ جھجکتے ہںِ لرزتے ہںہ معنی
کچھ اور بجز صل علی ٰکہہ نہںر سکتے
اسی طرح آپ نے حضرت فا طمة الزھرا سلام اللہ علہاک کے بارے مںت ایمان افروزمنقبت لکھی۔ایک خوبصورت شعر ملاحظہ فرمائیے۔
واللہ بے مثال تھی شادی بتول کی
بٹالخد اکے گھر کا تھا ، بٹیع رسول کی
سدا فخرالدین بلے کو اردو،فارسی،عربی،انگریزی اور ہندی زبانوں پر یکساں عبورحاصل تھا۔ جو ان کی مرتب کردہ مطبوعات سے عابں ہے۔ شعروادب، تاریخ وفلسفہ،صحافت وثقافت، فنونِ لطفہر واسٹج ڈرامہ، تصوف وتعلقات عامہ کے مدیان مںح ان کی گراں قدر خدمات ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوپاک کے نامور ادباءاور شعرائے کرام جوش ملیح آبادی،مولوی عبدالحق،مولاناحسرت موہانی،مولانا حسنج احمدمدنی،ڈاکٹرذاکر حسن ،فراق گورکھپوری،جگرمرادآبادی،رشدحاحمدصدیقی اور آل احمد سرورجسیی بلند پایہ شخصتورں نے انہیںاپنےاپنےاندازمںی زبردست خراج تحسن پشر کاس ہے۔عالمی شہرت یافتہ مستشرقہ این مرای شمل، پررحسام الدین راشدی اور ڈاکٹر وزیرآغا نے تصوف مںا انہںا اتھارٹی تسلمم کا ہے۔حققتم مںل انکی 73 سا لہ متحرک اور فعال زندگی علم وادب ،حکمت ودانش، تصنف وتالفل،صحافت وثقافت اور تحققں وتخلقل کی خدمت سے عبارت ہے۔
سدرفخرالدین بلےنے اوائل عمری مںع طالبعلم کی حت ص سے بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح،قائدِملت لاےقت علی خان ،نواب اسماعل خان ،چوہدری خلقب الزمان،سردارعبدالرب نشتر اور حسن، شہدل سہروردی کے عوامی جلسوں مںس خطاب کرنے کی سعادت حا صل کی۔اور اپنی جرات، بے باکی اور دل کش انداز خطابت پر بھرپور داد وتحسنح وصول کی۔وہ 1946-47 ء مں مسلم اسٹوڈنٹس فڈبریشن مسلم یونو رسٹی علی گڑھ کے جوائنٹ سیکرٹری کےعہدے پر فائزرہے۔ اور تحریک پاکستان کے دوران طالب علمی کے زمانے مںو قدووبند کی صعوبتںئ بھی جھںرٹر۔سد فخرالدین بلے ملتان کی قدامت وجلالت کے علمبردار تھے اور برملا اسے ملک کا ثقافتی دارالحکومت کہتے تھے اور فرماتے تھے کہ قومی یافت و دریافت کی تحققر کے کام کےلئے ملتان سے بہتر کوئی اور شہر نہںت ہو سکتا۔تاریخ کے حوالے سے وہ ملتان کو دناف کا قدیم شہرسمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ بعض محققنت کے مطابق اگر یہ تسلمے بھی کرلات جائے کہ دمشق دناش کا قدیم ترین شہرہے۔ تب بھی ملتان کی حیثیت دوسرے نمبر پر ہے۔ ملتان کی عظمت و جلالت پر گفتگو کے دوران وہ ایک تاریخی جملے کا اکثر حوالہ دیتے تھے۔کہتے تھے حضرت داتا گنج بخش ہجویری نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف کشف المحجوب میں لاہور کا تعارف’ لاہورکہ یکے ازمضافات ملتان است ، کہہ کرکرایا ہے۔وہ فرماتے تھے کہ رگ وید جیسی مشہور کتاب بھی ملتان کی تہذیب پر نازاں ہے۔ وہ خود کو اس دھرتی کا مقروض سمجھتے تھے اور اسکی مٹی کا قرض چکانا اپنا فرض قرار دیتے تھے۔
بلے صاحب کی تحقیق کے مطابق تہذیب اور مدنیت کا آغاز ملتان سے ہوا ۔اور نظر یہ پاکستان کی بنیاد بھی اسی سرزمین پر رکھی گئی ۔وہ اس طرح کہ جب 1193 میں سلطان محمود غوری کا لشکر ترائین کے میدان میں خمیہ زن تھا اور ہندو مہاراجاوں کے لشکر جنگ کے لئے صف آرا ءہو رہے تھے تو سلطان محمد غوری نے جنگ سے گریز کے لئے 15 مہاراجاﺅں کو ایک مراسلہ بھیجا۔جس میں اس نے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ ریاست کے قیام کے لئے تجویز پیش کی اور لکھا کہ ہم تمہارے ساتھ اس بات پر صلح کرتے ہیں کہ پنجاب اور ملتان کے علاقے ہمیں دے دئیے جائیں اور باقی ہندوستان تمہارے پاس رہے (یاد رہے کہ ملتان اس وقت پاکستان سے بھی بڑے علاقے پر مشتمل تھا )۔
میری پہلی ملاقات بلے صاحب سے اس وقت ہوئی، جب وہ محکمہ سماجی بہبود پنجاب میں ڈیپوٹیشن پر پی آر او کے فرائض سرانجام دے رہے تھے ۔میں ان دنوں گورنر پنجاب کا افسر تعلقات عامہ تھا۔ ملاقات کے وقت وہ اپنے سٹینو گرافر کو ڈکٹیشن دے رہے تھے ۔جس سے ان کے علم کی وسعت ،پیشہ ورانہ مہارت ،انگریزی زبان پر عبور اور ذہنی صلاحیتوں کا اندازہ ہوتا تھا۔ بعد ازاں مجھے ان کی تحریر و تقریر پڑھنے اور سننے کے بے شمار مواقع ملے اور میں نے یہ دیکھا کہ وہ ان ہر دو امور میں ید ِطولی ٰ رکھتے تھے ۔یہی وجہ ہے کہ جب کسی وفاقی یا صوبائی حکام بالا کو کسی اہم موقع پر تقریر کرنے کی ضرورت پیش آتی تو وہ اپنے عملہ کے افسران کو نظر انداز کر کے یہ ذمہ داری ان کے سپر د کردیا کرتے تھے ۔
میری بلے صاحب سے رفاقت تقریباً 40 سال پر محیط رہی اور انکی ہمہ گیر اور پہلو دار شخصیت کے مختلف گوشے جب مجھ پر وقتا فوقتا عیاں ہوئے تو مجھے وہ سراپا کرشماتی اور ناقابل ِادراک شخصیت نظر آنے لگے ۔ اس رفاقت کے دوران پیش آنے والے اور کچھ انکی زبانی سنے ہوئے چند واقعات پیش خدمت ہیں۔ جن سے انکی محیرالعقول کر شماتی اور غیر معمولی صفات اور صلاحیتوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔البتہ یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ میرے پاس ان کی یادوں کا ایک بڑاخزانہ ہے۔
ایک مرتبہ ذوالفقار علی بھٹو جب سردار سورن سنگھ سابق وزیر خارجہ بھارت سے بطور وزیر خارجہ پاکستان کشمیر پر مذاکرات کے لئے نئی دہلی گئے تو انہوں نے فخرالدین بلے کو ا پنے وفد میں شامل کر لیا ۔اس دورے کے دوران ایک دن پاکستان کے ہائی کمشنر برائے بھارت آغا ہلالی بھٹو صاحب سے ملاقات کے لئے آئے تو اس وقت فخرالدین بلے بھی اس کمرے میں موجود تھے۔ دوران گفتگو آغا ہلالی نے بھٹو صاحب کو بتایا کہ اگلے روز بھارت کے ایک قومی سطح کے روزنامے میں انکے خلاف ایک نہایت زہریلا مضمون شائع ہو رہا ہے۔ یہ سن کر فخرالدین بلے صاحب چپکے سے کمرے سے باہر آگئے اور تقریبا ًدو گھنٹے بعد واپس پہنچ کر بھٹو صاحب کو مذکورہ مضمون کا مسودہ پیش کر دیا ۔جسے دیکھ کر بھٹو صاحب حیران رہ گئے اور تعجب سے بلے صاحب سے دریافت کیا کہ کیا اب یہ مضمون اخبار میں شائع نہیں ہوگا ۔بلے صاحب نے کہا کہ اس کی اشاعت اب کیسے ممکن ہے؟۔ کیونکہ مضمون کا اصل مسودہ تو آپ کے ہاتھ میں ہے (یاد رہے کہ اس وقت تک فوٹوسٹیٹ مشین دریافت نہیں ہوئی تھی ) وطن واپس پہنچ کر ذوالفقار علی بھٹو نے بلے صاحب کی اس حیران کن اور فقیدالمثال کارکردگی سے متاثر ہو کر ان کی رپورٹ میں یہ درج ذیل ریمارکس لکھے
The performance of Mr. FakhruddinBalley at New Dehli was Excellently Excelent.
