عوام کے محافظ ہی راہزن۔ابو آمنہ قيصر مظفر

0
146

دنیا کے کئی ممالک میں اکثر بڑے بڑے عوام کے جائز مطالبات پہ مبنی احتجاجی جلوس و دھرنے دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن وہاں کی حکومتیں پولیس کے ذریعے خون خرابہ ہوئے بغیر ان پہ قابو پا لیتی ہیں مگر کتنی افسوس کی بات کہ پینتیس برسوں سے جمہوریت کے علم برداروں “مجھے کیوں نکالا فیم” ٹوپی ڈرامہ حکومتوں نے محض پولیس کا محکمہ ہی نہیں اس ادارے کے متوازی،،،مہران فورس۔ایلییٹ فورس، ڈولفن فورس،کرائسسز مینجمنٹ وغیرہ وغیرہ بناکر اس میں اپنے انتخابی حلقوں میں حمایتی و درباری زر خرید غلاموں کو انفرادی طور پہ خوش کرنے اپنے ووٹوں کو بڑھاوا دینے کیلۓ ناکارہ غیر پیشہ ور غیر تربیتی یافتہ حد یہ کہ ان پڑھ اور گنواروں کو تھوک کے بھاؤ بھرتی کیا ،ان اداروں پہ قوم کے اربوں روپے جھونکنے کے باوجود نہ تو یہ ملکی معیشت پہ کمر توڑ بوجھ ادارے عوام کیلۓ مفید ثابت ہوئے بلکہ پولیس کی رہی سہی ساکھ و کاردگی خواہ خانہ پری کی حد تک ہی تھی کو بھی نگل گئے

عوام کے محافظ ہی عوام کیلئے لٹیرے بن گئے ،عوام جان مال اور عزت کے تحفظ کی فکر میں دن رات گھل رہی ہے ،،تھانے حوالات جیلیں بے قصوروں مظلوموں معصوموں اور غریبوں کیلۓ عقوبت خانے اور ملزموں مجرموں کیلۓ مہمان خانے بنتے چلے گئے، تھانے بکتے ہیں،عہدوں کی بولیاں لگتی ہیں ،شریف شہری تھانے سے دور بھاگتا ہے کیونکہ اس کا جائز آمد پہ بھی گالی سے استقبال ہوتا ہے تین چار گریڈ کا حرام خور سپاہی کسی کو بھی بے جرم پھانسی کے پھندے پہ چڑھا سکتا ہے لیکن یہی چار ٹکے کا بد دیانت اور راشی قاتل کو باآسانی کال کوٹھری سے بری کروا سکتا ہے، نام نہاد ذخیرہ اندوز سمگلر اور کالے کرتوتوں میں ملوث ممبران اسمبلی کے پروٹوکول کیلۓ پولیس کے درجنوں جبکہ مغل اعظم خاندان کی حفاظت اور محل کی سیکورٹی پہ مامور سینکڑوں سپاہی موجود ہیں اس سے بڑھ کر اور المیہ کیا ہوگا کہ ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث زعماء قائدین سیاسی و مذہبی رہنماؤں کے ساتھ پولیس کے درجنوں دستے تحفظ کیلۓ دن رات نگرانی کرتے ہیں لیکن کروڑوں غریبوں کے جان و مال اور عزت کی حفاظت اللہ سپرد ھے۔

یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ موجودہ شاہی دور 2013ء کے آغاز میں ہی ایک مخصوص ادارے کو اربوں روپے کے غیر معمولی فنڈ جاری کئے گئے جس کی ماضی میں مثال ملنا مشکل ہے، اس محکمے کی اور متعلقہ اہلکاروں کارکردگی بہتر بنانے، مجرموں کی سرکوبی اور وطن دشمن عناصر کی نشاندہی و قانونی چارہ جوئی کی بجائے تمام صلاحیتیں سیاسی حریفوں سے انتقام لینے پہ صرف کی گئیں، دیگر اہم اداروں کو بھی اپوزیشن پارٹیوں کی جاسوسی اور غیر اخلاقی ہتھکنڈوں کیلے بھرپور طاقت سے استعمال کیا گیا جس کے باعث انکی خود کی صحت پہ تو حسب روایت کوئی فرق نہیں پڑا لیکن پوری قوم کو آج بھی سنگین نتائج کا سامنا ہے بے شمار سرکاری اداروں کی زبوں حالی تباہی اور بربادی کیساتھ ساتھ ہماری پولیس ذیلی شعبوں سمیت گذشتہ چالیس برسوں سے مک مکا چیمپئین جمہوری پارٹیوں کا نہ صرف طفیلی ادارہ رہی ہے بلکہ ماڈل ٹاؤن اور موجودہ فیض آباد دھرنوں میں حکمت عملی و کاردگی بلا شبہ 1919ء میں سامراج کے دور حکمرانی میں وقوع پذیر ہونے والے جرنل ڈائیر جیسے ہولناک تاریخی واقعے کی یاد تازہ کر رہی ہے،ہمارے ارباب اقتدار و صاحب اختیار خائن ہیں،نیتوں میں کھوٹ ہے لہذا اعلٰی عدالتیں و متعلقہ ما تحت ادارے جب تک ان گندی مچھلیوں کو قانون کے کٹہرے میں لاکر سزا و جزاء کے عمل سے نہیں گزاریں گے ایسی خون دشنام داستانیں جنم لیتی رہیں گی،پولیس و دیگر لاء انفورسمنٹ ایجینسیوں کی غیر سیاسی بنیادوں پہ تشکیل و تطہیر وقت کی اہم ضرورت ہے، پڑھے لکھے باشعور تربیت یافتہ نوجوانوں کو میرٹ پہ مطلوبہ صلاحیتوں کی بنیاد پہ بھرتی کرنے کی حکمت عملی مرتب کی جاۓ اور ان تمام اداروں کو مکمل طور پہ ریاست کے ماتحت آئینی ذمہ داریوں کی حدود میں مکمل آزادی و خودمختاری سے فرائض ادا کرنے دیئے جائیں۔

اللہ ملک کو درباری و خائن سرکاری عہدے داروں سے فی ا لفور نجات دلا، ملکی و قومی لٹیروں فرائض منصبی میں خیانت کرنے اور غفلت برتنے والوں کا قلع قمع فرما،،آمین یارب العالمین
دعا گو۔۔۔۔

ابو آمنہ قيصر مظفر

SHARE

LEAVE A REPLY