علم کا ایک جہاں ڈاکٹر محمود حسین ۔آفتاب احمد‎

0
143

ہم بھی عجیب لوگ ہیں!

گھنے پیڑ کو تب یاد کرتے ہیں، جب وہ گر چکا ہو، اور دھوپ سروں پر کھنچ آئے۔ وقت کی اہمیت تب آشکار ہوتی ہے، جب وہ بیت چکا ہو، اور پچھتانا نصیب بن جائے۔ موقع کی قدر کا تب اندازہ ہوتا ہے، جب وہ ہاتھ سے پھسل چکا ہو۔ اور ہتھیلیوں پر فقط ملال کی سیاہی رہ جائے۔

چلن بن گیا ہے کہ جو گزر گیا، اُسے یاد کیا جائے، تو بھاری بھرکم الفاظ کی جگالی ہو۔ فصاحت و بلاغت کے نام پر مصنوعی جملے لکھے جائیں: جانے والے کا خلا کبھی پر نہیں ہوگا۔۔۔ ایک عہد تمام ہوا۔۔۔ روشنی بجھ گئی وغیرہ وغیرہ، یا پھر جلدی میں کوئی بے تکا جملہ ہی ٹکا دیا جائے، جیسے: جاتے جاتے وہ سب کو رُلا گئے۔

ڈاکٹر محمود حسین خان ایک تعلیمی گھرانے کے چشم و چراغ تھے، وہ مفکر تعلیم تھے، علم و ادب سے محبت ان کو ورثے میں ملی تھی، انہوں نے فروغ تعلیم کو جزو ایمان سمجھا، ممتاز ماہر تعلیم و جامعہ ملیہ دہلی کے سابق وائس چانسلر اور سابق صدر بھارت ڈاکٹر ذاکر حسین خان مرحوم اور معروف علمی و ادبی شخصیت و سابق پرووائس چانسلر علی گڑھ یونیورسٹی ڈاکٹر یوسف حسین خان مرحوم آپ کے بیٹے تھے اور پاکستان کی معروف ادیبہ محترمہ ثاقبہ رحیم آپ کی بیٹی ہیں۔سابق وائس چانسلر جامعہ ملیہ دہلی ڈاکٹر مسعود حسین خان کے آپ چچا تھے۔ ڈاکٹر محمود حسین بیسویں صدی میں پیدا ہوئے لیکن ان کا ذہن انیسویں صدی کے مشاہر سے ہم آہنگ تھا، ان میں شہرت اور نام و نمود حاصل کرنے کے بجائے مقصد کی لگن اور زیادہ کام کرنے کا جذبہ کارفرما تھا۔ ڈاکڑ محمود حسین 15جولائی 1907 ء میں یوپی ہندوستان کی ایک بستی قائم گنج ضلع فرخ آباد میں پیدا ہوئے

ان کا خاندان آفریدی پشتون ہے جس کا تعلق پاکستان کے موجودہ خیبر پختونخواہ سے جا ملتا ہے۔ان کے جدِ امجد حسین خان نے 1751 میں کوہاٹ سے قائم گنج ہجرت کی تھی۔ ان کے والد کا نام فدا حسین خان اور والدہ ماجدہ نازنین بیگم تھیں۔

ابتدائی تعلیم اسلامیہ ہائی اسکول اوٹاوہ اور گورنمنٹ ہائی اسکول علی گڑھ میں حاصل کی، بعد میں آپ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں داخل ہوئے، یہاں سے آپ نے 1924 میں میٹرک اول درجے میں پاس کیا، انٹر آپ نے جامعہ ملیہ دہلی سے 1926 میں اور بی اے 1928 میں کیا، اس کےبعد اعلیٰ تعلیم کیلئے 1929 میں جرمنی چلے گئے، اور ہائیڈل برگ یونیورسٹی سے 1932 میں

پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی، آپ کا موضوع اصلاحات آئین ہند 1919 تھا۔ جرمنی سے واپسی کے بعد 1933 میں ڈھاکہ یونیورسٹی میں ریڈر مقرر ہوئے۔1939 میں آل انڈیا ریڈیو کے مشیر بھی رہے۔ پاکستان بننے کے بعد 1947 میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ تعلقات عامہ کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ آپ اپنے اعلیٰ کردار اور اخلاق کی بدولت وہاں کے تعلیمی حلقوں میں بہت مقبول تھے، بعدازاں قومی اور سیاسی معاملات میں بھی انہوں نے ہمیشہ نہایت صحت مندانہ طرزعمل اور مثبت کردار انجام دیا۔

چنانچہ ان کی قومی خدمات اور وسیع معلومات سے استفادہ کیلئے انہیں 1947 میں ہی مسلم لیگ کے ٹکٹ پر پاکستان دستور ساز اسمبلی کا رکن منتخب کرلیا گیا۔ پاکستانی زرمبادلہ کو متوازن رکھنے کے سلسلے میں 1948 میں جو خصوصی وفد ترتیب دیا گیا اس میں ڈاکٹر محمود حسین بھی شامل تھے۔فروری 1949 میں انہیں ملکی نظم و نسق میں خدمات انجام دینے کی دعوت دی گئی اور محکمہ دفاع و سرحدی علاقوں کے امور کے وزیر مملکت کی حیثیت سے مرکزی کابینہ میں ان کا تقرر عمل میں آیا۔

دولت مشترکہ اور امور خارجہ کے نائب وزیر بھی رہے، اکتوبر 1950 سے 1951 تک ابتدائی دور کی تمام تر مشکلات کے باوجود وہ اپنے فرائض نہایت ہی دیانتداری، خوداعتمادی اور خوش اسلوبی سے انجام دیتے رہے۔ 1951 کشمیر سے متعلق معاملات کا چارج بھی انہوں نے سنبھال لیا۔ 1952 میں آپ نے وزیرتعلیم کی حیثیت سے گرانقدر خدمات انجام دیں، ملک کا تعلیمی ڈھانچہ ازسرنو استوار کرنے کی سنجیدہ اور پرخلوص کوششیں کیں۔

وہ پاکستان کی ترقی کے دل سے خواہاں تھے۔ ڈاکٹر محمود حسین قومی اور سیاسی معاملات میں شاندار خدمات انجام دینے کے بعد 4 جولائی 1953 میں درس و تدریس کی طرف دوبارہ لوٹ آئے اور جامعہ کراچی میں بحیثیت پروفیسر اور صدر شعبہ تاریخ مقرر ہوئے۔ بعدازاں آپ ڈین آرٹس جامعہ کراچی مقرر کئے گئے۔15 دسمبر 1960 کو ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر مقرر ہوئے۔ 19 فروری 1963 کو وائس چانسلر کے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔ 20 فروری 1963 کو شعبہ تاریخ جامعہ کراچی میں بحیثیت پروفیسر و صدر شعبہ واپس آگئے۔ 1964 میں پروفیسر محمودحسین جرمنی کی ہائیڈل برگ یونیورسٹی میں اور 1965 میں نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی میں بحیثیت وزیٹنگ پروفیسر تشریف لے گئے، 7 جون 1965 کو اپنے سابق عہدے پر کراچی یونیورسٹی واپس آگئے، 14 ستمبر 1965 کو فیکلٹی آف آرٹس جامعہ کراچی کے دوبارہ ڈین مقرر کئے گئے۔14 جولائی 1967 کو ملازمت کی مدت میں دو سال کی توسیع کردی گئی۔ 1969 میں ملازمت میںایک سال کی مزید توسیع دے دی گئی۔ ڈاکٹر محمود حسین 4اگست 1971 کو جامعہ کراچی کے چوتھے وائس چانسلر مقرر کئے گئے۔

ڈاکٹر صاحب کا یونیورسٹی سے تعلق ابتدائی مراحل سے رہا۔ جب یونیورسٹی کا مسودہ قانون ترتیب دیا جارہا تھا، اس مسودہ قانون کے خالق بھی ڈاکٹر محمود حسین ہی تھے۔10اپریل 1975 رات دو بجکر چالیس منٹ پر ڈاکٹر محمود حسین کا انتقال ہوا۔ آپ کی قبر اسی جگہ بنی جس جگہ کو خود کبھی بسایا تھا، جامعہ ملیہ ملیر میں آپ کو آپ کے دیرینہ ساتھی استاد ماسٹر عبدالحئی کے برابر میں سپردخاک کردیا گیا۔