ایک غیر ملک میں ایسا محیر العقول کارنامہ سرانجام دینا یقیناًتعلقات عامہ کی تاریخ میں اپنی نظیر نہیں رکھتا ۔ اسی طرح ایک مرتبہ ذوالفقار علی بھٹو بطور وزیر اعظم پاکستان ملتان تشریف لائے تو عین اس وقت جب وہ ائیر پورٹ سے باہر آنے کے لئے گاڑی میں بیٹھ چکے تھے تو مقامی اخبار کے ایک صحافی نے ان کا بازو پکڑ کر ان سے کوئی سوال پوچھنا چاہا ۔بھٹو صاحب کو اس کی غیر مہذبانہ حرکت پر بہت غصہ آیا اور ان کا موڈ سخت آف ہوگیا ۔اس واقعے سے صوبائی حکومت کے ارباب ِ بست وکشادتشویش میں مبتلا ہوگئے اور وزیر اعلی پنجاب وزیر اعظم سے فارغ ہو کر محکمہ اطلاعات کے افسران کے ہمراہ محکمہ اطلاعات ملتان کے دفتر آ پہنچے۔ جہاں ان دنوں فخرالدین بلے ڈویژنل آفس کے انچارج تھے۔
حنیف رامے وزیر اعلی پنجاب نے افسران محکمہ اطلاعات کے ساتھ ملکر وزیر اعظم کی ناراضگی کے ازالے کے سلسلے میںسوچ بچار شروع کر دی۔ابھی گفتگو جاری تھی کہ بلے صاحب کمرے سے باہر آگئے اور سیدھے وائٹ ہاوس نواب صادق حسین قریشی کی رہائش گاہ پہنچے۔ جہاں وہ ان کے مہمان ٹھہرے ہوئے تھے۔ وہ بھٹو صاحب سے فورا ملنا چاہتے تھے مگر یہ بظاہر ممکن نہ تھا کیونکہ بھٹو صاحب اس وقت غسل فرما رہے تھے۔ تاہم بلے صاحب نے ہرصورت ان سے ملنے کی ٹھان لی تھی۔ لہذا انہوں نے بھٹو صاحب کے ذاتی ملازم کو کسی نہ کسی طرح اپنی مدد پر آمادہ کر لیا اور بلے صاحب غسل خانے میں عین اس وقت جب بھٹو صاحب ٹب میں عسل فرمارہے تھے ، داخل ہو گئے اور مذکورہ صحافی اسکے ادارے اور محکمہ اطلاعات کی جانب سے واقعہ کے بارے میں غیر مشروط معافی مانگی۔ا ور انہیں مطع کیا کہ اخبار کے مالکان نے اس صحافی کو اس کی غیر مہذبانہ حرکت پر فارغ کر دیا ہے۔ جس پر بھٹو صاحب نے کہا کہ وہ ہر گز اس کی روزی ختم کر نا نہیں چاہتے۔ بس اس صحافی کی اچھی طرح جھاڑ پٹی کر دی جائے اور یہ کافی ہے ۔ یہ کارنامہ سرانجام دے کر جب وہ ا پنے دفتر واپس پہنچے تو سیکرٹری اطلاعات شِیخ حفیظ الرحمن بلے صاحب پر بہت برہم ہوئے کہ وہ بغیر بتائے دفتر سے اچانک کیسے چلے گئے۔ جبکہ صوبے کا وزیر اعلیٰ اور ان کے محکمے کے دیگر اعلی افسران ان کے دفتر میں موجود ہیں تاہم جب بلے صاحب نے اپنی پر “اسرار گمشدگی” سے پردہ اٹھایا اور انہیں اور وزیر اعلی کو واقعے کی تفصیل سے آگاہ کیا اور کہا کہ انہوں نے وزیر اعظم صاحب کی ناراضگی دور کر دی ہے تو سب بہت خوش ہوئے اور حنیف رامے نے اس خوشی میں اپنی جیب سے ان سب کو مٹھائی کھلائی۔
سیدفخرالدین بلے صاحب نازک اور پیچیدہ حالات اور معاملات سے نپٹنے کی کس قدر صلاحیت رکھتے تھے۔ اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے۔ ایک مرتبہ ذوالفقار علی بھٹو ملتان کے دورے پر آرہے تھے کہ مقامی صحافیوں نے کسی معاملے پر احتجاج کی غرض سے انکا کالی پٹیاں باندھ کر استقبال کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔بلے صاحب نے نہایت دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھٹو صاحب کو ملتان آمد سے قبل نہ صرف اس پروگرام سے آگاہ کیا بلکہ ان سے یہ بھی کہا کہ جب وہ ملتان پہنچیں گے تو وہ ان کو (بلے صاحب کو) بھی دیگر صحافیوں کے ہمرا ہ کالی پٹی باندھے ہوئے دیکھیں گے۔ یہ سنکر بھٹو صاحب نے حیرت سے بلے صاحب سے پوچھا کہ اس کی کیا وجہ ہے تو بلے صاحب نے کہا کہ جب تک صحافیوں کو اس امر کا یقین نہیں ہوگا کہ” وہ (بلے صاحب) ان میں سے ہیں اور ان کے معاملات اور مسائل سے لا تعلق نہیں “تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ حکومت کی ہر قسم کی ہدایت اور پالیسی پر موثر طور پر عملدرآمد کر ا سکیں۔ یہ سن کر بھٹو صاحب نے انہیں اپنے انداز میں دیگر صحافیوں کے ہمرا ہ انکے استقبال کی اجازت دے دی ۔ بلے صاحب اپنی بے پناہ صلاحیتوں، پیشہ وارانہ مہارت، فہم و فراست اورژرف نگاہی کے سبب محکمہ کی پہچان تھے۔ اور سیاسی وسماجی حکومتی ِشخصیات بھی ان کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتی تھیں اور انکی بے مثال کارکردگی اور غیر معمولی کارناموں کی معترف تھیں۔پاکستان میں ایسی کوئی شخصیت اعلی عہدے پر فائز نہیں رہی ۔جس سے فخرالدین بلے کے ذاتی مراسم نہ رہے ہوں۔ جن نامور شخصیتوں سے اپنے تعلقات کے بارے وہ مختلف اوقات میں تذکرہ کر تے رہے ۔اور بعض کا میں یا محکمے کے دیگر اعلیٰ افسران گواہ ہیں، ان میں صدر پاکستان محمد ایوب خان،صدر جنرل محمدضیاءالحق، وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو ، وزیر اعظم نواز شریف ، وزیر اعظم بینظیر بھٹو، گورنر مغربی پاکستان ملک امیر محمد خان ، گورنر پنجاب سجاد حسین قریشی، اور وزیر اعلی پنجاب غلام حیدر وائیں قابل ذکر ہیں ۔
