ہ میرا پاکستان ہے جس کے ساتھ ساتھ میں بڑی ہوئی ۔چھوٹی ہوں اس سے مگر بڑی اس کے ساتھ ساتھ ہی ہوئی ۔یہ وہ پاکستان ہے جس میں آنے والے میرے والدین رشتے دار جب بھی ساتھ بیٹھتے اس آزادی کے لئے دی جانے والی اپنی قربانیاں بتاتے وہ دُکھ سُناتے جس سے گزر کر وہ اس آزاد ملک میں پہنچے تھے ۔اُن رشتوں کو یاد کرتےاُن عیشوں کو یاد کرتے جو وہ پیچھے چھوڑ آئے تھے ۔لیکن آخری جملہ سب کا ایک ہوتا کہ اللہ کا شکر اللہ نے آزاد ملک عطا کیا ۔ہم آزادی کے سانس لے رہے ہیں ۔میں بہت چھوٹی تھی لیکن سوچتی کہ اتنے عیش چھوڑ کر اس سختی میں رہتے ہوئے بھی یہ میرے سارے بزرگ صرف اس بات پر کتنے اطمینان سے ہیں کہ ہم پاکستان میں ہیں ۔اُس وقت میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ یہ لوگ اپنے اتنے نقصان پر جہاں حویلیاں چھوڑ آئے تھے اپنے قریبی عزیز چھوڑ آئے تھے اپنے دوست احباب چھوڑ آئے تھے سب سے زیادہ اکثر تو ماں باپ کو بھی چھوڑ آئے تھے پاکستان کی خاطر تو ایسا کیا ہے اس آزادی میں ؟؟؟
لیکن جیسے جیسے بڑی ہوتی گئی یہ پتہ چلتا گیا کہ آزادی کتنی بڑی نعمت ہے ۔پاکستان اللہ کی کتنی بڑی رحمت ہے مسلمانوں کے لئے ۔کتنی بڑی خوش قسمتی ہے ہماری کہ ہم آزادی کے سانس لیتے ہیں ۔ لیکن پھر نہ جانے کیسے ان قربانیوں کو روند دیا گیا ۔ کچھ عرصہ ملک میں ماحول اچھا رہا ۔پھر پاکستان بنانے والوں کو اللہ نے مہلت نہ دی اور وہ سارے جنہوں نے اپنی ساری متاع اس ملک پر وار دی تھی اور جب دنیا سے گئے تو موزے بھی پھٹے ہوئے تھے اور بیوی بچوں کے لئے بھی کچھ نہیں چھوڑا تھا ۔قائد کی بہن کو بھی ہم نے پیچھے کر دیا تھا کیونکہ ہم موروشیت نہیں چاہئے تھے، قائد بھی اس کے خلاف تھے ۔کسی بھی پاکستان بنانے والے کا کوئی بیٹا کوئی بیٹی ،کوئی بہن کہیں دور دور دکھائی نہ دی اور ملک کبھی اچھے کبھی برے ہاتھوں میں جاتا رہا ۔استحکام نہ مل سکا ۔فوجی بھی حکمران بنے اور سیاسی لوگ بھی لیکن ادارے نہ بنا سکے ۔کیونکہ سب اپنے اپنے مفادات کے لئے حاکم بنے پاکستان کہیں دور رہ گیا ۔
اُس زمانے میں میرے بزرگ کہا کرتے تھے کہ پاکستان میں کچھ ایسے لوگ بھی آگئے ہیں جو دل سے پاکستان کے حامی نہیں تھے ۔لیکن وہ اس ملک کو ترقی کی راہ پر نہیں دیکھنا چاہتے تھے ۔بلکہ اُ نکے دلوں میں کہیں یہ بات تھی کہ یہ کمزور ہو ٹوٹ جائے ۔پڑوسی نے فائدہ اٹھایا اور اپنی ناپاک چال چل کر اُس حصے پر وار کر دیا جہاں دلوں میں کہیں نہ کہیں مغرب مشرق بستا تھا اور یوں ایک بازو توڑ ڈالا ÷لیکن میرے عوام میرے پاکستانی قسمت سمجھ کر چُپ ہو رہے ۔