بھارت ( ہندوستان ) تیسرے صدر ڈاکٹر زاکر حسین ان کے بڑے بھائی تھے جو بھارت کے تیسرے اور پہلے مسلمان صدر تھے جو 13مئی 1967سے اپنے انتقال 3مئی 1969 ء تک اس اہم عہدی پر فائز رہے۔وہ بنیادی طور پر تعلیم کے شعبہ سے تعلق رکھتے تھے۔ بھارت میں تعلیم کے شعبہ میں ان کی خدمات قابل ستائش ہیں۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد29اکتوبر 1920 میں ا نگریز دور حکومت میں تحریک آزادی کے مجاہد مولانا محمد علی جوہر نے علی گڑھ میں رکھی تھی پانچ سال بعد 1925میںیہ ادارہ علی گڑھ سے نئی دہلی منتقل ہوگیا۔ ،

ڈاکٹر زاکر حسین اس جامعہ کے اولین وائس چانسلر تھے۔ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے 22سال وائس چانسلر بھی رہے۔ انہیں ملک کا معتبر ماہر تعلیم اور دانش ور تصور کیا جاتا تھا۔ڈاکٹر صاحب کو ان کی اعلیٰ سیاسی و علمی خدما ت کے اعتراف میں حکومت کی جانب سے بھارت کا سول اعزاز ’’بھارت رتنا‘‘ سے نوازا گیا۔ڈاکٹر محمود حسین ، شکمِ مادر ہی میں تھے کہ والد کا انتقال ہوگیا، ابھی چار سال ہی کے تھے کہ والدہ نے بھی داعی اجل کو لبیک کہا۔

ان کی پرورش ، تعلیم و تربیت ان کے چچا، چچی اور بڑے بھائیوں کی نگرانی میں ہوئی۔ڈاکٹر محمود حسین سات بھائی تھے، بہن کوئی نہ تھی،مظفر حسین خان، عابد حسین خان، ڈاکٹر ذاکر حسین خان، زاہد حسین خان، ڈاکٹر یوسف حسین خان اور ڈاکٹر محمود حسین خان۔ڈاکٹر یوسف حسین خان حیدر آباد دکن میں 1902 میں پیدا ہوئے اور 1979میں پاکستان میں وفات پائی۔

ڈاکٹر یوسف حسین خان بھی اپنے دونوں بھائیوں کی طرح ماہر تعلیم، تاریخ دان، محقق ، تنقید نگار، مصنف و مترجم تھے۔ انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے بی اے اور یونیورسٹی آف پیرس، فرانس سے ڈی لٹ کی ڈگری حاصل کی تھی۔ ڈی لٹ کرنے کے بعد ڈاکٹر یوسف واپس وطن واپس ہوئے اور بابائے اردو مولوی عبدالحق کی انگلش اردو ڈکشنری کی تشکیل میں معاونت کی ۔ اس اعتبار سے وہ ماہر لغت بھی تھے۔ انہوں نے علمی و ادبی موضوعات پر 12 کتب تصنیف کیں ، ان میں سے ایک دیوانِ غالبؔ کاانگریزی ترجمہ بھی ہے ، چھٹے بھائی جعفر حسین خان تھے جو کم عمری میں ہی انتقال کر گئے تھے، ڈاکٹر محمود حسین تمام بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔

رازمہ و مریخ تھے محمود حسین

اوہام کی تنسیخ تھے محمود حسین

کیوں علم کی تاریخ میں زندہ نہ رہیں

خود علم کی تاریخ تھے محمود حسین

ڈاکٹر محمود حسین کی یوں تو بحیثیت ماہر تعلیم ، مورخ، معلم اور محب وطن خدمات قابل ستائش ہیں مگر پاکستان میں کتب خانوں کی تحریک میں جو کردار انہوں نے ادا کیا ہے وہ تاریخ ساز اہمیت کا حامل ہے۔ یہی نہیں بلکہ کتب بینی کے شوق کو جن لوگوں نے عام کرنے میں اپنا تن من لٹا یا ہے ڈاکٹر صاحب کا نام اُ ن میں سر فہرست ہے‘‘۔