اسی طرح زندگی کے دیگر شعبوں میں ان کے جن نامور شخصیتوں سے ذاتی مراسم رہے۔ ان میں مولانا ابولکلام آزاد ، ڈاکٹر ذاکر حسین ، مولانا حسرت موہانی، مولوی عبدالحق ،علامہ نیاز فتح پوری، جگر مراد آبادی، سر شاہنواز بھٹو، سیماب اکبرآبادی، رشید احمد صدیقی، شامل ہیں اور ا پنے ہم عصروں میں فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، سعادت حسن منٹو، ڈاکٹر سید عبداللہ، احسان دانش، قدرت اللہ شہاب، جگن ناتھ آزاد ، حفیظ جالندھری، اور صادقین کے نام آتے ہیں۔ ممتاز صحافیوں میں حمید نظامی، میرخلیل الرحمن، زیڈ اے سلہری، عبدالقادر حسن ، اور منو بھائی سے قریبی تعلقات رہے ۔ مختصر یہ کہ بلے صاحب کے تعلقات بڑے وسیع تھے اور ان کے مہربانوں اور قدردانوں کی کمی نہیں تھی۔ گورنر پنجاب سجاد حسین قریشی کا ایک دلچسپ واقعہ مجھے یاد آیا۔ وہ یہ کہ ایک نا مور بیوروکریٹ نے بطور سیکرٹری محکمہ اطلاعات ابھی جارچ سنبھالا ہی تھا اور وہ گورنر پنجاب سے اپنی پہلی رسمی ملاقات کر رہے تھے کہ دوران گفتگو گورنر صاحب نے ان سے محکمہ کے معاملات اور مسائل کے بارے میں دریافت کیا ۔جس پر انہوں نے گورنر صاحب سے کہا کہ باقی تو سب ٹھیک ہے مگر ایک افسر جن کا نام سید فخرالدین بلے ہے، بعض اوقات درد سر بن جاتا ہے ۔جس پر گورنر صاحب نے بے ساختہ ان کو ہاتھ اٹھانے کو کہا اور خود بھی دعا کے لئے ہاتھ اٹھا لئے اور یو ں گو یا ہوئے کہ یااللہ ہماری آل اولاد کو بھی سید فحرالدین بلے جیسا لائق فائق اور سعادت مند بنادے۔ یہ سن کر سیکرٹری صاحب نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا کہ دراصل ان کا بلے صاحب کے بارے میں اب تک کوئی ذاتی تجربہ نہیں ہوا ہے۔ اور انہوں نے ان کے ساتھیوں کی یہ بات بغیر تحقیق کے ان سے کہہ دی ہے ۔
بلے صاحب پر حکام بالا کس قدر اعتماد کرتے تھے۔ اس کا اندازہ اس واقعہ سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ وہ یہ کہ ایک مرتبہ غلام مصطفےٰ کھر جو ان دنوں گورنر پنجاب تھے، نے اپنے ملتان کے دورے کے دوران صحافیوں کی ایک فہرست انتظامیہ کے ایک اعلیٰ افسر کو دیتے ہوئے کہا کہ فہرست میں درج صحافی ان کے ہمراہ دورے پر جائیں گے اور انہیں اس سلسلے میں ضروری کارروائی کی تاکید کی۔ جب یہ فہرست مطلوبہ کارروائی کیلئے بلے صاحب کے پاس پہنچی تو انہوں نے فہرست میں سے ایک نام حذف کردیا ۔جس پر مذکورہ افسر نے گورنر کو شکایت کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی مرتب کردہ فہرست میں سے ایک صحافی کا نام بلے صاحب نے حذف کردیا ہے۔ باقی تمام صحافیوں کا انتظام فہرست کے مطابق کردیا گیا ہے۔ گورنر پنجاب نے یہ سن کر کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہا کہ اگر بلے نے ایسا کیا ہے تو پھر ٹھیک ہی کیا ہوگا۔
سید فخرالدین بلے کے بے نظیر اور عظیم کارناموں میں ایک کارنامہ ملتان آرٹس کونسل کی اسٹیج سے 25ڈراموں کا انعقاد ہے۔ انہوں نے ان ڈراموں کا انعقاد جن کا نام جشن تمثیل رکھا گیا۔ بطور ڈائریکٹر آرٹس کونسل ملتان سرانجام دیا۔ ان ڈراموں کی انفرادیت اور خصوصیت یہ تھی کہ ایک ہی اسٹیج سے روزانہ ایک نئی کہانی اور نئے فنکاروں کی ٹیم کے ساتھ ایک نیا ڈرامہ پیش کیا گیا ۔ ان ڈراموں نے صاحبان فن اور اسٹیج سے وابستہ لوگوں اور عوام کو حیران اور ششدر کردیا۔ ان ڈراموں کی ملکی اور غیرملکی سطح پر بڑی پذیرائی ہوئی اور انگلستان جیسے ملک نے جہاں اسٹیج ڈراموں کی روایات بہت قدیم ہیں کے اخبارات میں اس کاوش کو سراہا گیا۔ بلے صاحب کو اس جشن تمثیل کے انعقاد پر مین آف دی اسٹیج کا گولڈ میڈل اور محسن فن کا خطاب دیا گیا۔ان ڈراموں کا انعقاد جن حالات اور جس انداز میں عمل میں آیا، وہ بھی نہایت دلچسپ ہیں۔ دراصل وسائل نہ ہونے کے برابر تھے اور مختلف اداروں اور شخصیات کے تعاون سے صرف پینتالیس ہزار روپے اکٹھے کئے جا سکے۔ جس سے 25ڈراموں کے لئے ہر روز نئی اسٹیج کا سازو سامان کا خرچہ و دیگر متفرق اخراجات پورے کئے جا سکیں ۔ اس پر مستزادیہ کہ جشن تمثیل کی تیاری شروع ہو چکی تھی۔ جب بلے صاحب نے کمشنر ملتان جو کہ آرٹس کونسل کے چیئر مین بھی تھے ،سے ڈراموں کے انعقاد کی اجازت طلب کی تو چیئر مین نے اجازت دینے سے انکار کر دیا ۔مگر اس کے باوجود بلے صاحب نے جشن تمثیل کی تیاریوں کا سلسلہجاری رکھا اور جب ڈراموں کی نمائش شروع ہو ئی تو انہوں نے شہر میں ایک تہلکہ مچا دیا ۔ چیئر مین آرٹس کونسل نے خود بلے صاحب کو فون کیا اور ان سے کہا کہ کیا وہ ان کو (چیئر مین صاحب کو) ڈرامے کے لئے مدعو نہیں کریں گے ۔بلے صاحب نے اس پر جوابا ًکہا کہ بطور چیئر مین آرٹس کونسل آپ جشن تمثیل کے میزبان ہیں۔ آپ کو تو روز اول ہی سے جشن تمثیل کو رونق بخشنی چاہیئے تھی۔
سید فخر الدین بلے سماع اور قوالی سے بھی بڑا شغف رکھتے تھے۔ ان کا ایک منفرد اور عظیم کار نامہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے حضرت امیر خسرو کے سات سو برس بعد قول( یعنی قول رسول مقبول ﷺ)”من کنت مولافھٰذا علیؑ مولا” کی نئی تصریحی تہذیب کی۔ اور صاحبان ذوق کو ایک۔ نیا رنگ۔بھی عطا کیا۔ ان کی اس غیر معمولی اور عظیم کاوش کو ارباب علم وفن نے بے حد سراہا اور اسے قوالی کے باب میں ایک خوبصورت اضافہ قرار دیا ۔