کسی نے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ ہمیں وجہ بتائو کہ یہ سب کیسے ہوا ہمارا اتنا بڑا نقصان کس نے کیا؟ اور کیوں کر ہوا ۔ہم صبر کر کے بیٹھ گئے بغیر یہ جانے کہ اکثر اپنی غلطیوں پر صبر نہیں محاسبہ کرنا چاہئے ۔سامنے لانا چاہئے غلطیاں کمزوریاں ۔اور اُن دماغوں کو بے نقاب کرنا چاہئے جو اتنے بڑے نقصان کا سبب بنے ۔لیکن شاید بے حسی یہیں سے شروع ہوئی ۔ہم نے اپنے اُس وقت کے لیڈر کو مسیحا سمجھا اور اُسکی کسی بات کو بھی قابلِ گرفت نہیں جانا کیونکہ وہ ہمارے لئے روٹی کپڑا اور مکان کی بات کرتا تھا ۔اُس نے عوام کو جینے کے لئے باہر نکالا تھا ۔لیکن پھر مفاد آڑے آیا اور وہ پھانسی چڑھ گیا ۔فیصلے پر ہمیشہ دو رائے رہی ایک گروہ نے کہا معصوم تھا ذندہ ہے آج بھی ایک نے کہا کہ حکم دینے والے کو سزا ملی اورملنی چاہئے کیونکہ اصل مجرم ہی حکم دینے والا ہے کیونکہ حکم بجا لانے والا تو مہرہ تھا ،اور اسی نعرے پر کہ حاکم معصوم تھا ایک پارٹی اپنا سیاسی میدان جماتی رہی اور کامیاب بھی ہوئی ۔
پھر عوام کو سنہرے باغ دکھا دکھا کر پارٹیاں اپنے جال میں پھنساتی رہیں اور عوام بھیڑ بکریاں بنے اس گِلے میں شامل ہوتے رہے ۔بیٹی کی حکومت بن گئی ،فوجی حکومت ختم ہوئی لیکن پھر مغربی قوتوں نے ہمارا زور توڑنا شروع کیا کہ ہمیں بانٹ دیا کبھی سندھی ۔کبھی پنجابی مہاجر اور کبھی پٹھان اور بلوچ میں ،ہم پاکستانی نہیں رہے بلکہ حسبِ ضرورت وقت پڑنے پر صوبوں کی شنا خت بن گئے اور یہیں سے ہمارا اتحاد توڑا گیا ۔سیاست کا رُخ بدل گیا بجائے ملک کے لئے سیاست کرنے کے پارٹیوں اور شخصیات کی سیاست پروان چڑھنے لگی ،مارشل لاء بھی لگے اور فوجی بھی میدان میں کودے لیکن جمہوریت غائب رہی ۔مفادات پروان چڑھنے لگے ۔دو پارٹیاں ملک کی بڑی پارٹیاں بن گئیں ۔یہاں سے ایک دوسرے پر الزامات اور گندی زبان اور لعن طعن کی سیاست نے فروغ پایا پھر ان پارٹیوں نے اپنے مفادات کی خاطر پیسہ بھی سیاست میں شامل کر دیا جس کا سہرا شریفوں کے سَر گیا ۔ادارے اپنے غلام بنا لئے گئے اور بولنے کی سکت کسی میں بھی رہی ۔سب ہی ایک رنگ میں رنگ گئے جھوٹ اور کرپشمن کے رنگ میں ،کیونکہ برائی ہمیشہ بڑی طاقتور اور بلا خوف ہوتی ہے سچائی دَب جاتی کیونکہ شرافت وہ شرافت جو واقعئی شرافت ہوتی ہے آڑے آجاتی ہے ۔کوئی آواز نہیں اُٹھتی ۔کسی بات پر محاسبہ نہیں ہوتا عدلیہ بھی قابو کر لی جاتی ہے اور عدل بھی زیرِ نگیں آجاتا ہے ۔لیکن قوم کیوں چُپ ہو جاتی ہے وہ کیوں بے حس ہو جاتی ہے یہ بات آج تک سمجھ سے باہر ہے ۔