ڈاکٹر محمود حسین جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کی فضاؤں سے اپنے دل و دماغ کو معطر کیے ہوئے تھے، وہ مولانا محمد علی جوہر جو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانی بھی تھے سے متاثر تھے، ڈاکٹر زاکر حسین کا جامعہ ملیہ اسلامیہ سے تعلق بھی ڈاکٹر محمود حسین کے دل و دماغ میں سمایا ہوا تھا پھر وہ از خود اس ادارے کے فارغ التحصیل بھی تھے۔ چنانچہ انہوں نے اسی جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کی طرز پر کراچی میں اپنے ہم مزاج ساتھیوں کے ساتھ مل کر جامعہ ملیہ ملیر کی بنیاد رکھی اور اس کے اولین سربراہ ہوئے۔پروفیسر کرار حسین مرحوم نے ڈاکٹر صاحب کے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’جامعہ ملیہ علی گڑھ اوردہلی کے ماحول سے انہوں نے یہ حیات افزا اثرات قبول کیے تھے ، جامعہ ملیہ ایک تحریک تھی پھر تجربہ بنی اور آخر میں ایک عظم ادارہ کی شکل اختیار کر گئی جس کے لیے ان کے برادر بزرگ ڈاکٹر زاکر حسین نے اپنا خون جگر صرف کیا تھا‘۔

کراچی میں ایک ادارہ ’’مجلس تعلیم ملی ‘ کے نام سے قائم تھا اس ادارے نے جامعہ ملیہ ملیر کی بنیاد رکھی، ڈاکٹر محمود حسین بھی اس ادارے میں پیش پیش تھے۔ بعد میں اس کے سربراہ ہوئے۔ ملیر کراچی کا ایک سرسبز اور خوبصورت علاقہ تھا ، جہاں اس ادارے کے لیے زمین حاصل کی گئی اور اس کی عمارت تعمیر ہوئی، ابتدائی تعلیم، فنی تعلیم، پیشہ ورانہ تعلیم اور اعلیٰ تعلیم تک کے مواقع یہاں موجود تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی اولین حکومت میں ذوالفقار علی بھٹو نے تمام تعلیمی اداروں کو قومی ملکیت میں لے لیا اس عمل سے یہ ادارہ بھی حکومتی کنٹرول میں چلا گیا ۔

جامعہ ملیہ کالج، جامعہ ملیہ ٹیچر ٹریننگ کالج حکومتی سرپرستی میں تعلیمی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر محمود حسین کے ساتھیوں نے کچھ حصہ کو جامعہ ملیہ کے تحت محفوظ کرا لیا ہے جہاں پر تعلیم کا عمل جاری و ساری ہے۔ پروفیسر صادق علی خان صاحب جو ڈاکٹر محمود حسین کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے نجی جامعہ ملیہ کے اداروں سے وابستہ رہے۔ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر محمود حسین کے بعد ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی جامعہ ملیہ ملیر کے نائب صدر ہوئے اور وہ اس کے سیکریٹری تھے۔

سلیم الزماں صدیقی صاحب کے انتقال کے بعد پروفیسر ڈاکٹر عطا ء الرحمٰن اس کے نائب صدر ہوئے ، ان کے ساتھ بھی صادق علی خان صاحب نے سیکریڑی کے فرائض انجام دیے۔ اس وقت یہ ادارہ قائم ہے، اس کے سربراہ ڈاکٹر اسماعیل سعد صاحب ہیں جو جامعہ کراچی کے رجسٹرار بھی رہ چکے ہیں۔اس ادارے نے ’ڈاکٹر محمود حسین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ‘ قائم کیا ہے جو سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبہ میں خدمات انجام دے رہا ہے۔