بلے صاحب جیسا جرات مند ،خوددار، انتھک، لوگوں کا معین و مدد گار اور برائی کا بدلہ نیکی سے دینے والا اور ماتحتوں کی غلطیاں اپنے سر لینے والا افسر میں نے اپنی پوری ملازمت کے دوران نہیں دیکھا۔ اپنا ہو یا غیر ،کسی بھی کام کی غرض سے جب کوئی ان سے ملتا تھا تو وہ اسکی مدد کےلئے ہمیشہ تیار ہو جاتے۔ ان کے احباب کو انکی ذات پر بے حد بھروسہ تھا اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ بلے صاحب مشکل سے مشکل کام کا کوئی نہ کوئی حل ضرور نکال لیتے ہیں۔ اور وہ اکثر ایسا کر نے میں کامیاب بھی ہو جاتے تھے۔ بلے صاحب کا یہ معمول تھا کہ وہ رات بھر مطالعہ، غور وخوض اور تصنیف و تالیف کے کاموں میں مصروف رہتے اور سورج کے طلوع ہونے سے قبل کبھی بستر پر نہ لیٹتے تھے۔ وہ مسلسل محنت، مصروفیت اور بیماری کے باوجود ہمیشہ ترو تازہ، ہشاش بشاش اور شگفتہ نظر آتے تھے ۔ اگر چہ ان کو دوران ملازمت ہی دل کا عارضہ لا حق ہو گیا تھا مگر ان کے معمولات زندگی میں کبھی کوئی فرق نہیں آیا ۔ ڈاکٹروں نے انہیں تین منٹ سے زیادہ پیدل چلنے اور سیگریٹ نوشی سے سخت منع کیا ہوا تھا۔ مگر اس کے باوجود انہوں نے سگریٹ نوشی ترک نہ کی اور نہ ہی اپنی فعال زندگی میں کوئی فرق آنے دیا۔ بعض اوقات ان کو اپنے گھر میں ہی بیس بیس گھنٹے آکسیجن کا سلنڈر استعمال کرنا پڑتا تھا ۔مگر مروت و مہمان نوازی کا یہ عالم تھا کہ اس حالت میں بھی جب کوئی ان سے ملنے آتا تو بستر سے اٹھ بیٹھتے تھے۔ بعض اوقات ان کی نبض اور بلڈ پریشر حد سے زیادہ نیچے آ جا تا تھا مگر وہ معجزانہ طور پر کچھ گھنٹوں بعد ہی بستر سے اٹھ کر روز مرہ کے معمولات میں مصروف ہو جاتے تھے۔
دوران ملازمت اپنے مخصوص انداز اور اپنی مرضی کے مطابق سرکاری فرائض انجام دینے کے سبب انہیں دو مرتبہ سخت پریشانی کا سامنا بھی کر نا پڑا ۔ایک مرتبہ جبکہ انکی ترقی اس مزاج اور روش کے سبب روک دی گئی۔ اور دوسری مرتبہ جب انہی وجوہات کی بناءپر انکو 25سال مکمل ہونے پر جبری طور پر ریٹائر کر دیا گیا ۔مگر انکی کرشماتی شخصیت اور حکام بالا کے دلوں میں انکی قدرومنزلت انکے کام آئی اور نہ صرف کچھ عرصہ بعد انہیں ترقی دے دی گئی بلکہ جبری ریٹائر منٹ کے ایک سال بعد انہیں دوبارہ انکے عہدے پر بحال کر دیا گیا۔ ہوا یوں کہ انکی ملاقات کسی تقریب میں جنرل محمد ضیاءالحق صدر پاکستان سے ہوئی۔ جب انہوں نے بلے صاحب سے ان کا حال دریافت کیا تو بلے صاحب نے انہیں بتایا کہ وہ حکومت پنجاب کی خصوصی مہربانیوں کی وجہ سے جبری طور پر ریٹائر کر دیئے گئے ہیں۔ یہ سن کر جنرل صاحبخاموش ہوگئے ۔ مگر چند ہی دنوں بعد پنجاب حکومت کے افسران بالا نے ان سے رابطہ کر کے انہیں اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کیہدایت کی اور انہیں بتایا کہ گزشتہ ایک سال کی مدت کو رخصت استحقاقیہ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
سچ بات تو یہ ہے کہ سید فخر الدین بلے جیسی کرشماتی اور طلسماتی شخصیت کے انتقال کی خبر جب مجھے ملی تو مجھے یقین ہی نہیں آیا۔ کیونکہ وہ اپنی بے پناہ قوت ارادی اور مولائے کائنات سے والہانہ وابستگی کے طفیل بارہا انتہائی خطر ناک اور نازک ترین صورتحال سے دو چار ہو نے کے باوجود صحت یاب ہو جاتے۔ اور انکے ڈاکٹر بھی انکی زندگی کی بقا پر حیران ہو تے تھے۔ لہذا میں نے بھی یہی سوچا کہ بلے صاحب اس مرتبہ بھی موت کو شکست دینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ بہر حال اب جبکہ وہ واقعی ہم سب کا ساتھ چھوڑ گئے ہیں تو میں ان کے مندجہ ذیل شعر کی روشنی میں انہیں ایک نئے روپ میں زندہ دیکھ رہاہوں
الفاظ وصوت و رنگ و تصور کے روپ میں
زندہ ہیں لوگ آج بھی مرنے کے باوجود
سیدفخرالدین بلے ۔ ایک کرشماتی شخصیت
تحریر:سیداظہرامام زیدی، ریٹائرڈڈائریکٹر انفامیشن ، پنجاب

سید فخر الدین بلے ۔ایک دبنگ افسر۔ایک طلسماتی شخصیت
تحریر : نذیرخالد،ریٹائرڈ ڈائریکٹر تعلقات عامہ ،پنجاب ،بہاولپورڈویژن
یہ 1977ءکی بات ہے، جب جنرل ضیاءالحق نے مارشل لاءلگایا تو پورا ملک خوف کی شدید لپیٹ میں تھا۔کوڑے مارنے ،جیل میں ڈالنے اور شاہی قلعے کے عقوبت خانے کے چرچے عام تھے۔ مارشل لاء حکومت اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لئے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عوام کو دہشت زدہ کر رہی تھی ۔ اخبارات پر پری سنسر شپ عائد تھی ۔سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ بنیادی شہری حقوق بھی معطل تھے اور اعلیٰ عدالتیں اپنی سابقہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے نظریہء ضرورت کو اپنے فیصلے کی دلیل بنائے بیٹھی تھیں اور کسی شخص کی جرا ت نہ تھی کہ مارشل لاء حکام کے سامنے زبان کھولے۔