لیکن ابھی تک کچھ تہزیب اور تقدس پارلیمنٹ اور سینیٹ میں باقی تھا ۔پھر ایک اور فوجی نے ملک سنبھال لیا اُس کا دور ویسے تو اچھا رہا مگر اُس نے بھی ابن الوقت بن کر کچھ خراب اور بے فائدہ فیصلے کئے جنہوں نے ملک کو پھر ان ہی پارٹیوں کے حوالے کر دیا جن کی حکومتیں کرپشن اور بد دیانتی پر ختم ہوتی رہی تھیں ان ہی کے دور میں وہ لوگ بھی طاقتور ہوئے جو پاکستان میں صرف فائدے لینے کے لئے اور اسے کمزور کرنے کے لئے آبسے تھے ۔کسی نے مہاجر وں کو اپنے قبضے میں لیا کسی نے سندھیوں کی دُکھتی رَگ پر ہاتھ ڈالا اور کسی نے کشمیریوں اور پنجابیوں کو بے ساکھی بنایا ۔حالانکہ نہ انہوں نےکشمیریوں کےلئے کچھ کیا نہ پنجابیوں کو فائدہ دیا عوام اُسی طرح مارے مارے پھرتے رہے لیکن کبھی آواز نہ اُٹھا سکے کہ یہ سیاسی چالیں چلنے والے عوام کو دھوکے پر دھوکہ دیتے رہے اور اُن سے اُنکی حس بھی چھین لی ۔ہماری آوازیں دبتی گئیں کرپٹ ترقی کرتے گئے ،ملک کو بے حال کردیا ۔لیکن کبھی کسی نے سوال نہ کیا کہ جو کچھ کر رہے ہو کیا ہے ۔قرضوں نے کمر توڑ دی لیکن ترقی صرف سڑکوں اور موٹر ویز تک جا رُکی ۔حاکم امیر سے امیر تر ہوگئے عوام بھوکی ننگی ہو گئی ۔لیکن سیاسی طبقہ اس قدر طاقتور ہو گیا کہ وہ عوام کو بھول گیا کہ اگر کھڑی ہوگئی تو کیا ہوگا ؟؟؟کراچی جی٩سا پر رونق شہر کچرے کا ڈھیر بن گیا حکومت میں موجود لوگ ترقی کرتے گےکراچی لُٹتا رہا ۔قتل ہوتے رہے قاتل پکڑے نہ گئے اور یوں افرا تفری پھیلتی گئی ۔
فوجی دور میں ایک اور تباہی پھیری کہ اسمبلی میں خواتین کو بلا کسی مشقت کے سیٹیں دے دیں جس کی وجہ سے اقرباء پروری بھی بڑھی اور ایسی خواتین بھی اسمبلی تک پہنچیں جنہوں نے کبھی ایک بات بھی اسمبلی میں نہ کی بلکہ صرف اور صرف مراعات حاصل کیں یا ھنگامے کئے اسمبلی کا تقدس پا مال کیا اور اسمبلی میں بھی فتنہ اور فساد معمول بنا دیا خاص کر آج کل کی اسمبلی جس میں یہ خواتین صرف شور مچانے اور بینرز اُٹھانے کے لئے تیار رہتی ہیں ۔حالانکہ عورتیں تو حُسن ہے کسی بھی شعبے کا جہاں بھی ہو اپنی فراست سے ماحول کو بہتر اور اچھا کر سکتی ہے وہ تو اپنے ارد گرد کے لوگوں کو بھی ا پنے ملک کی محبت اور اس سے ہمدردی کی طرف مائل کر سکتی ہے لیکن ہماری خواتین بھی مردوں کے شانہ بہ شانہ کرپشن میں بھی آگے نکلیں اور فساد میں بھی اپنا ثانی نہیں چھوڑا ہمیں دُکھ ہوا کیونکہ جب خواتین کی بات ہوئی تھی تو ہم نے سوچا تھا کہ اب اسمبلیاں تہزیب اور سلیقے کی آمجگاہ بن جائینگی لیکن افسوس ہم شخصیت پرستی میں اتنے آگے نکل گئے کہ اپنی حٰثیت بھی بھلا دی ،پاکستان سامنے نہیں رہا اس پر حکومت کرنے والے اہم ہو گئے ۔۔۔۔پارٹی لیڈر سب کچھ ہو گیا چاہے سیاہ کرے یا سفید وہ احتساب سے بالا ٹہرا یا گیا ۔
