Poem of Amjad Islam Amjad translated by Tanveer Rauf

 

Love like dew—–
Slakes thirst for a petal rim
Elevates colors in the sepal brim;
Hum’s smile glitter at dawn
Boondocks feel divinely drawn,
When in love————-
Love———as dew!
Love like a cloud—-
Showers over the heartland
Garden elfin spot swings n beam
Flora flings on ever-barren land;
Love enlivens the hearts who
Are like a lifeless grave seam.
Love like a cloud———
Love like fire——-
When gleaming in the dull hearts
Hearts enliven;
The heat of passion has a strange secret
The more it is ablaze,
Life is essence enlivens;
Gather n scatter on the shore of hearts,
Love is like surf,
Love like turf
Love like fire.
Love akin to dream—-
Descending in eyes like the moon
Stars of desire shimmer akin to
The restive heart identified
On the tree of love, dream birds descend
The branches wake up;
When weary stars chat to the world
The candles light the forlorn eyes
Love burns like water lamps.
Love akin to dream———
Love like pang——-
Exist like a mark of bygone seasons
Exists like the grown isolation;
When wicks flicker on the eaves
Winds of hopelessness heaves
When no tap rap felt in the lane
When a sense of someone is in vain
When the shoulder shatters with heartache
It caresses, like a well-wisher;
Hovers in the space for long
Like the dust;
Love is like pain.

محبت اوس کی صورت
پیاسی پنکھڑی کے ہونٹ کو سیراب کرتی ہے
گلوں کی آستینوں میں انوکھے رنگ بھرتی ہے
سحر کے جھٹپٹے میں گنگناتی، مسکراتی جگمگاتی ہے
محبت کے دنوں میں دشت بھی محسوس ہوتا ہے
کسی فردوس کی صورت
محبت اوس کی صورت
محبت ابر کی صورت
دلوں کی سر زمیں پہ گھر کے آتی ہے اور برستی ہے
چمن کا ذرہ زرہ جھومتا ہے مسکراتا ہے
ازل کی بے نمو مٹی میں سبزہ سر اُٹھاتا ہے
محبت اُن کو بھی آباد اور شاداب کرتی ہے
جو دل ہیں قبر کی صورت
محبت ابر کی صورت
محبت آگ کی صورت
بجھے سینوں میں جلتی ہے تودل بیدار ہوتے ہیں
محبت کی تپش میں کچھ عجب اسرار ہوتے ہیں
کہ جتنا یہ بھڑکتی ہے عروسِ جاں مہکتی ہے
دلوں کے ساحلوں پہ جمع ہوتی اور بکھرتی ہے
محبت جھاگ کی صورت
محبت آگ کی صورت
محبت خواب کی صورت
نگاہوں میں اُترتی ہے کسی مہتاب کی صورت
ستارے آرزو کے اس طرح سے جگمگاتے ہیں
کہ پہچانی نہیں جاتی دلِ بے تاب کی صورت
محبت کے شجر پرخواب کے پنچھی اُترتے ہیں
تو شاخیں جاگ اُٹھتی ہیں
تھکے ہارے ستارے جب زمیں سے بات کرتے ہیں
تو کب کی منتظر آنکھوں میں شمعیں جاگ اُٹھتی ہیں
محبت ان میں جلتی ہے چراغِ آب کی صورت
محبت خواب کی صورت
محبت درد کی صورت
گزشتہ موسموں کا استعارہ بن کے رہتی ہے
شبانِ ہجر میںروشن ستارہ بن کے رہتی ہے
منڈیروں پر چراغوں کی لوئیں جب تھرتھر اتی ہیں
نگر میں نا امیدی کی ہوئیں سنسناتی ہیں
گلی جب کوئی آہٹ کوئی سایہ نہیں رہتا
دکھے دل کے لئے جب کوئی دھوکا نہیں رہتا
غموں کے بوجھ سے جب ٹوٹنے لگتے ہیں شانے تو
یہ اُن پہ ہاتھ رکھتی ہے
کسی ہمدرد کی صورت
گزر جاتے ہیں سارے قافلے جب دل کی بستی سے
فضا میں تیرتی ہے دیر تک یہ
گرد کی صورت
محبت درد کی صورت

SHARE

LEAVE A REPLY