ان دنوں میری ملازمت کاا بھی آغاز تھا او ر میں سرگودھا (جو میرا آبائی شہر تھا) میں ڈویثرنل انفرمیشن آفس میں تعنیات تھا ۔ہمارے مقامی اخبار نویس دوست جو مختلف قومی اخبارات اور خبر رساں اداروں کی نمائندگی کر رہے تھے ۔مارشل لاءحکام کے ہاتھوں آئے روز ذلت و رسوائی کا سامنا کرتے تھے۔ نو عمر کیپٹن اور میجرز جو بے پناہ اختیارات کے مالک اور کسی کے سامنے جوابدہ نہ تھے، صحافیوں کو اپنے دفاتر کے باہر بنچوں پر بٹھا کر گھنٹوں انتظار کرواتے اور جب ان کو اند ر بلاتے تو سخت اور نامناسب زبان استعمال کرتے ۔انہیں اس امر پر بھی زجرو توبیخ کرتے کہ فلاںخبر اور تصویر آج کیوں چھپی ہے ؟یہ واقعہ تو دو دن پہلے کا ہے اور اس کے ساتھ آج کا لفظ کیوں لکھا ہوا ہے….وغیرہ وغیرہ – ہمارا محکمہ اور مقامی دفتر جسے صحافی دوستوں کی عزت و توقیر کیلئے “آگے” آنا چاہیے تھا، بوجوہ یہ جراتِ رندانہ نہ دکھا سکا- عین انہی دنوں سید فخرالدین بلے صاحب بطور ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن (انچارج ڈویژنل آفس) ملتان سے ٹرانسفر ہو کر سرگودھا آئے۔ چونکہ فوری طور پر بلے صاحب کے پیشرو سرکاری رہائش گاہ خالی نہیں کر سکتے تھے، اس لئے بلے صاحب عارضی طورپر ایک سرکاری ریسٹ ہاءو¶س میں مقیم ہو گئے۔سرگودھا آمد کے بعد انہیں جب صحافیوں کے مسائل اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے ناروا سلوک کا علم ہوا تو وہ اگلی صبح بغیر کسی تیاری یا ڈریس اپ ہوئے، شلوار قمیض میں ملبوس ڈپٹی مارشل لاءایڈمنسٹریٹر (ڈی ایم ایل اے جو مارشل لاءدور میں ڈویژن کے انچارج تھے) کے آفس پہنچ گئے اور کچھ دیر بعدوہ ڈی ایم ایل ا ے صاحب کے سامنے ٹیبل پر بیٹھے تھے ، بلے صاحب نے کہا کہ میں نے کل ہی یہاں چارج سنبھالا ہے مگر یہ معلوم کرکے مجھے بے حد افسوس ہوا ہے کہ جو کام میرے کرنے کا ہے، وہ آپ کے کیپٹن اور میجروں نے سنبھالا ہوا ہے – حضور مجھے یہاں رہنے کا کوئی شوق نہیں ہے، اگر یہ کام ان لوگوں نے ہی کرنے ہیں تو یہ پڑی ہیں آفس کی چابیاں (بلے صاحب کے ہاتھ میں چابیوں کا گچھا تھا، وہ انہوںنے ڈی ایم ایل اے صاحب کی طرف میز پر پھینک دیا) وہ آفس بھی آپ سنبھالئے ۔میں واپس چلا جاتا ہوں، ڈی ایم ایل اے صاحب نے پوچھا کہ معاملہ کیا ہے؟ بلے صاحب نے چند ایک واقعات سنانے کے بعد کہا کہ دیکھئے میں صحافیوں کی اور وہ میری زبان سمجھتے ہیں، آپ کو جو کچھ چاہیئے آپ مجھے کہیں ۔کوا کوے کی زبان سمجھتا ہے ، آپ کیوں برے بنتے ہیں، صحافیوں کے ساتھ مجھے معاملات کرنے دیجئے- چونکہ بلے صاحب کے اندر انتہا کی خود اعتمادی، حوصلہ اور نڈرپن تھا، اس لئے ان کی یہ گفتگو ڈی ایم ایل اے صاحب پر کام کر گئی اور انہوںنے کہا کہ بلے صاحب آپ مکمل آزادی سے اپنا کام کیجئے۔ میرے آفس کی جانب سے کوئی مداخلت نہیں ہو گی- وہ دن گیا….اس کے بعد مارشل لاءحکام نے کبھی صحافیوں کو اپنے آفس “طلب” نہیں کیا اور بعد میں جتنی دیر بھی بلے صاحب وہاں رہے، ہمارے آفس مارشل لاءحکام اور صحافی دوستوں کے درمیان بڑے مثالی تعلقات رہے۔ یہ سب بلے صاحب کی وجہ سے تھا-
پبلک ریلیشننگ یا تعلقات عامہ کا نظریہ ترقی یافتہ ممالک سے یہاں آیا ہے۔ جب یہ شعبہ یہاں قائم ہوا تو اس کو صحیح طریقے سے اپنایا نہیں گیا اور اس پودے کو درست طور پر جڑیں ہی نہیں پکڑنے دی گئیں- اس شعبے سے متعلق لوگوں کی باقاعدہ تربیت یاریفریشرکورس کا اہتمام ہی نہیں کیا گیا -نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں پبلک ریلیشننگ کا ہر آفیسر اپنی سوجھ بوجھ اور مرضی کے مطابق کام کرتا اور خود ہی اپنے دائرہ ءکار کا تعین کرتاہے۔اور اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ کسی ادارے کے پی آر او اس ادارے کے امیج کو بہتر کرنے کے بجائے اپنے باس کو خوش کرنے کے لئے چٹکلے اور لطیفے سنا کر محظوظ کرنے اور ان کے نجی کامو ںمیں معاونت کو ہی اپنا فرض عین سمجھتے ہیں لیکن بلے صاحب اس کے بالکل برعکس تھے – اس محکمہ کے جس آفیسر نے ایک تربیتی ادارہ کا کردار ادا کیا، وہ سید فخر الدین بلے صاحب تھے۔اس محکمہ کے بیشمار لوگوں نے بلے صاحب سے سیکھا اور ان کی پیروی کر کے کامیاب ہوئے۔ میں بلے صاحب کے بیٹوں انجم معین بلے اور عارف معین بلے کا ہم عمر تھا اور بلے صاحب کی شفقت اور کشادہ دلی کا یہ حال تھا کہ میں ان کا سب آرڈینیٹ کم تھا اوراس سے کہیں زیادہ ان کے بچوں میں شمار تھا-
وہ غلطیوں سے پاک نہایت معیاری اردو اور انگریزی لکھنے پر قادر تھے، اورروانی کے ساتھ ڈکٹیشن دیتے تھے لیکن یہ بات بھی تھی کہ وہ اپنے ہی لکھائے ہو ئے ڈرافٹ کو ہر بار سامنے آنے پرمزید درست کر دیتے تھے۔ اکثر سٹینو گرافرکو ہدایت ہوتی تھی کہ وہ ایک دفعہ چیک کروانے کے بعد دوبارہ ان کے سامنے نہ رکھے، ورنہ وہ ہر بار اسے بدل دیں گے۔بلے صاحب اردو زبان میں شاعری کرتے تھے اور خوبصورت نثر لکھتے تھے ، بہت عمدہ مقرر اور انکا حافظہ بھی کمال کا تھا- میں نے بلے صاحب کے ساتھ کئی سال گزارے، ہر اجلاس ، ہر تقریب حتی ٰکہ ان کی نجی محفلوں میں بھی شریک ہوتا رہا، میں نے اس شخص کو :