پھر اللہ کی طرف سے ایک اور موقعہ ملا کہ سنبھل سکتے ہو سنبھل جائو ۔حکمران پارٹی کے حاکم کو پاناما نے گھیر لیا پھر جھوٹ کی ایسی وباء چلی کہ پارلیمنٹ ٹی وی ۔اخبار اور ہر خبر دینے والا شعبہ ایک گرداب میں پھنس گیا اتنی غلط بیانی ہوئی کہ استغفار ۔لیکن جب پکڑ مضبوط ہو تو سب کچھ دھرا رہ جاتا ہے اور وہ وہ جائیدادیں اور پیسہ سامنے آیا کہ ہمارے ہوش اُڑ گئے ۔لیکن کچھ لوگ ابھی بھی نہیں سنبھلے وہ بجائے پاکستان کے ان کرپٹ لوگوں کے ساتھ ہوگئے ،وہ پھول نچھاور کرنے لگے اپنے مجرموں پر، اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ۔ویسے تو پھول جنازوں ہی پر زیادہ تر ڈالے جاتے ہیں لیکن یہ زندہ جنازے تھے جو پھولوں کی بوچھار میں جیل جا رہے تھے جن کے سر پر کرپشن کرنے کے انعام کے طور پر تاج سجائے جا رہے تھے ۔
جس طرح لوگوں پر سے پرتیں اُتر رہی تھیں وہ ہمیں خوشی بھی دے رہی تھیں اور دُکھ بھی ۔کیونکہ ہم انہیں ایسا نہیں سمجھتے تھے لیکن ہماری خاموشی اور در گزر نے ہی انہیں طاقتور کیا تھا ہم بھی اتنے ہی خطا وار تھے جتنے باقی لوگ ۔۔لیکن پھر سوئی ہوئی قوم جاگی ایک تیسری پارٹی نے جو مسلسل جد وجہد کر رہی تھی ملک کو ٹھیک کرنے کی عوام کے ساتھ مل کر ان دو پارٹیوں کو پیچھے دھکیل دیا ۔
کرپشن کو ختم کرنے کا نعرہ لگانے والے میدان میں آئے تو سانسیں رُک گئیں لیکن چیخٰیں آسمان زمین تک جا پہنچیں کیونکہ سانس لینے کی جگہ نہیں مل رہی ۔یہ وہ ماحول ہے جس کے لئے آنکھیں ترستیاں تھیں ۔ہمیں فیض یاد آئے “جب تاج اُچھالے جائینگے “ہمیں سارے باغی شاعر یاد آئے کہ تمہارے شعروں کی تشریح ہونے جارہی ہےاب شاید ۔ہمیں اقبال یاد آئے ہمیں قائد یاد آئے کہ آپ کا پاکستان شاید بن جائے وہ پاکستان جس کا خواب آپ نے دیکھا تھا جو آپ چاہتے تھے ۔لیکن نہیں اتنی آسانی سے نہیں اب ہمارا امتحان ہے کہ اس لیڈر کو موقہ ضرور دو مگر اسکی کمزوریوں پر آواز اُٹھاو اسے ۔آئینہ دکھاتے رہو تاکہ سب ہی سیدھے رہیں ۔اسے بھی اسکی پارٹی کے چور بتاتے رہو،ورنہ جیسے پہلے تمہارے اوپر حکومت کر گئے یہ بھی کچھ نہ کر سکے گا ۔کرپشن پر کڑی سزا دو عدلیہ کو طاقتور کرو اور اپنے حق کے لئے کھڑے ہو جاؤ، کہ اب یہ وقت یا تو سب کچھ ٹھیک کر دے گا یا بہا لئے جائیگا سب کچھ ۔جاگنا ضروری ہے لیکن سچ کے ساتھ حق کے ساتھ اپنے مفادات کے ساتھ ۔بہت آنکھیں بند رکھیں بہت چھوٹ دی ۔سب کچھ داؤ پر لگا دیا ۔لیکن اب اُٹھو اور اپنی تقدیر خود بناؤ کہ مہلت بار بار نہیں ملتی ÷