یہ ادارے خواہ نجی حیثیت میں کام کریں یا سرکاری سرپرستی میں اپنے بانی کے نام سے جڑے رہیں گے ، ڈاکٹر محمود حسین کا نام جامعہ ملیہ ملیر اور جامعہ کراچی سے ہمیشہ وابستہ رہے گا۔ تاریخ ان تاریخ دانوں کو کبھی نہیں بھلا سکتی ۔یہ رہتی دنیا تک یاد رکھے جائیں گے۔

صاحب غیرت و ایمان تھا محمود حسین

قابل رشک مسلمان تھا محمود حسین

اٹھ گیا آہ سلگتی ہوئی یادیں دے کر

قحط آدم میں اک انسان تھا محمود حسین

جس میں ایثار و مروت کے تھے لاکھو ں پہلو

وہ شرافت کا اک عنوان تھا محمود حسین

ڈاکٹر محمود حسین کواردو اور انگریزی کے علاوہ جرمن اور فارسی زبانوں پر بھی عبور حاصل تھا۔ ڈاکٹر صاحب کے مضامین اور تقاریر کی تعدادتو ہزاروں میں ہوگی۔ تصانیف میں انگریزی سے اردو ترجمہ شدہ تصانیف زیادہ مشہور ہیں ان میں معاہدہ عمرانی یا اصول قانون سیاسی، بادشاہ، فتح مجاہدین، The Quest for an Empireکے علاوہ Of Libraries and Librariansاور دیگر شامل ہیں۔ڈاکٹرمحمود حسین جیسی علمی ،ادبی و سیاسی شخصیت پر بہت کچھ لکھا گیا ۔ مضامین کا تو شمار مشکل ہے۔ میری علم میں جو کتب آسکیں ان میں ڈاکٹر صاحب کی صاحبزادی بیگم ثاقبہ رحیم الدین نے ڈاکٹر صاحب پر ایک کتاب ’’ڈاکٹر محمود حسین: شخصیت و تاثرات مرتب کی، پروفیسر ڈاکٹر فرمان فتح پوری مرحوم نے ادبی جریدہ ’’نگار پاکستان‘‘ کا محمود حسین نمبر 1975میں شائع کیا، جامعہ ملیہ کے ڈاکٹر صاحب کے ساتھی صادق علی خان صاحب نے ڈاکٹر صاحب کی شخصیت اور خدمات کے حوالے سے ایک مجلس مذاکرہ ترتیب دیا جس کی روداد کو انہوں نے کتابی صورت میں بعنوان’’ڈاکٹر محمود حسین اور تحریک کتب خانہ پاکستان: مجلسِ مذاکرہ بیاد ڈاکٹر محمود حسین صدر انجمن کتب خانہ پاکستان منعقدہ ۳۰ اپریل ۱۹۷۸ء‘‘ شائع کی۔

جس میں ڈاکٹر محمود حسین کے قریبی ساتھی اور دوستوں کے مضامین شامل ہیں۔نگار پاکستان کے خصوصی شمارے میں اس وقت کا کونسا اہل علم ایسا ہے جس نے ڈاکٹر صاحب سے اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار نہ کیا ہو۔بہت ممکن ہے کہ ان تینوں کے علاوہ بھی کچھ کام ہو ا لیکن میرے علم میں یہی آئے۔

یہاں کراچی کے بیدل لائبریری اور اس مہتمم زبیر صاحب کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں ، انہوں نے ڈاکٹر محمود حسین اور ثاقبہ رحیم الدین کے حوالے سے مواد فوری طور پر نکال کر دیدیا اور میری مشکل آسان ہوگئی۔ ڈاکٹر صاحب پر ان کی بیٹی کی تصنیف ، نگار پاکستان کا ڈاکٹر محمود حسین نمبر اس لائبریری میں محفوظ ہیں۔ ان کی ذرائع کی بدولت ایک اور مشکل حل بھی حل ہوئی۔