i) کبھی گھبرایا ہوا نہیں دیکھا، وقت جیسا بھی آیا اور جو معاملہ بھی ہوا، وہ بالکل نارمل نظر آئے۔
ii) میں نے انہیں کبھی ایک دفعہ بھی غصے میں نہیں دیکھا۔
iii) وہ ایک بہترین منتظم تھے، پنجاب کے کم و بیش تمام ڈویژنوں میں اور بیشتر اضلاع میں تعینات رہے۔ وہ جہاں بھی رہے، وہاں کے آفس کو انہوںنے بنایا سنوارا، اس وقت جن اضلاع میں بہترین انفارمیشن دفاتر قائم ہیں ۔سمجھ لیجئے کہ وہاں بلے صاحب کبھی تعینات رہے ہونگے۔ وہ جہاں تعینات ہوتے، اپنے محکمہ کا وقار بلند کردیتے۔ پریس کلب کو خوبصورت اور اسکی کارکردگی کو بہتر بناتے۔ ان کے بعد آنے والے کو یہ آسانی تو ضرور حاصل ہوجاتی کہ ایک بنا بنایا تمام ضروری سامان سے مزین دفتر اور ضلعی و ڈویژنل انتظامیہ کے ساتھ عمدہ تعلقات ورثے میں مل جاتے مگر اس دقت کا سامنا بھی ضرور کرنا پڑتا کہ تعلقات عامہ کا جو کڑا معیار وہ قائم کر گئے ہوتے تھے، اس کو برقرار رکھنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہوتا تھا۔
iv) بلے صاحب معذرت خواہانہ انداز یا Low profile میں کام کرنے کے عادی نہ تھے، وہ پرو ایکٹو رہ کر کام کرتے تھے، نتیجہ یہ نکلتا کہ کیا کمشنر اور کیا ڈی آئی جی اور دیگر افسران ، بلے صاحب کی شان میں رطب اللسان نظر آتے تھے۔
میں نے بلے صاحب کو کہیں کسی بڑے سے بڑے آفیسرکی بھی خوشامد یا چاپلوسی کرتے نہیں دیکھا ، وہ ساری عزت اپنے کام کی وجہ سے کماتے تھے۔وہ کبھی کسی سے مرعوب نہیں ہوتے تھے اور کمال حوصلے اور جرات کے ساتھ بات کرتے تھے۔ پبلک ریلشننگ کے حوالے سے وہ کہا کرتے تھے کہ اگر ایک تانگے بان، رکشے والے اور عام دکاندار کو معلوم نہیں کہ انفرمیشن آفس کہاں واقع ہے؟ وہاں کون تعینات ہے؟ تو پھر آپ تعلقات عامہ کے کام میں کامیاب نہیں ہوئے ۔
بلے صاحب اہل قلم اور اہل علم کے بہت بڑے قدردان تھے۔ ان کی تعظیم اور تکریم میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھتے، اعلیٰ سرکاری افسران اور وزراءکے سامنے بھی وہ اہل علم کو ہی اولیت دیتے اور ان کے سامنے بھی ان کا ہی وقار بناتے۔ ذوالفقار علی بھٹو بلے صاحب کو ذاتی طور پر جانتے اور پہچانتے تھے – ان کے بعد ضیاءالحق آئے وہ بھی ان سے ذاتی واقفیت رکھتے تھے، جونیجو اور نواز شریف بھی انہیں اچھی طرح جانتے تھے ۔جبکہ غلام حیدر وائیں (سابق وزیر اعلی پنجاب) کی تو ان سے بہت بے تکلفی تھی، منظور احمد وٹو (وزیر اعلی پنجاب) بھی بلے صاحب کو جانتے تھے- بلے صاحب نے مذکورہ بالا اور دیگر اعلی حکام کے ساتھ واقفیت ہونے کے باوجود ان سے کوئی ذاتی مفاد نہیں اٹھایا، انہوںنے مختلف شہروں میں اپنی تعنیاتی کے دوران متعدد اخبار نویسوں، اہل قلم اور اہل ہنر کو حکام سے رہائشی پلاٹ یا مالی امداد لیکر دی مگر وہ خود اور ان کے اہل خانہ ہمیشہ کرائے کے مکانوں میں رہے۔ پاکستان میں ان کا اپنا کوئی ذاتی مکان نہ تھا۔ افسوس کہ ان کی وفات کے بعد بھی ان کا خاندان چھت سے محروم ہی رہا ہے –
بلے صاحب نے زندگی میں سیکرٹ بہت کم پالے ہیں ۔ان کی زندگی کھلی کتاب کی طرح تھی، ان کا کوئی راز،راز نہیں تھا ۔کوئی چیز پوشیدہ نہیں تھی، آفس میں بھی کوئی چیز وہ تالے میں نہیں رکھتے تھے، دوسروں پر اعتماد کرنے کے عادی تھے۔ درحقیقت انہیں اپنے آپ پر اعتماد تھا، وہ غریب پرورتھے، لوگوں کے ساتھ مہربانی سے پیش آتے تھے، آنے والے کی عزت افزائی کرتے تھے اور جو بھی اہلِ علم ان سے ملتا، وہ یہ تاثر لیکر جاتا کہ اس سے بڑا اہل علم یہاں موجود ہے، زبردست منصوبہ ساز تھے اورجیب میں پیسہ نہ ہونا ان کے لئے نہ تو وجہ ِ پریشانی تھا اور نہ ہی ان کے ارادوں میں رکاوٹ کا باعث بنتا تھا بلکہ انہوںنے تو اپنی ذاتی زندگی پیسے کے بغیر ہی گزاری، مہمان نوازی میں اتنے فراخ دل تھے کہ ان کا دستر خوان بہت کشادہ اور پرتکلف ہوتا تھا –
ایک بات انوکھی دیکھی ان میں ۔ وہ شطرنج کے بہت رسیا تھے پر میں نے انہیں ایک بھی شطرنج کی بازی جیتتے ہوئے نہیں دیکھا مگر وہ اس کے باوجود بڑے چائو ¶ اور شوق کے ساتھ ہر روز شطرنج کھیلتے تھے۔ شاید دوسروں کی جیت میں وہ زیادہ خوشی محسوس کرتے تھے-