ہمیں تو اب شرم آتی ہے ان لوگوں کا ساتھ دینے والوں کؤ دیکھ کر کہ کیا انہوں نے پاکستان کا نمک نہیں کھایا ،کیا انہوں نے اس ملک سے فائدہ ہی فائدہ نہیں اُٹھایا ۔کیا نہوں نے پاکستان کو شرمندہ نہیں کیا اقامے رکھ کر دوسرے ممالک میں نوکریاں کر کے کتنے دُکھ اور شرمندگی کا مقام ہے کہ ہمارے ملک کے وزیر دوسرے ملک میں نوکری بھی کر رہے تھے اور ہماری وزارتوں کے مزے بھی لوٹ رہے تھے ۔ہے کوئی مثال دنیا کے کسی بھی ملک میں ۔چاہے کتنا ہی چھوٹا ملک ہو یا بڑا ۔کیا کوئی یوں رسوا کرتا ہے خود کو اور اپنی قوم کو ؟لیکن آج بھی وہ دھڑلے سے بات کرتے ہیں اور ہم انہیں سُنتے بھی ہیں نشر بھی کرتے ہیں انہیں دکھاتے بھی ہیں ۔کیوں ۔۔کیا ہمیں کوئی حس نبہیں رہی ۔
پھر ہم نے خود کو سنبھالا سوچا کہ قوموں کی زندگی میں نشیب و فراز آتے ہیں لیکن اپنی غلطیوں پر قائم رہنا سب سے بڑی خطا ہے ۔ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا ہم پھر اسی بے حسی کا شکار بنے رہینگے یا نکلینگے ان شخصیتوں کے حصآر سے جنہوں نے اب اپنی اگلی پیڑھی کو ہم پر مسلط کرنے کا عہد کیا ہے کیا ہم اسی طرح غلام ابنَ غلام بنے رہینگے یا نکال پھینکے گے اس موروثیت کو اپنے اندر سے جس نے ہماری نسلوں کی بربادی لگا دی ۔کیا ہم اب نئے لیڈر، نئی سوچ ،نئے لوگ آگے لائینگے یا پھر اسی دقیانوسی ڈگر پر چلتے رہینگے ۔یہ پارٹی بھی بہت کمزوری دکھا رہی ہے اُن ہی چہروں کو سامنے لا کر جنہیں خود بھی قابلِ گرفت سمجھتی تھی ۔اگر یہ ہی ہوتا رہا تو تبدلی تو دور کی بات ہم شاید یہ بھی بھول جائینگے کہ قوم کیا ہوتی ہے اور کیسے بنتی ہے ۔کیا ملک میں کوئی بھی اہم عہدوں پر ان پرانے چہروں کے سوا سامنے نہیں لایا جاسکتا ۔کیا مجبوری ہے ؟
سخت سے سخت فیصلے لازمی ہیں ۔آنکھیں بند کر کے انصاف لازمی ہے ۔جب تک ظلم کو تیز چہری تلے زبح نہیں کروگے کچھ بھی نہیں کر سکوگے ،نکل آؤ اب نرمی اور ڈھیل سے ورنہ یہ ناگ ڈ س لیں گے اور ان کا زہر ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑے گا ،اگر ان کرپٹ لوگوں کے سحر سے نکلنا ہے تو سخت سے سخت سزائیں دو تاکہ آنے والے سوچ بھی نہ سکیں ملک کے لئے کسی برائی کا ۔اسے کمزور کرنے کا اسے شرمندہ کرنے کا ۔
اللہ میرے ملک کی حفاظت فرمائے اور اسے دشمنوں سے بچائے آمین
یہ میرا پاکستان ہے .عالم آرا
618
0