ڈاکٹر صاحب کی تاریخ وفات انٹر نیٹ پر 12اپریل درج ہے ،اب ضروری ہوگیا تھا کہ اس بات کی تصدیق کی جائے کہ درست تاریخ کیا ہے۔ ثاقبہ رحیم الدین کی تصنیف اور نگارِ پاکستان کے خاص نمبر سے درست تاریخ وفات معلوم ہوسکی۔

پروفیسر ڈاکٹر محمود حسین پاکستان کی تاریخ کا ایک معتبرو محترم نام،ماہر تعلیم، مورخ و مبلغ، محقق و مصنف، معلم، تاریخ دان ، منتظم و مترجم، سیاست داں اور جامعہ کراچی کے چوتھے وائس چانسلرجن کی وفات10 اپریل 1975کو ہوئی ۔

ڈاکٹر محمود حسین کا انتقال جامعہ کراچی کے وائس چانسلر کی حیثیت سے ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب جامعہ کراچی کی سینڈیکیٹ کی میٹنگ سے فارغ ہوئے تو چند احبا ب نے ان سے کسی موضوع پر گفتگو کرنا چاہی۔ ڈاکٹر صاحب نے انہیں منع کردیا اور لفٹ کے ذریعہ اپنے دفتر میں واپس آگئے، جہاں پر پروفیسر انیتہ غلام علی ان کا انتظار کر رہی تھیں۔

صادق علی خان صاحب کہتے ہیں کہ یہ بات محترمہ انیتہ غلام علی نے بتائی کہ ڈاکٹر صاحب اپنے آفس میں تشریف لائے تو کچھ تھکے تھکے لگ رہے تھے، بیٹھتے ہی انہوں نے اپنی شیروانی کے بٹن کھولنا شروع کیے اسی دوران انہیں دل میں درد محسوس ہوا ، فوری طور پر انہیں اسپتال لے جایا گیا، دو تین دن اسپتال میں رہے اور 10اپریل 1975کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔

معروف شاعرہ پروین شاکر بھی اس وقت جامعہ کرچی میں شعبہ انٹر نیشنل ریلیشنز کی طالبہ تھی اور شاعرہ کے طور پر معروف ہوچکی تھی پروین شاکر ڈاکٹر محمود حسین سے عقیدت رکھتی تھیں اور ان کی مداح بھی تھیں۔ ڈاکٹر صاحب کی اچانک رحلت نے انہیں گہرے صدمے میں مبتلا کیا ۔ انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار ’’وہ خوشبو کے سفر میں‘‘ کے عنوان سے اس طرح کیا ؂

اترا تھا لہو جس کا رگ شاخ ثمر میں

پایا تھا غم پھول نے جس دستِ ہنر میں

روٹھا ہے گلستان سے بہاروں کی طلب میں

بچھڑا ہے ہواؤں سے وہ خوشبو کے سفر میں..

رئیسؔ امرہوی مرحوم نے ڈاکٹر صاحب کو عالم نکتہ داں کہتے ہوئے اسے ایک عظیم حادثہ قرار دیتے ہوئے یہ قطعہ کہا ؂

اک عالم نکتہ داں کی رحلت

دراصل ہے ا ک جہاں کی رحلت

سچ ہے کہ عظیم حادثہ ہے

’’محمود حسین خان‘‘ کی رحلت

ڈاکٹر محمود حسین کا جسد خاکی 11مئی 1975ء کی شام چار بجے ان کی وصیت کے مطابق ان کے مکان واقع پی ای سی ایچ ایس سے جلوس کی صورت میں جامعہ ملیہ ملیر کے احاطے میں لے جایا گیا ، اس وقت کے معروف عالم دین جناب احتشام الحق تھانوی نے نماز پڑھائی اور اس محبوب ہستی کو آہوں اور سسکیوں میں جامعہ ملیہ ملیر کی مسجد کے دروازے کے سامنے دائیں جانب جامعہ تعلیم ملیہ ملیر کے سیکریٹری ماسٹر عبد الحئی مرحوم کی قبر کے برابر مٹی کے سپرد کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا

فرمائے، آمین

تحریر ۔آفتاب احمد
کراچی

SHARE

LEAVE A REPLY