بلے صاحب دین کا بہت گہرا علم رکھتے تھے لیکن ان کا ظاہر ایک ملامتی فرقہ کے درویش کا سا تھا- آرٹس کونسل کے انچارج کی حیثیت سے ایک دفعہ انہوںنے ہفتہ تقریبات کا انعقاد کیا۔ اس موقع پر ایک سیمینار میں قوالی اور موسیقی زیر بحث لائے گئے- اس موقع پر بلے صاحب نے ایک مختصر کتابچہ شائع کیا ،جس میں احادیث اور تاریخ اسلام میں سے کچھ واقعات درج کئے گئے اور یہ ثابت کیا گیا کہ موسیقی حرام نہیں ہے…. یہ کتابچہ راولپنڈی میں پہنچا تو وہاں کے کچھ علماءنے اسے خلافِ اسلام قرار دیتے ہوئے اسے اپنے خطبہ جمعہ کا موصوغ بنایا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس کتابچے کے مصنف (بلے صاحب) کو راولپنڈی کے چوک میں سرعام پھانسی دی جائے ۔راولپنڈی کے ایک وکیل جو اس قسم کے مقدمات دائر کرنے میں ملکی شہرت رکھتے تھے، جناب وہاب الخیری نے بلے صاحب کے خلاف عدالت میں کیس دائر کر دیا، وارنٹ آتے رہے ۔بلے صاحب نے تعمیل نہ کی۔ آخر میں بلا ضمانت گرفتاری کے وارنٹ جاری ہو گئے، بلے صاحب راولپنڈی کی عدالت میں حاضر ہو گئے۔ اگلی بات خود ان کی زبانی سنئیے۔” میں نے عدالت سے کہا کہ میں اپنا کیس خود لڑوں گا، میں نے پوچھا کہ “مدعی کی میرے اس کتابچے سے کیا دل آزاری ہوئی ہے؟ اس میں توہین کا کون سا پہلو ہے”۔ مخالف وکیل نے اپنے اعتراضات پڑھ کر سنائے تو میں نے عدالت سے کہا کہ میں آپ کے سامنے کلمہ پڑھ کر یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں اور یہ کہ میں یہ حلفا ًکہنا چاہتا ہوں کہ میں رسول پاکﷺ کے زمانے میں نہیں تھا نہ ہی میں نے ان ہستیوں کو خود دیکھا ہے، جن کا ذکر میرے اس کتابچے میں ہے ، میں حلفاً کہتا ہوں کہ میں نے جن اسلامی کتب سے یہ حوالہ جات لئے ہیں ،وہ مسلمانوں کے ہاں معتبر مانی جاتی ہیں اور ان میں سے کوئی کتاب بھی ضبط شدہ نہیں ہے ۔ میں نے اپنے کتابچہ میں ان کتب سے حوالہ جات دیئے ہیں ۔اگر ا س میں کوئی غلطی ہوئی ہے تو میں اس کا ذمہ دار ہوں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو میں نے اپنے پاس سے کچھ نہیں لکھا ہے ، اس بیان پر عدالت نے مجھے بری کر دیا اور کیس ختم ہو گیا”۔
بلے صاحب بلا کے ذہین آدمی تھے، آگے آگ اور پیچھے دیوار میں پھنسے ہوئے راہ نکالنا بھی کوئی ان سے سیکھے- انکو نیچا دکھانے کی کوشش کرنے والا منہ کے بل گرتا تھا۔ اس طرح کا ایک واقعہ جس میں ایک آفیسر نے سمارٹ بننے کی کوشش کی ۔ہوا یہ کہ چنیوٹ پریس کلب کے نو منتخب عہدیداروں کی تقریب ِحلف وفاداری تھی۔ جس میں بلے صاحب مہمان خصوصی تھے اور ڈپٹی کمشنر جھنگ صدارت کر رہے تھے، کسی اخبار نویس نے دوران تقریر چنیوٹ شہر کے مسائل بیان کر دیئے۔ جن میں سڑکوں نالیوں کی تعمیر ، پینے کے پانی اور نکاسی آب و غیرہ جیسے مسائل شامل تھے ۔بلے صاحب نے اپنے خطاب میں جہاں اور باتیں کیں، وہاں یہ بھی کہا کہ آج اہل قلم کی تقریب حلف وفاداری تھی مجھے اچھا نہیں لگا کہ “آپ چھوٹے چھوٹے مسائل لیکر کھڑے ہو گئے ہیں۔ اگر یہ مسائل ہیں بھی تو بہتر ہوتا آپ یہ میرے انفرمیشن آفیسر صاحب کے نوٹس میں لے آتے ،وہ ڈپٹی کمشنر صاحب سے بات کر لیتے یا پھر آپ مجھے بتا دیتے ۔میں وہاں ڈپٹی مارشل لاءایڈمنسٹریٹر صاحب سے کہتا، کمشنر صاحب کے علم میں لے آتا”……..تقریب کے صاحب صدر یعنی ڈپٹی کمشنر صاحب نے اس بات کو محسوس کیا اور اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ “مجھے بہت اچھا لگا کہ آپ لوگوں نے یہاں کے مسائل مجھے بتائے ہیں۔ آخر اس طرح کے ملنے کا اور کیا فائدہ ہے کہ ہم اپنے مسائل بھی زیر بحث نہ لائیں ۔پتہ نہیں بلے صاحب کو یہ کیوں اچھا نہیں لگا”۔ جونہی ڈپٹی کمشنر صاحب سٹیج سے اترے ، بلے صاحب نے انہیں کہا کہ “بھائی آپ نے یہ کیا کر دیا؟12 جولائی کا گورنر پنجاب کا ڈائریکٹو آپ تک نہیں پہنچا ،جس میں انہوںنے سختی سے کہا ہے کہ پریس کلبوں کے فورم کو مطالبات کا فورم نہ بننے دیں، میںحکومت کی ایک واضح ہدایت کے حق میں بات کر رہا ہوں اور آپ اس کے الٹ بول رہے ہیں”-ڈپٹی کمشنر صاحب گھبرا گئے (دراصل ایسا کوئی لیٹر تھا ہی نہیں۔ اس لئے ڈپٹی کمشنر صاحب کے علم میں بھی نہیں تھا)- انہوںنے کہا کہ بلے صاحب یہ تو بہت غلط ہو گیا۔ اب آپ ہی اسے سنبھالئے ، بلے صاحب نے کہا کہ یہ سالے تو اس خبر کو خوب اچھا لیں گے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ آپ کا کہا ہوا ان کے لئے کس قدر اہم اور کتنی بڑی خبر ہے۔بہر حال میں کھانے کے بعد انہیں لیکر بیٹھوں گا – کوا کوے کی زبان سمجھتا ہے ، میں انہیں اپنی زبان میں سمجھانے کی کوشش کروں گا۔ڈپٹی کمشنرصاحب بلے صاحب کا شکریہ ادا کرتے رہے اور جتنی دیر وہاں رہے ،بلے صاحب کے ممنون رہے۔
بلے صاحب گہرا دینی علم رکھتے تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ وہ پاپولر عقائد نہیں رکھتے تھے۔ انکی بیماری اور بڑھاپے کا ضعف کبھی انکی راہ کی رکاوٹ نہیں بنے۔دوستوں کے ساتھ انکا بہت کھلا مذاق تھا ۔ممکن ہے پڑھنے والوں میں سے کوئی یہ جاننا چاہیں کہ لفظ بلے کہاں سے آیا اور اس کے کیا معنی ہوئے ؟ یہ وہی لفظ ہے ،جسے ہم دوبار ملا کر بولتے ہیں بلے بلے یعنی شاباش ۔
بلے صاحب نے اپنی ساری زندگی جوانی میں گزاری ۔ ستر سال کی عمر میں بھی وہ جوان ہی تھے۔انکی اولاد میں سے آنس معین بہت کمال کے شاعر تھے۔ افسوس وہ نوعمری میں ہی راہی ملک عدم ہو گئے ۔عارف معین بلے اور ظفر معین بلے بھی بہت اچھے شاعر ہیں ۔
سید فخرالدین بلے صاحب جہاں جہاں بھی تعنیات رہے، ان کی رہائش گاہ ادبی ڈیرہ بنی رہی ۔انہوں نے قافلے کے نام سے ایک ادبی تنظیم بنائی اور ہر ماہ باقا عدگی سے اس قافلے کا “پڑاﺅانکےگھرپرہوتاتھا۔جسمیںہرمکتبفکرکےشاعر،ادیباوراہلعلمشریکہوتےتھےاورآنےوالےمہمانوںکیبھرپورتواضعکیجاتیتھی۔میںذاتیطورپرسرگودھااورلاہورمیںمنعقدہونےوالےپڑاﺅمیںشرکتکرتارہاہوں۔ جب وہ ملازمت سے ریٹائر ہو گئے تو بہاولپور میں جناب سید تابش الوری سے ملاقات میں بلے صاحب نے انہیں کہا کہ وہ عرصہ درراز سے ادبی قافلے کے پڑاﺅکاسلسلہجاریرکھےہوئےہیںلیکنابانکےلئےاسےمزیدچلاناممکننہیںرہا۔اسپرتابشصاحبنےکہاکہابیہکامآپ میرے سپرد کر دیجئے۔ اس کے بعد سے اب تک اس ادبی قافلے کاماہانہ پڑاﺅہرماہکیسولہتاریخکوباقاعدگیکےساتھتابشالوری صاحبکےگھرپرہوتاہے۔جسمیںبزرگاورنوجوان،ادیباورشعراءاپنیاردواورسرائیکیزبانمیںکہیگئیتخلیقاتپیشکرتےہیں۔اسادبیپڑاﺅکیایک خوبصورتی یہ بھی ہے کہ تابش صاحب بہاولپور ہوں یا نہ ہوں،پڑاﺅہرحالمیںہوناہے۔یہاںبھیآنےوالےمہمانوںکیبہتتواضعکیجاتیہے۔تخلیقاتپرصحتمندتنقیداورحوصلہافزائیکیجاتیہےاوردوسرےشہروںسےآنےوالےاہلقلمکوبھییہاںمدعوکیاجاتاہے۔میںخود بھی تابش صاحب کے دولت خانے پر متعدد بارپڑاﺅمیںشریکہواہوں۔بلےصاحبکابہتساکلامنہسنبھالےجانےکیوجہسےضائعہوگیاہے۔بلےصاحبکاایکایساہیشعرجوریکارڈپرنہیںہےاورانہوںنےذائقہبدلنےکیلئےکہاتھا،وہمیرےذہنمیںمحفوظہے،قارئینکیدلچسپی کے لیے پیش ہے۔
گھرسے مسجد کو چلوں ہوںتو خدا جانے کیوں
پاﺅںرکجاویںہیں،جبتیریگلیآوےہے
بلے صاحب اردو زبان کو ہمیشہ اولیت دیتے تھے اور اپنے دستخط ہمیشہ اردو میں ہی کرتے تھے۔ چٹھی خواہ انگریزی کی ہو یا اردو کی -ان کے دستخط بھی کوئی زیادہ مشکل نہ تھے ۔مجھے بھی اجازت تھی کہ بوقت ضرورت ان کی جگہ ان کے دستخط کر دو ں۔ان کے دستخط اگر پڑھے جائیں تو ایسے لگتا تھا ،جیسے حولدار لکھا ہو۔جب وہ سرگودھا میں تھے تو وہاں جنرل ضیاءالحق دورے پر آئے تو بلے صاحب نے ان سے سرگودھا پریس کلب کی نئی عمارت کی تعمیر کے لئے قطعہ اراضی اور گرانٹ کا اعلان کروایااور وہا ں کے مقامی مصور ایم اے لطیف کی لکھی ہوئی قرآنی آیات اور فن پارو ں کو جنرل ضیاءالحق کے سامنے پیش کر کے فنکار کی حوصلہ افزائی کروائی اور غالباٍ جنرل صاحب نے ان میں سے کچھ فن پارے ایوان صدر کے لیے بھی خرید نے کی ہدایت کی تھی ۔بلے صاحب صحافیوں کی کسی بھی تقریب میں اہل اقتدار کے بجائے ہمیشہ اہل قلم او ر اہل علم کی صدارت کو ترجیح دیتے تھے-
بلے صاحب کے زیر سایہ کام کرتے ہوئے یوں تو مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا لیکن دو ایک باتوں کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ایک روز کسی معمولی بات پر میں جذباتی ہو کر غصے میں آ گیا۔جو، اَب سوچتا ہوں تواپنی سر اسر نادانی نظر آتی ہے۔ بلے صاحب نے مجھے سامنے بٹھایا اور بڑی مروت کے ساتھ سمجھایا کہ”بیٹازندگی میں معاملات اس طرح سے نہیں چلتے اور غصے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا ۔انسان کو اس طرح رہنا چاہیے کہ پانی ہے جو بظاہر آپس میں ملا ہوا ہے لیکن اسے جب اور جہاں سے چاہو اور جتنے حصوں میں چاہو آسانی سے تقسیم ہو سکتا ہے، پیاز کو ہی دیکھو اس کی پرتیں بظاہر آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ پیوست ہیںلیکن وہ ایک دوسرے سے آسانی سے جدا بھی ہو سکتی ہیں۔ لہذا زندگی کو اس طرح سے بسر کرو کہ آس پاس کی چیزوں سے جڑے بھی رہو اور جب الگ ہونا پڑے تو آسانی سے الگ بھی ہو جاﺅ۔غالباانکایہسبقمیرےجیسےکمزورنوجوانکےلئےتھا،ورنہوہخودتواسطرحکیپسپائیکےقائلنہتھے –
آخرمیں ان کے چنداشعار پیش خدمت ہیں۔
اپنی کتاب ِ زیست پہ تنقید کے لئے
آخر میں چندسادہ ورق چھوڑ جاﺅںگا
چمن میں فصل ِ بہاراں سہی، خزاں نہ سہی
مگر حضور یہ موسم ضرور بدلے گا
اپنی پاک دھرتی کااب خداہی حافظ ہے
مسندو ں پہ آ بیٹھے،سرحدوں کے رکھوالے
اُٹھائے پھرتاہوں سر اپنے تن کے نیزے پر
ہوئی ہے تنگ زمیں مجھ پہ کربلا کی طرح
نذیرخالد کاصفحہ تمام ہوا مگر مدح باقی ہے ۔سیدفخرالدین بلے ۔ایک داستان ۔ایک دبستان ۔یہ تالیف ہے سید تابش الوری کی ہے۔جس کے ہرباب میں نامور لکھاریوں کے مضامین شامل کئے گئے ہیں ۔ کتاب کے اس باب میں ان کی داستان رفاقت سابق چیف سیکریٹری پنجاب جاوید احمد قریشی، سابق سیکریٹری پنجاب . ڈی جی پی آر اور نامور شاعر شعیب بن عزیز، ریٹائرڈ ڈائریکٹر تعلقات عامہ پنجاب سیداظہرامام زیدی اور ریٹائرڈ ڈائریکٹر تعلقات عامہ نذیرخالد نے اپنے اپنے اندازمیں لکھی ہے ۔ جس سے سیدفخرالدین بلے کی شخصیت اورافسری کے بہت سے رنگ ہمارے سامنے آگئے ہیں ۔
اچھے اچھے لوگ سدا دل دل میں زندہ رہتے ہیں
چھوڑ بھی دیں یہ دُنیا تو سب بلے بلے کہتے ہیں

SHARE

LEAVE A REPLY